*اپنے شہر کے اہل علم کی اپنائیت* *مہر عبدالروف کے قلم سے*

ماس کمیونیکیشن، پنجاب یونیورسٹی کے کلاس فیلوز کا بیس سال بعد پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں اکٹھے ہونا ایک خوبصورت شام بن گیا۔گزشتہ شام ایگزیکٹو کلب میں وہی چہرے تھے جنہوں نے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم کی سرپرستی میں ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا تھا۔ وہی استاد جو ہمارے سربراہ بھی تھے اور رہنما بھی۔ وقت گزر گیا۔ مصروفیات بڑھ گئیں۔ کافی دوست شادی کے بندھن میں بندھ گئے، کچھ نے بچوں کے فرائض بھی ادا کر دیے۔کچھ کلاس فیلوز آج مختلف میڈیا چینلز اور اخبارات میں نمایاں مقام پر فائز ہیں، کچھ بزنس مین بن گئے، کچھ مختلف اداروں میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ سب نے اپنی کہانی سنائی، اپنی کامیابی اور جدوجہد کا ذکر کیا۔ڈنر کا آغاز مریدکے سے آئے طیب بھائی کے باغ کی تازہ لیچی سے ہوا۔ کچھ دوست مصروفیت کے باعث جسمانی طور پر نہ آ سکے، لیکن لائیو ویڈیو کے ذریعے محفل میں شریک رہے۔ قہقہے، ہنسی، پرانی یادیں — ہر چہرہ مسکرا رہا تھا۔علی مسعود، طیب بھائی اور علی رضا کا شکریہ جنہوں نے ہمیشہ کی طرح اس خوبصورت محفل کو سجانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ہم پاکستانی کچھ منفرد سے لوگ ہیں۔ بہت زیادہ وسائل اور اہل ثروت تو نہیں ہوتے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اپنوں کی خوشیوں کو اپنائیت دے کر خوبصورت یادیں بنا دیتے ہیں۔اس پروقار تقریب کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ہم نے ایک دوسرے سے تعاون کا عہد کیا۔ یہ طے پایا کہ اگر ہم کسی کے کام آ سکتے ہیں تو ضرور اپنا کردار ادا کریں گے۔بیس سال بعد بھی دوستی وہی، خلوص وہی، محبت وہی۔ بس فرق اتنا ہے کہ اب باتیں زیادہ پکی ہو گئی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button