سموگ کے ممکنہ خطرات سے قبل ہی فضائی آلودگی کے ذرائع کو قابو کرنے کے لیے ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے پری سموگ آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا، فیلڈ افسران کو دھواں چھوڑنے والے تمام ذرائع کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی ہدایت کردی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل ماحولیات پنجاب عبداللہ نیر شیخ نے واضح کیا ہے کہ سموگ شروع ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے آلودگی کے ذرائع کے خلاف پیشگی کارروائی کی جائے اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی صورت رعایت نہ دی جائے۔ادارہ تحفظ ماحول پنجاب کے فیلڈ افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نیر شیخ نے پری سموگ انتظامات، ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد، آلودگی کے بڑے ذرائع کی نشاندہی، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کاری اور عوامی آگاہی مہمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈی جی ماحولیات نے فیلڈ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں مکمل طور پر متحرک رہیں اور دھواں چھوڑنے والے صنعتی یونٹس، بھٹوں، گاڑیوں اور دیگر آلودگی پھیلانے والے ذرائع کی باقاعدگی سے چیکنگ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پری سموگ کارروائی کا بنیادی مقصد آلودگی کو اس کے منبع پر ہی کنٹرول کرنا ہے تاکہ فضائی معیار خراب ہونے سے پہلے ہی مؤثر اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔عبداللہ نیر شیخ نے واضح کیا کہ نظر آنے والے دھویں اور مقررہ حد سے زائد اخراج کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی کہ آلودگی کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کرکے وہاں خصوصی نگرانی اور مسلسل انسپیکشن کی جائے جبکہ خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ماحولیاتی قوانین کے تحت فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف کارروائی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ ڈی جی ماحولیات نے دوٹوک الفاظ میں ہدایت کی کہ زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر کوئی اینٹوں کا بھٹہ چلنے نہ دیا جائے۔ فیلڈ افسران کو غیر معیاری اور ماحولیاتی تقاضوں پر پورا نہ اترنے والے بھٹوں کی نشاندہی، معائنہ اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا۔صنعتی آلودگی کے حوالے سے بھی فیلڈ افسران کو خصوصی ٹاسک دیا گیا۔ صنعتی یونٹس میں ایمیشن کنٹرول سسٹمز کی تنصیب اور ان کے درست طریقے سے فعال ہونے کی جانچ کی جائے گی۔ مقررہ ماحولیاتی حدود سے زیادہ اخراج کرنے والے یا آلودگی پر قابو پانے کے مطلوبہ نظام کے بغیر کام کرنے والے یونٹس کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔اجلاس میں خشک موسم کے دوران فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بننے والی گردوغبار کی آلودگی پر بھی توجہ دی گئی۔ تعمیراتی مقامات، کچی سڑکوں، تعمیراتی سامان ذخیرہ کرنے والے مقامات، صنعتی علاقوں، اسٹون کرشنگ یونٹس اور دیگر گردوغبار پیدا کرنے والی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا۔تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران مٹی، ملبے اور دیگر تعمیراتی مواد کو کھلے عام لے جانے، مناسب طریقے سے ڈھانپے بغیر نقل و حمل اور پانی کے چھڑکاؤ کے مطلوبہ انتظامات نہ ہونے پر بھی کارروائی کی جائے گی۔ فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی کہ تعمیراتی منصوبوں پر ماحولیاتی اور ڈسٹ کنٹرول تقاضوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔بھاری ٹرانسپورٹ، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور دیگر موبائل ذرائع سے خارج ہونے والے آلودگی کے ذرات کے خلاف بھی نگرانی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ادارہ تحفظ ماحول پنجاب کی ٹیموں کو ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کرکے مشترکہ کارروائیوں کو مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی۔کھلے عام کچرا جلانے، فضلہ جلانے اور دیگر اقسام کی اوپن برننگ کے خلاف بھی خصوصی نگرانی کی جائے گی۔ فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی کہ ایسے علاقوں کی نشاندہی کریں جہاں کچرا، زرعی باقیات یا دیگر مواد جلانے سے دھواں اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے۔ڈی جی ماحولیات نے واضح کیا کہ پری سموگ ایکشن صرف ادارہ تحفظ ماحول پنجاب تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ضلعی سطح پر تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ فیلڈ افسران کو ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس، محکمہ ٹرانسپورٹ، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت کی گئی تاکہ آلودگی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو یقینی بنایا جاسکے۔اجلاس میں پری سموگ آگاہی مہمات کو بھی مربوط انداز میں چلانے کی ہدایت کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے تعاون سے صنعتوں، بھٹہ مالکان، ٹرانسپورٹرز، کسانوں، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔عبداللہ نیر شیخ نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کو ان کی ماحولیاتی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے، تاہم جان بوجھ کر ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو آگاہی کی آڑ میں کسی قسم کا تحفظ نہیں دیا جائے گا۔فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی کہ تمام انسپیکشنز، کارروائیوں اور کمپلائنس رپورٹس کو باقاعدگی سے مرتب کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو دستاویزی شکل دی جائے۔ بالخصوص بار بار خلاف ورزی کرنے والے عناصر پر نظر رکھی جائے تاکہ وہ دوبارہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی نہ کرسکیں۔اجلاس میں صنعتی یونٹس، اینٹوں کے بھٹوں، گاڑیوں، تعمیراتی سرگرمیوں، اوپن برننگ، ویسٹ برننگ، گردوغبار اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کا جائزہ لیا گیا۔ فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی کہ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر بھی فوری ردعمل دیا جائے۔ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نیر شیخ نے کہا کہ پنجاب کی پری سموگ حکمت عملی کا محور سموگ پیدا ہونے کے بعد صرف ردعمل دینا نہیں بلکہ اس سے پہلے آلودگی کے بنیادی ذرائع کو کنٹرول کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ افسران کی موجودگی، مسلسل مانیٹرنگ اور بروقت کارروائی ہی سموگ کے اثرات کو کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔اجلاس کے اختتام پر فیلڈ فارمیشنز کو پری سموگ انسپیکشنز میں تیزی لانے، آلودگی کے بڑے ذرائع کی نشاندہی کرنے، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ مزید مضبوط بنانے اور خلاف ورزیوں کے خلاف بروقت کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ادارہ تحفظ ماحول پنجاب کی جانب سے پری سموگ تیاریوں کا مقصد سموگ کے موسم میں فضائی معیار کے شدید متاثر ہونے سے پہلے ہی صنعتی، ٹرانسپورٹ، تعمیراتی، گردوغبار، اوپن برننگ اور دیگر آلودگی کے ذرائع کو قابو کرنا ہے، تاکہ موسم خزاں میں فضائی آلودگی میں ممکنہ اضافے کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔
Read Next
5 گھنٹے ago
EPA Punjab intensifies pre-smog preparations, targets smoke-emitting heavy vehicles
4 ہفتے ago
یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ادارہ تحفظ ماحول پنجاب کی جانب سے آگاہی تقریب کا انعقاد
جولائی 6, 2026
پنجاب میں پلاسٹک بیگ پر اضافی رقم لیناممنوع قرار،خلاف ورزی پر50 ہزار تک جرمانہ یا کاروبار سیل
جولائی 3, 2026
*ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے پہلی اسکیمنگ بوٹ لانچ کر دی*
مئی 13, 2026
ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحول ڈاکٹرعمران حامد شیخ ستارہ امتیازسےسرفراز
Related Articles
صنعتی علاقوں کے گرد گرین بفر زون لازمی، خلاف ورزی پر سخت ایکشن ہوگا — ڈی جی ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ
اپریل 17, 2026
تمام ماحولیاتی منظوریوں، لیبارٹری سرٹیفکیشن اور پروٹیکشن آرڈرز کا اجرا اب صرف ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوگا،نوٹیفکیشن جاری
دسمبر 19, 2025
نواز شریف آئی ٹی سٹی کے تعمیراتی کام میں ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیاں،محکمہ ماحولیات نے15 لاکھ کےجرمانے عائد کر دیئے
دسمبر 6, 2025
