خیبرپختونخوا، اسلام آباد حلقہ بندی کا باقاعدہ آغاز یکم اگست 2026 اور 13اکتوبر 2026 کو مکمل ہوگا،الیکشن کمیشن

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ،پنجاب اور خیبر پختونخوامیں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے حلقہ بندی کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔حلقہ بندی کمیٹی کی تربیت مکمل ہوچکی ہے ۔ اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے نقشہ جات مہیا کر دیئے ہیں ۔ حلقہ بندی کا باقاعدہ آغاز یکم اگست 2026سے شروع ہو رہا ہے اور 13اکتوبر 2026 کو مکمل ہوگا۔ مزید الیکشن کمیشن نے وفاقی دارالحکومت کو لوکل گورنمنٹ کنڈکٹ (Local Government Conduct of Election Rules)آف الیکشن رولز کے ڈرافٹ پر اپنی سفارشات (Input) وزارت داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو بھجوا دی ہیں ۔اور کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ رولز کو فوری شائع کیا جائے تاکہ الیکشن کمیشن الیکشن کے انعقاد کے لئے ضروری الیکشن میٹریل کی پرنٹنگ فوری مکمل کروائے اور الیکشن کے دیگر انتظامات بھی مکمل کرسکے ۔مزید پنجاب میں ابتدائی حلقہ بندی کے خلاف اعتراضات کی سماعت حلقہ بندی اتھارٹیز مکمل کر چکی ہیں۔اور اپنے فیصلہ جات سے متعلق 7اگست 2026 تک حلقہ بندی کمیٹی کو مطلع کریں گی اورحتمی حلقہ بندی مورخہ 17اگست 2026 کو شائع کی جائے گی۔ اس کے فوری بعد بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لئے حکومت پنجاب سے مشاورت کرے گا۔ الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔اسی طرح الیکشن کمیشن صوبہ خیبر پختونخوا کے 23 اضلاع میں حلقہ بندی مکمل کر چکا ہے اور مزید 7اضلاع میں حلقہ بندی کا کام جاری ہے۔مذکورہ بالا 23 اضلاع میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے لئے الیکشنزایکٹ کی دفعہ 219(3) کے تحت الیکشن کمیشن نے مورخہ 14جولائی 2026 کو چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخوا سے مشاورتی میٹنگ کی جس پر انکی درخواست پر انہیں 15 دن کا ٹائم دیا گیا ۔ اس دوران صوبائی گورنمنٹ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ خیبر پختونخواہ کی دفعہ 5(e)میں مورخہ 21 جولائی 2026 کو ترمیم کی جس میں ویلج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسل(Village and Neighborhood Council) کی حلقہ بندی کے لئے آبادی کی حد5000-15000 سے بڑھا کر 40000-30000کر دی ہے ۔جبکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے9th Schedule شیڈول میں ان ویلج کونسلوں اور نیبر ہوڈ کونسلوں کی سیٹوں کی تعداد وہی ہے ۔ اس غلطی (anomaly)سے متعلق الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو مطلع کیا اور بتایا کہ قانون میں آبادی کی حد اور 9th Schedule میں سیٹوں کی تعداد میں ابہام کی وجہ سے مذکورہ بالا اضلاع میں حلقہ بندی نہیں کی جا سکتی لہذاصوبائی حکومت اس پر الیکشن کمیشن کی معاونت کرئے ۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے مورخہ 28جولائی 2026کو الیکشن کمیشن کوبتایا کہ صوبائی حکومت شیڈول 9th Schedule میں تبدیلی کرنا چاہتی ہے ۔ جس کے لئے انہیں 3 ہفتوں کا ٹائم دیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے صوبائی گورنمنٹ کی استدعا پر انہیں تین ہفتوں کا ٹائم دیا ہے ۔ لیکن اس صوبہ میں بھی الیکشن کمیشن الیکشن کے انعقاد کے لئے مکمل تیار ہے جبکہ عین وقت پر حکومت خیبر پختونخواہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر دی ہے ۔یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان آئین کے آرٹیکل 219(D),140-A اور الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 219 کے تحت لوکل گورنمنٹس کی معیاد ختم ہونے کے 120 دن کے اندرانتخابات کروانے کا پابند ہے ۔ الیکشن کمیشن نےاپنی اس آئینی اور قانونی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد وصوبوں میں انتخابات کے انعقاد کے لئے متعدد بار حلقہ بندیاں مکمل کیں ۔ الیکشنز کے شیڈول جاری کئے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں عین حلقہ بندی کی تکمیل یا الیکشن شیڈول کے دوران لوکل گورنمنٹ قوانین میں ترامیم کر لیتی ہیں۔الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے وفاقی حکومت کو آئین کے آرٹیکل 140(A) اور الیکشنز ایکٹ 2017کی دفعہ 219 میں ترامیم کی تجویز بھیجی کہ وفاقی یا صوبائی حکومت بلدیاتی اداروں کی معیاد ختم ہونے کے بعد بلدیاتی قوانین اور اضلاع یا لوکل ایریاء کی حدود میں ردوبدل نہ کرے مزید اگر وفاقی یا صوبائی حکومتیں مکمل لوکل گورنمنٹ سسٹم نیا لانا چاہتی ہیں یا بڑے پیمانے پر تبدیلی کرنا چاہتی ہیں تو لوکل گورنمنٹس کی معیاد ختم ہونے سے کم ازکم ایک سال پہلے قانون سازی کر لیں تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بروقت ممکن ہو سکےلیکن الیکشن کمیشن کی اس تجویز پر غور نہیں کیا گیا۔ فیڈرل گورنمنٹ کے behalf پر وزارت پارلیمانی امور نے الیکشن کمیشن کو باور کرایا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے ۔ اور اسکو اس سے روکا نہیں جا سکتا حالانکہ الیکشن کمیشن نے صرف ایک تجویز پیش کی کہ لوکل گورنمنٹ انتخابات کے انعقاد کے لئے مناسب ترامیم کر لی جائیں تاکہ کمیشن اپنے آئینی فرض کو نبھا سکے۔

جواب دیں

Back to top button