یوان اقبال کمپلیکس کے زیر اہتمام پاکستان اور قازقستان کے ثقافتی، تعلیمی اور سیاحتی تعلقات پرتقریب

لاہور(بلدیات ٹائمز ڈاٹ کام) طلبا کسی بھی ملک کے حقیقی سفیر ہوتے ہیں جو اپنے علم، کردار اور صلاحیتوں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنے وطن کا مثبت تشخص اجاگر کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر عزت، وقار اور ترقی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم معاشی طور پر مستحکم ہوں اور تعلیم، تحقیق اور جدید علوم کے فروغ پر خصوصی توجہ دیں۔ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے جبکہ قازقستان وسط ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک اہم تجارتی اور ثقافتی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوان اقبال کمپلیکس کے زیر اہتمام پاکستان اور قازقستان کے ثقافتی، تعلیمی اور سیاحتی تعلقات کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایڈمنسٹریٹر ایوان اقبال کمپلیکس انجم وحید کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اس تقریب کے مہمان خصوصی قازقستان ہاؤس لاہور کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بابر شفیع تھے جبکہ معروف سینئر صحافی سلمان غنی نے بھی بطور مقرر خطاب کیا۔ تقریب میں طلبا، اساتذہ، دانشوروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مہمان خصوصی بابر شفیع نے اپنے خطاب میں کہا پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک مذہبی، ثقافتی اور تاریخی حوالوں سے ایک دوسرے کے قریب ہیں اور مختلف شعبوں خصوصاً تعلیم، تجارت، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان کی جامعات میں پاکستانی طلبا کی بڑھتی ہوئی تعداد دونوں ممالک کے تعلیمی روابط کا مظہر ہے اور یہ طلبا مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو عالمی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور پیشہ وارانہ مہارتوں سے آراستہ ہونا ہوگا۔ پاکستان اور قازقستان کے درمیان عوامی سطح پر روابط میں اضافے سے نہ صرف باہمی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا بلکہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔ سینئر صحافی سلمان غنی نے اپنے خطاب میں کہا موجودہ عالمی حالات میں علاقائی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور پاکستان کو وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا نوجوان نسل پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور انہیں اپنی تعلیم، تحقیق اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبا درحقیقت ملک کے غیر سرکاری سفیر ہوتے ہیں جو اپنے رویوں اور کارکردگی کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ترقی کے لیے معاشی استحکام، معیاری تعلیم اور قومی یکجہتی ناگزیر ہیں،ہمیں عسکری قوت کے ساتھ ساتھ معاشی قوت بھی بننا ہو گا تاکہ یہاں کے عوام حقیقی معنوں میں آزادی کے ثمرات سے استفادہ کر سکیں۔اس موقع پر طلبہ و طالبات کو قازقستان کی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔تقریب میں تلاوت قرآن پاک کی سعادت لائبہ انیب نے حاصل کی جبکہ نعت اور کلام اقبال نورین خادم نے پیش کیا۔

جواب دیں

Back to top button