*الیکشن کمیشن نےخیبرپختونخوا حلقہ بندیوں کے قانون میں ترمیم مسترد کر دی۔ بلدیاتی انتخابات موخر*

الیکشن کمیشن نےخیبرپختونخوا بلدیاتی قانون میں ترمیم پر اعتراض عائد کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور اسے آئین اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے خلاف قراردیدیا۔۔۔الیکشن کمیشن کاخیبرپختونخوا بلدیاتی قانون پر اجلاس منعقد ہوا۔خیبرپختونخوا بلدیاتی قانون میں ترمیم آئین اور الیکشن ایکٹ سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو بلدیاتی قانون میں ترمیم پر تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔بلدیاتی حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم الیکشن کمیشن کے آئینی اختیارات سے متصادم ہے، خط

آئین کا آرٹیکل 222 الیکشن کمیشن کے اختیارات محدود کرنے کی اجازت نہیں دیتا، الیکشن کمیشن نے مزید قرار دیا ہے کہ حکومت سے مشاورت کی شرط بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔30 ہزار سے 40 ہزار آبادی کی نئی حد پر حلقہ بندیاں عملی طور پر ممکن نہیں۔نئی آبادی کی حد موجودہ ویلج اور نیبرہڈ کونسلز کے شیڈول سے مطابقت نہیں رکھتی۔قانون میں حالیہ ترمیم بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔بلدیاتی انتخابات کے بروقت اور ہموار انعقاد کے لیے ترمیم پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔الیکشن کمیشن نے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت سے تعاون اور رہنمائی طلب کر لی۔

جواب دیں

Back to top button