*میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ تا تین ہٹی روڈ کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا*

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ جہانگیر روڈ دو اضلاع کو آپس میں جوڑنے والی ایک اہم شاہراہ ہے اور یہاں کے عوام برسوں سے سڑک اور سیوریج کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے تھے، ماضی میں یہ سڑک کے ڈی اے نے تعمیر کی تھی لیکن بارشوں میں تباہ ہو گئی تھی، ماضی میں وسائل کی کمی کے باعث اس سڑک پر جزوی طور پر کام ہوتا رہا، کبھی کے ڈی اے اور کبھی کے ایم سی نے کام کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسئلہ مستقل طور پر حل نہ ہو سکا، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے فیصلہ کیا کہ اب یہ سڑک مکمل طور پر کے ایم سی اپنے وسائل سے تعمیر کرے گی، سڑک کی تعمیر سے پہلے دونوں اطراف نالوں اور سیوریج لائنوں کی مکمل بحالی اور اپ گریڈیشن کی جائے گی تاکہ مستقبل میں بارشوں کے دوران سڑک دوبارہ خراب نہ ہو، کے ایم سی کی ٹیم نے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 90 دن مانگے تھے لیکن عوامی مشکلات کے پیشِ نظر مدت کم کرکے 60 دن کر دی ہے، کام ہنگامی بنیادوں پر دن رات جاری رکھا جائے گا اور جب کام شروع ہو تو اسے مکمل بھی کیا جائے، مقامی قیادت اس منصوبے کی نگرانی کرے گی جبکہ اسٹریٹ لائٹس اور پیڈسٹرین برج کی مرمت اور بہتری بھی منصوبے کا حصہ ہے،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز جہانگیر روڈ گرومندر تاتین ہٹی کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری رؤف ناگوری،کے ایم سی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، اقبال ساند، منتخب نمائندے اور دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر روڈ پر برسوں پرانا سیوریج نظام تبدیل کیا جا رہا ہے اور نکاسی آب کے مسائل کے مستقل حل کو یقینی بنایا جا رہا ہے، سڑک کی ازسرِنو تعمیر کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ جہانگیر روڈ کو گرومندر سے تین ہٹی تک دونوں جانب جدید معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے گا جبکہ ساتھ ساتھ برساتی پانی کی نکاسی کے لیے بھی نالہ تعمیر کیا جائے گا تاکہ بارش کے پانی کی نکاسی کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکے، اس سڑک کی مجموعی لمبائی 1.4 کلومیٹر ہے جبکہ 3 انچ اسفالٹ بیس کورس اور 2 انچ اسفالٹ کنکریٹ وئیرنگ کورس 50 ہزار اسکوائر فٹ کارپیٹنگ کی جائے گی، دو ہزار رننگ فٹ برساتی نالہ دونوں جانب تعمیر کیا جائے گا جس کے ساتھ ساتھ 36 انچ قطر کی پائپ لائن ڈالی جائے گی، 2لاکھ 52 ہزار اسکوائر فٹ 80 ملی میٹر کے جبکہ 70 ہزار اسکوائر فٹ 60 ملی میٹر کے پیور بلاکس لگانے کے ساتھ ساتھ دونوں جانب کرب اسٹون لگائے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی جبکہ بارش کے پانی کی نکاسی مؤثر ہونے سے علاقہ مکینوں کو سہولت میسر آئے گی، میئر کراچی نے کہا کہ جہانگیر روڈ کی بحالی کراچی کی مجموعی ترقیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور اس سے نہ صرف ٹریفک روانی بہتر ہوگی بلکہ شہری سہولتوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر بھر میں مجموعی طور پر 46 ارب روپے کے ترقیاتی کام کر رہی ہے، بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے منصوبے بھی مکمل کیے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہر میں 400 سے زائد سڑکوں کی تعمیر اور بحالی پر کام شروع کیا جا رہا ہے جبکہ ملیر میں پل کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے، کراچی کی 246 یونین کمیٹیوں کے لیے بھی ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے تاکہ گلیوں اور محلوں کی سطح پر کام ہو سکے، انہوں نے صنعتی علاقوں کے حوالے سے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تعاون سے 7 صنعتی ایسوسی ایشنز کو سوا 9ارب روپے دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے علاقوں کی سڑکوں اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنا سکیں، میئر کراچی نے کہا کہ اگر ٹاؤنز بھی کے ایم سی کے ساتھ مل کر کام کریں تو آنے والا سال کراچی کے لیے ریلیف کا سال ثابت ہوگا، میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں پانی کی کمی ایک حقیقت ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ علاقوں میں لوگ نوے سے سو دن تک پانی نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں روزانہ پانی آتا ہے اور گاڑیاں بھی دھوئی جاتی ہیں، یہ صورتحال ناانصافی کی عکاس ہے، انہوں نے کہا کہ ٹینکر سروس کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہ برسوں سے چل رہی ہے اور جہاں پانی نہیں پہنچتا وہاں ٹینکرز کے ذریعے فراہمی کی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ شہر کے سات ہائیڈرنٹس کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ہائیڈرنٹس کا ٹھیکہ دو سال کے لیے ہوتا ہے، ان کے مطابق فیصلہ یہ کرنا تھا کہ نیا ٹھیکہ دیا جائے، توسیع کی جائے یا انہیں بند کر دیا جائے،انہوں نے واٹر کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ پہلے پانی کی منصفانہ تقسیم کی جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا،میئر کراچی نے کہا کہ ساتوں ہائیڈرنٹس کی فوری ٹینڈرنگ روک دی ہے اور واٹر کارپوریشن کا پروپوزل سٹی کونسل میں لایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اگر ہائیڈرنٹس مکمل طور پر بند کر دیے جائیں تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جن علاقوں میں لائن کا پانی نہیں پہنچتا وہاں ٹینکر کے بغیر پانی کیسے پہنچایا جائے گا، 23 جنوری کو واٹر کارپوریشن کی بورڈ میٹنگ ہوگی جس میں اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا، میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں کتوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، اس معاملے پر مختلف آراء ہیں، کوئی کہتا ہے کتے پکڑے جائیں، کوئی کہتا ہے نہ پکڑے جائیں، اگر مارتے ہیں تو لوگ ناراض ہوتے ہیں اور اگر نہیں مارتے تو بھی اعتراضات ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کتا مار مہم کے حوالے سے عدالت سے ہدایات لی جا رہی ہیں اور جو بھی فیصلہ عدالت کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو فوری طور پر مہم شروع کی جا سکتی ہے، میئر کراچی نے کہا کہ نیب نے جو ریکارڈ مانگا ہے وہ فراہم کیا جائے گا، ادارے کا مکمل احترام کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کا بجٹ سٹی کونسل سے منظور ہوتا ہے اور تمام تفصیلات ویب سائٹ پر موجود ہیں، اگر نیب کو لگتا ہے کہ کہیں کام خراب ہوا ہے تو ثبوت پیش کرے، انہوں نے سوال کیا کہ جب اعلان کیا گیا کہ شہر پر 46 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے تو کیا اس ڈر سے کام روک دیا جائے؟ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حسد کرنے والے حسد کرتے رہیں گے، ہم اپنے مقصد پر پورا اتریں گے اور اپنے وعدوں کو وفا کریں گے، انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی کہ وہ کراچی کے مفاد میں ساتھ بیٹھیں اور مل کر مسائل کا حل نکالیں، خدمت کا موقع کراچی کے عوام نے دیا ہے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button