*بلدیاتی انتخابات،پنجاب لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز 2026ء کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری*

صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب نےپنجاب لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز 2026ء کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔یہ رولز فوری طور پر نافذ العمل ہونگے۔

گزٹ نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کے سیکشن 189 کےتحت الیکشن رولز تیار کئے گئے ہیں۔سیکرٹری قانون اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے دستخطوں سے گزٹ نوٹیفکیشن کا اجراء کر دیا گیا ہے۔جس کے تحت پنجاب بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے۔

تحریر *زاہد اسلام*

انتخابی رولز لوکل گورنمنٹ2026ء

با لا ٓخر حکومت نے12مارچ2026ء کو لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔رولز میں پہلے تو سیکشن2.1 ابتدائی نوعیت کے ہیں۔تعریفات ہیں اور نفاذ کے بارے میں ہیں۔سیکشن3میں الیکشن کمیشن کے رول اور فنکشن بارے ذکر کیا گیا ہے انتخابی شیڈول،طریق کار الیکشن ایکٹ2017 کے حوالہ سے ذکر ہے۔الیکشن ٹربیونلز بنانے کا اختیار ہے۔سرکاری افسران کو تعاون اور مدد کے لئے پابند کیا گیا ہے۔سیکشن 6 یونین کونسلوں کے9 جنرل ممبران کے انتخابات بارے ذکر ہے۔بالغ رائے دہی کی بنیاد پر خفیہ بیلٹ کے ذریعے انعقاد ہو۔انتخابی فہرستیں الیکشن کمیشن فراہم کرے گا۔ریٹرنگ آفیسرز کو جو پولنگ سٹاف کو فراہم کریں گے۔ضلعی الیکشن آفس امیدواروں کو قیمت پر فراہم کریں گے۔اور کاغذات نامزدگی کے ہمراہ ووٹ کی تصدیق کے لئے متعلقہ صفحہ کی فوٹو کاپی منسلک کرنا ہو گی۔الیکشن کمیشن ہی ریٹرنگ آفیسرز کی تعیناتی کرے گا۔الیکشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں پولنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں گے۔اور الیکشن کمیشن ہی پولنگ سٹاف کی تعیناتی کرے گا۔حلقہ کا کوئی رجسٹرڈ ووٹر ایک دوسرے امیدوار کو بطور امیدوار نامزد کر سکے گا۔جبکہ ایک دوسرا رجسٹرڈ ووٹر تائید کنندہ ہو سکے گا۔مگر کوئی بھی ووٹر اس حلقہ میں ایک سے زائد امیدوار کو نامزد نہیں کر سکے گا اور نامزدگی کاغذات پر نامزد کنندہ،تائید کنندہ اور امیدار کے دستخط ہوں گے۔امیدوار کو درج ذیل ڈیکلیریشن کو دستخط کر کے منسلک کرنا ہوں گے۔امیدوار مطلوبہ شرائط اہلیت پر پورا اترتا ہے اور نا اہل نہیں ہے۔ امیدوار حلقہ کے ووٹرز اور عوام سے وفادار رہے گا۔اگر مسلم امیدوار ہے تو ختم نبوت پر یقین کا بیان بھی منسلک کرنا ہو گا۔کاغذات نامزدگی پر ریٹرنگ آفیسر سیریل نمبر لگائے گا۔اندراج کرے گا اور وصولی کی رسید جاری کرے گا۔کوئی بھی امیدوار دو نامزدگی کاغذات ایک سے زیادہ جمع نہیں کرائے گا۔ہر امیدوار کوفیس بذریعہ بنک ڈرافٹ یا پے آرڈر کے ذریعہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ فراہم کرنا ہو گی۔ریٹرنگ آفیسر نامزدگیوں کی تفصیل اطلاع عام کے لئے مشتہر کرے گا اور کوئی بھی حلقہ کا ووٹر یا امیدوار یا اس کا ایجنٹ یا نامزد کنندہ یا تصدیق کنندہ کسی امیدوار کی نامزدگی پر اعتراض اٹھا سکتا ہے۔