کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور چینی کمپنی کے درمیان تکنیکی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں بین الاقوامی سطح پر تکنیکی تعاون کے ایک نئے اور اہم دور کا آغاز ہو گیا۔ اس سلسلے میں واٹر کارپوریشن اور چین کی معروف کمپنی لِنگژی ایکوپمنٹ گروپ کے درمیان واٹر اور سیوریج کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے خصوصی شرکت کی۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق ایم او یو پر واٹر کارپوریشن کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی اور چینی کمپنی کے نامزد نمائندے نے دستخط کیے۔ اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر انجینئر اسداللہ خان اور چیف فنانشل آفیسر عمار علی خان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ معاہدے کا مقصد واٹر اور سیوریج نظام کی بہتری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا حصول ہے، کیونکہ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے جدید، پائیدار اور ماحول دوست واٹر اور سیوریج نظام وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اشتراک سے شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہریوں کو بہتر اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔ واٹر کارپوریشن حکام نے بتایا ہے کہ ایم او یو کے تحت دونوں فریقین نے سیوریج ٹریٹمنٹ اور ری کلیمڈ واٹر منصوبوں پر باہمی تعاون پر اتفاق کیا ہے، جس سے نہ صرف ماحولیاتی بہتری ممکن ہوگی بلکہ پانی کے وسائل کے مؤثر اور پائیدار استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔ حکام کے مطابق ایم او یو کے تحت نمبر 2 پمپنگ اسٹیشن پر سیوریج ٹریٹمنٹ اور ری کلیمڈ واٹر منصوبے کی فزیبلٹی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس میں منصوبے کی تکنیکی، مالی اور عملی قابلِ عمل ہونے کا جامع تجزیہ شامل ہوگا۔ منصوبے کے ڈیزائن، جدید ٹیکنالوجی کے انتخاب اور مجموعی لاگت کا تعین آزاد فزیبلٹی اسٹڈیز کی بنیاد پر کیا جائے گا، جبکہ تمام ضروری ریگولیٹری منظوریوں سے متعلق فیصلے متعلقہ ادارے قوانین اور ضوابط کے مطابق کریں گے۔ حکام نے بتایا کہ منصوبے میں سرمایہ کاری، فنانسنگ یا کسی بھی ممکنہ جوائنٹ وینچر سے متعلق حتمی فیصلہ فزیبلٹی رپورٹ کے نتائج سے مشروط ہوگا۔ ایم او یو میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی ترمیم صرف تحریری طور پر اور دونوں فریقین کے دستخط سے ہی مؤثر ہوگی، جبکہ مفاہمتی یادداشت کو کسی تیسرے فریق کو پیشگی تحریری اجازت کے بغیر منتقل یا تفویض نہیں کیا جا سکے گا۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت کراچی کے واٹر اور سیوریج مینجمنٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے مستقبل میں شہر کو پائیدار اور ماحول دوست سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

جواب دیں

Back to top button