ستھرا پنجاب پروگرام انتظامی اور مالی بحران کا شکار،ہزاروں ملازمین کو تنخواہیں نہ مل سکیں،کمپنی ماڈل سے اتھارٹی ماڈل پر شفٹنگ،ڈی جی معاملات چلانے میں ناکام

لاہور(بلدیات ٹائمز)ستھرا پنجاب پروگرام انتظامی اور مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔پنجاب کے بیشتر شہروں میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے عملہ صفائی کو مقررہ وقت پر تنخواہیں نہیں مل سکیں۔متعدد شہروں میں ستھرا پنجاب ایجنسیوں کی طرف سے 50 فیصد کٹوتیوں کی اطلاعات ہیں۔ستھرا پنجاب پروگرام جن ٹھیکیداروں کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے۔تکنیکی وجوہات اور چیف ایگزیکٹو افسران کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے کئی ماہ سے پارشل پیمنٹ نہیں کی جا رہیں جس کی وجہ سے وہ 15 مارچ سے قبل تنخواہیں ادا نہیں کر سکے۔جبکہ ستھرا پنجاب اتھارٹی کئی ماہ گزرنے کے باوجود فعال نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ ایم ڈیز کی تقرریوں میں تاخیر بھی ہے۔کنٹریکٹرز نے ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی روک دی ہے۔ستھرا پنجاب ایجنسیوں کی نااہلی کی وجہ سے ہزاروں صفائی کے ہیروز کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوئی جہاں دی گئی آدھی تنخواہ پر ٹال دیا گیا ہے۔جن چیف ایگزیکٹو افسران کی ایجنسیوں میں تقرریاں کی گئی ہیں وہ نئے سسٹم کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوئے نہ اس کی اہلیت رکھتے ہیں۔بابر صاحب دین جو لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سربراہ تھے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے کار خاص ہونے کی وجہ سے ستھرا پنجاب اتھارٹی کی سربراہی سونپ دی جو اس نئی اتھارٹی کو فنکشنل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی ہمت نہیں ہے کہ وہ بابر صاحب دین کے معاملات میں مداخلت کر سکیں۔ذرائع کے مطابق لیہ میں جنوری سے مارچ تک کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔میانوالی میں 50 سے 55 فیصد تک کٹوتی کی گئی ہے اسی طرح کی صورتحال دیگر شہروں کی ہے۔جبکہ ایک کھرب 20 ارب سے شروع ہونے والے ستھرا پنجاب پروگرام کا بجٹ ڈیڑھ کھرب سے بھی بڑھ چکا ہے۔آئی ٹی سسٹم میں خرابی اور نااہل افسران اور ملازمین کی بھرتیوں اور تعناتیوں سے معاملات زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل ستھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین کی جانب سے محکمہ بلدیات اعلٰی حکام کو رمضان المبارک کے شروع میں بتایا گیا تھا کہ ایک ہفتے میں ایم ڈیز کی تقرریاں کر دی جائیں گی مگر ایسا ممکن نہیں ہوا۔وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کے مطابق کمپنی ماڈل سے اتھارٹی ماڈل پر شفٹنگ کی وجہ سے کچھ پیچیدگیاں درپیش ہیں۔ ٹرانزیشن کا عمل مکمل ہوتے ہی یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔

ستھرا پنجاب اتھارٹی کے پروگرام کے لئے کام کرنے والے  متاثرہ ملازمین نے وزیر اعلی پنجاب،وزیر بلدیات ذیشان رفیق، سیکرٹری بلدیات اور ڈائریکٹر جنرل ستھرا پنجاب اتھارٹی سے صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

جواب دیں

Back to top button