براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے 3 غیر ملکی کوہ پیما جاں بحق،کئی لاپتا،​پاک فوج اور مقامی کوہ پیماؤں کا ریسکیو آپریشن جاری

دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (8,047 میٹر) پر کیمپ 2 سے کیمپ 3 کی جانب پیش قدمی کے دوران برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں 10 رکنی بین الاقوامی کوہ پیما ٹیم حادثے کا شکار ہو گئی، جس سے عمان، امریکہ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے 3 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ دیگر اراکین کی تلاش جاری ہے۔ پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز اور سرباز خان کی سربراہی میں ریسکیو ٹیم نے آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم شدید خراب موسم کی باعث سرچ مشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔​تفصیلات کے مطابق قراقرم ایکسپیڈیشنز، امیجن کلائمب پاکستان اور بلیو اسکائی ٹریک اینڈ ٹورز کے تعاون سے 10 رکنی بین الاقوامی مہم جو ٹیم 29 جون کو ضلع شگر میں داخل ہوئی تھی۔ 30 جولائی کو صبح 9:00 بجے ٹور آپریٹر سے آخری رابطے کے بعد ٹیم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اسی روز رات 8:00 بجے کے قریب 6,600 میٹر کی بلندی پر برفانی تودہ گرنے کا حادثہ پیش آیا۔

​31 جولائی کی صبح ٹور آپریٹرز کی باضابطہ درخواست پر پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز نے معروف کوہ پیما سرباز خان کی قیادت میں 3 رکنی سویلین ریسکیو ٹیم کو براڈ پیک بیس کیمپ منتقل کیا۔ ریسکیو ٹیم نے بیس کیمپ سے کیمپ 2 کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے 3 کوہ پیماؤں عمان کی نضیرہ احمد عبداللہ الحارثی، امریکہ کی سارہ میلوری اور نیپال کے پور بہادر گرونگ کی لاشیں برآمد کر لیں۔​برآمد کی گئی میتوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ (CMH) منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی قانونی و شناختی کارروائی جاری ہے۔ ڈرون فوٹیج کے ذریعے مزید چند کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی دیکھے گئے ہیں، تاہم شدید برف باری اور خراب موسم کی وجہ سے آپریشن عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔​دفترِ کمشنر بلتستان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کل دوبارہ شروع کیا جائے گا جس میں دیگر ٹیموں کے شیرپاز بھی حصہ لیں گے۔ حکومتِ گلگت بلتستان نے حادثے پر گہرے دکھ اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے میتوں کی ان کے آبائی ممالک منتقلی میں مکمل تعاون کا اعادہ کیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button