ریٹرنگ آفیسر اعتراضات وصولی کرے گاے اور شنوائی کرے گا۔وہ کاغذات کو مسترد کر سکتا ہے۔اگر کاغذات نا مکمل ہوں۔امیدوار آرٹیکل67 کے مطابق اہل نہ ہو یا تائید کنندہ نامزد کنندہ کے دستخط یا اہلیت مشکوک ہو۔ریٹرنگ آفیسر کے پاس کاغذات مسترد ہونے کے خلاف مقررہ ٹائم میں متاثر شخص ابیلٹ ٹربیونل کے پاس اپیل میں جا سکے گا۔انتخابی رولز میں دیگر کئی شقیں الیکشن طریق کار بارے ہیں۔امیدوار کا استحقاق اپنے پولنگ ایجنٹ،الیکشن ایجنٹ مقرر کرنے کا حق ہے اور تبدیل برطرفی کا حق بھی شامل ہے۔انتخابی طریق کار میں خفیہ بیلٹ کے ذریعہ9جنرل ممبران کا انتخاب ہے۔ جبکہ مخصوص نشستوں کا انتخاب ہاؤس میں شو آف ہینڈ کے ذریعہ ہے اور ایک سے زائد امیدواران ہونے کی صورت میں ہاؤس میں رائے شماری کرائی جائے گی۔اگر ووٹ برابر ہوں گے تو قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کیا جائے گا۔ مگر یہاں بھی ووٹ کھلے عام ہے خفیہ بیلٹ کے ذریعہ سے ہے۔ہر رجسٹرڈ سیاسی جماعت اپنے امیدواران کی نامزدگی کر سکتی ہے۔مگر سیاسی جماعت کے سربراہ کی طرف سے فارم،خط ساتھ منسلک ہو۔یعنی پارٹی ٹکٹ کی شکل ہو گی۔مگر آزاد حیثیت میں بھی اہل امیدواران انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں مگر انہیں سیاسی جماعت کا کوئی نشان الاٹ نہیں کیا جا سکتا۔نشانات کی فہرست الیکشن کمیشن فراہم کرے گا۔ہر آزاد امیدوار کو انتخاب جیتنے کے تیس دنوں کے اندر اگر وہ خواہش مند ہو تو کسی سیاسی جماعت کو جوائن کر سکتا ہے۔اور آزاد بھی اپنا تشخص برقرار رکھ سکتا ہے۔شرائط اہلیت برائے امیدواران قانون میں وضاحت سے درج ہیں۔عام امیدوار 21سال تک عمر اور سربراہ بننے کے لئے 25سال عمر کی حد مقرر ہے۔یونین کونسل کے سربراہ کونسل کے کل 13ممبران میں سے ہی ہوں گے۔جبکہ ٹاؤن،میونسپل کارپوریشن،میونسپل کمیٹی تحصیل کونسل کے سربراہان حلقہ کے عام ووٹرز سے مطلوبہ اہلیت کے حامل ہوں گے۔انتخابی امیدواران کے لئے فیس میئر،ڈپٹی میئر،ٹاؤن اینڈ میونسپل کارپوریشن ایک لاکھ روپیہ جوائنٹ امیدوارچیئرپرسن اینڈ وائس چیئرپرسن تحصیل کونسل 100,000 روپیہ جوائنٹ امیدوارچیئرپرسن اینڈ وائس حیئرپرسن میونسپل کمیٹی 50,000 مشترکہچیئرپرسن اینڈ وائس چیئرپرسن یونین کونسل 20 ہزار روپیہ

یونین کونسل کے جنرل اور مخصوص نشستوں پر10,000روپیہ انتخابی اخراجات کی حد مقررمیئر،ڈپٹی میئر،چیئرپرسن،وائس چیئرپرسن مشترکہ امیدواران کے لئے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن اور تحصیل کونسل کے ضمن میں دس لاکھ روپے آخری حد۔میونسپل کمیٹیوں کے چیئرپرسن اور وائس چیئرپرسن کے لئے پانچ لاکھ روپے مشترکہ امیدوارٹاؤن،میونسپل کارپوریشن اور تحصیل کونسلوں کے مخصوص نشستوں پر امیدواران ایک لاکھ روپیہ تک اخراجات کر سکتے ہیں۔یونین کونسلوں کے جنرل ممبران اور چیئرپرسن،وائس چیئرپرسن کی آخری حد ڈھائی لاکھ روپیہ ہو گی۔یونین کونسلوں کے مخصوص نشستوں کے امیدواران ایک لاکھ روپیہ تک خرچ کر سکتے ہیں۔ان سب کا اکاونٹ کا ریکارڈ رکھنا ہو گا اور جمع کرانا ہو گا۔

جواب دیں

Back to top button