*اسلام آباد میں اعلٰی سطحی اجلاس(سمٹ)* تحریر: زاہد اسلام

اسلام آباد میں کل پارٹی(حکمران اتحاد)کا14 جنوری کو”سمٹ“ کا انعقاد ہوا۔اسے سمٹ اس لئے کہا گیا۔کیونکہ قائم مقام صدر مملکت نے شرکت کی۔اور دیگر شرکاء میں لوکل گورنمنٹ سربراہان کے ساتھ لوکل گورنمنٹ سے متعلق بعض سرکاری افسران نے بھی شرکت کی۔کانفرنس میں زیادہ خواتین و حضرات کا تعلق حکمران اتحاد سے ہی تھا۔اپوزیشن کی نمائندگی عملی طور پر نہ تھی۔جبکہ آرگنائزر پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ کاکس کی طرف سے ہوا تھا۔سول سوسائٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی نہیں تھی۔اعلان کردہ مقاصد اور ایجنڈا وفاقی مملکت میں مضبوط،مستحکم اور با اختیار مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی کے لئے تھا،بلکہ بہتر فارمیشن تھاکہ وفاقی پاکستان میں تین سطحی حکمرانی کیسے ممکن ہو۔دو دن کی کانفرنس میں کئی سیشن ہوئے۔شرکاء کی تقاریر سب تو تھے ہی۔ضرورت و اہمیت پر زیادہ زور اور آئینی ترمیم کا مطالبہ سمٹ کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا گیا،جبکہ رائج الوقت قوانین پر کوئی بات کھل کر نہیں کی گئی۔خیبر پختونخواہ کی اسمبلی نے دو دن قبل ایسی ہی ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی،جو پنچاب اسمبلی میں منظور کردہ قرار داد اور اس’سمٹ‘ کے اعلامیہ سے قدرے بہتر ہے۔کیونکہ اس میں زیادہ وضاحت سے مطالبہ ہے کہ آئین میں مقامی حکومتوں کے حوالے سے ایک نیا باب شامل کیا جائے۔کیونکہ آرٹیکل سات میں مقامی حکومتیں تیسرے درجہ پر مشتمل حکمرانی کی شکل ہیں۔یہ کانفرنس کوئی ٹھوس پیش رفت یا تجاویز کے بغیر اختتام پزیر ہوئی۔آرگنائزر نے خود کہا ہے کہ یہ پنجاب حکومت کی قرار داد91 کے ضمن میں ہے۔’سمٹ‘ فیصلہ کن نہیں ہو سکی۔بہت جنرلائز اعلامیہ ہے۔جو سامنے بالکل وہی دہرایا گیا،جو پنجاب ا سمبلی کی قرارداد ہے۔کانفرنس میں زیادہ شرکاء حکمران اتحاد کی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے۔اور انہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین پر کوئی گفتگو نہیں کی۔بلکہ اسی دن اسلام ٓباد میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس آیا تھا۔جس کے حوالے سے ایک سیاسی جماعت نے احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ بھی کیا تھا۔کلیدی سپیکر جناب مصطفی کمال جو کراچی کے میئر بھی رہے ہیں۔انہوں نے اپنی پارٹی کے سندھ کے حوالہ سے موقف کو بھی نہیں دھرایا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی کانفرنس کی جائے جس میں رائج الوقت قوانین میں خامیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جائے۔یہ درست ہے کہ آئینی ترمیم ضروری ہیں کیونکہ دور جدید زیادہ وضاحت اور تشریح کا متقاضی ہے۔کسی بھی ایسی کانفرنس کی کامیابی قائمقام صدر،قائمقام گورنر اور وفاقی وزراء کی شمولیت سے نہیں ہوتی۔کانفرنس میں ایکسپرٹس کے نام سن لیں۔SDPI اور ڈاکٹر عشرت حسین،ڈاکٹر نفیسہ شاہ ایک سابق بیوروکریٹ شامل تھے۔ان کے خیالات اور خدمات کو پورا ملک پہلے سے ہی واقف کار ہے۔کوئی نئی بات سامنے نہیں آ سکی۔بحر حال کچھ بنیادی باتوں پر زور ضرور دیا گیا جو مناسب اور درست باتیں ہیں۔اس لئے تشنگی رہ گئی۔

کھودا پہاڑ نکلا چوہا

جواب دیں

Back to top button