پنجاب میں فضائی آلودگی کی پیش گوئی اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا نیا نظام متعارف

پنجاب حکومت نے فضائی آلودگی کی مؤثر نگرانی، آلودگی کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی اور اسموگ و آلودگی کی صورتحال سے قبل از وقت نمٹنے کیلئے ریئل ٹائم ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اور فورکاسٹنگ پلیٹ فارم میں جدید فورکاسٹنگ اور سیٹلائٹ بیسڈ مانیٹرنگ فیچرز شامل کردیئے۔انٹرنیشنل ڈے آف کلین ایئر فار بلیو اسکائیز کے موقع پر محکمہ تحفظ ماحول و موسمیاتی تبدیلی پنجاب نے انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (ICIMOD) کے تعاون سے پنجاب کے ریئل ٹائم ایئر کوالٹی ڈیش بورڈ میں نئے فورکاسٹنگ اور سیٹلائٹ بیسڈ فیچرز کا افتتاح کیا۔یہ اقدام پنجاب میں ماحولیاتی گورننس کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کی قیادت سیکرٹری EP&CCD سلوت سعید نے کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل CPTC آمنہ منیر کی قیادت اور ادارہ جاتی معاونت بھی منصوبے کے کامیاب نفاذ میں اہم رہی۔پنجاب کا AQI ڈیش بورڈ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پلیٹ فارم ہے جسے ICIMOD کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ڈیش بورڈ صوبے بھر میں نصب 59 جدید ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز (AQMS) سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے ذریعے شہریوں کو فضائی معیار کی صورتحال سے ریئل ٹائم بنیادوں پر آگاہ کرتا ہے، جبکہ معلومات کی فراہمی خودکار نظام کے تحت ہوتی ہے۔نئے مربوط نظام کے تحت گراؤنڈ مانیٹرنگ اسٹیشنز، سیٹلائٹس، موسمیاتی معلومات اور فضائی آلودگی کی پیش گوئی کرنے والے نظام سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا۔ اس جدید نظام سے آلودگی کے ذرائع اور ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں کے دوران فضائی معیار میں ممکنہ تبدیلی کی پیش گوئی بھی ممکن ہوگی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی EPA پنجاب عبداللہ نیر شیخ نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران پنجاب میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور سائنسی بنیادوں پر فیصلوں کے ذریعے ماحولیاتی گورننس کو مضبوط بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ EPA پنجاب نے لاہور میں 2024ء میں موجود صرف 3 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز سے مانیٹرنگ نیٹ ورک کو بڑھا کر صوبے بھر میں 59 جدید AQMS تک پہنچا دیا ہے، جبکہ مستقبل میں یہ تعداد 100 اسٹیشنز تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔عبداللہ نیر شیخ نے کہا کہ فضائی آلودگی کے خلاف مانیٹرنگ کے ساتھ عملی اقدامات بھی جاری ہیں، جن میں فضا میں موجود گردوغبار کے تدارک کیلئے فوگ کیننز کی تعیناتی اور آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف شعبہ وار کارروائی شامل ہے۔ڈی جی EPA نے کہا کہ فضائی آلودگی سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے درست اور بروقت ایئر کوالٹی معلومات انتہائی ضروری ہیں، نیا نظام حکومتی اداروں کو زیادہ آلودگی والے علاقوں کی نشاندہی، شدید آلودگی کے ممکنہ واقعات کیلئے پیشگی تیاری اور آلودگی کے اخراج کو کنٹرول کرنے کیلئے بروقت اقدامات میں مدد دے گا۔انہوں نے ICIMOD اور اس کی ٹیم کی تکنیکی رہنمائی، رابطہ کاری اور مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ EP&CCD پنجاب کے عملے کی تکنیکی تربیت اور استعداد کار بڑھانے کیلئے ICIMOD کے ساتھ تعاون مزید جاری رہنا چاہیے تاکہ نئے نظام کو فضائی آلودگی کے مؤثر انتظام کیلئے بھرپور انداز میں استعمال کیا جاسکے۔حکام کے مطابق نئے نظام سے پنجاب میں فضائی آلودگی کی مانیٹرنگ، پیش گوئی، عوامی معلومات اور حکومتی ردعمل میں بہتری آئے گی، جس کے نتیجے میں فضائی آلودگی کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے زیادہ تیز اور بہتر فیصلے ممکن ہوں گے۔یہ منصوبہ ICIMOD کے ہمالیئن ریزیلینس اینیبلنگ ایکشن پروگرام (HI-REAP) کے تحت معاونت حاصل کر رہا ہے، جسے UK International Development کی جانب سے Climate Action for a Resilient Asia (CARA) اقدام کے ذریعے فنڈ کیا جارہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر EP&CCD پنجاب، EPA پنجاب، ICIMOD اور دیگر تکنیکی شراکت داروں نے فضائی آلودگی کے انتظام اور پنجاب میں عوامی صحت کے تحفظ کیلئے اس پلیٹ فارم کو مزید بہتر بنانے اور مؤثر طور پر استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

جواب دیں

Back to top button