جدید معاشرے میں حکمرانی بھی ایک فن ہے۔جو بہترین مہارتوں کا تقاضا کرتی ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے حکمرانی کی کئی جہتیں ہیں اور کئی سطحی حکومتیں متحرک ہوتی ہیں۔جن کے مابین منظم رابطہ کاری اور کنٹرول و نگرانی کے کئی انداز یک وقت فعال ہوتے ہیں۔اسی لئے حکمرانی کو پچیدہ عمل گردانا جاتا ہے۔گہ کہ قوانین اور قواعد کو موجودگی میں تقسیم اختیارات اور باہمی تعلق ہی ایک پیمانہ ہوتا ہے۔جس کی بدولت حکمرانی کی نوعیت طے کی جاتی ہے۔مقامی حکومتیں بنیادی طور پر اختیارات کی عدم مرکوزیت یا تقسیم اختیارات کے ساتھ ساتھ عوامی شراکت داری کی بہترین شکل تصور ہوتی ہیں۔مقامی حکومتوں میں انداز حکمرانی لوگوں کی شرکت سے ادارہ جاتی حکومتی انداز کی ایک بہتر اور آزمودہ معاشرت کو خود منظم کرتے ہیں ان کے وسائل ضرویات اور ترجیحات خود طے کی جاتی ہیں اور اپنی طے کردہ ترجیحات کی روشنی میں وہ خود ہی منصوبہ سازی کرتے ہیں اور منصوبوں کو سر انجام دیا جاتا ہے۔برعکس اس طریقہ حکمرانی پر شخصی فرمان۔شخصی پسند اور انفرادی رائے کے تحت بھی حکومت کی جاتی ہے اور کئی دفعہ اس طرح کی حکومت میں تیز رفتاری اور بہتر نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں۔کیونکہ اگر ادارہ جاتی حکومتی انداز ہو، تو کئی افرادی رائے جمع ہو گی اور اکثریتی رائے میں اختلافی یا اقلیتی رائے بھی موجود رہے گی۔
یہ طریقہ کار دیرپا ہو گا۔گہ کہ اختلافات رائے بھی ساتھ ساتھ رہے گی۔ہمارے ملک میں سیاسی کلچر نیم قبائلی نیم جاگیر دارانہ ہے۔ جہاں حکومت احکامات یا فرمان کے ذریعہ چلائی جاتی ہے۔یہاں مشاورت کا رجحان دھیما ہے۔ہم سیاسی جماعتوں کی اندورنی فنشنگ کا مشاہدہ کریں اول تو سیاسی جماعتوں میں گورننگ کونسلیں نہیں ہوتیں یا شاید مجالس عاملہ(ایگزیکشو کونسلیں) ہوتی ہیں مگر ان کے اجلاس ریگولر یا باقاعدہ نہیں ہوئے۔بوقت ضرورت طلب کی جاتی ہیں مگر پالیسی سازی نہیں ہوتی۔بلکہ پالیسی بارے بریفنگ ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں مشاورت نہیں ہوتی بلکہ لیڈر کی زبان سے بریفنگ ہوتی ہے۔یا اکثر بحث مباحثہ ہوتا ہے۔ تو لیڈر کی عدم موجودگی میں لیڈر سے اختلافات رائے کا تصور ہی نہیں ہوتا۔بلکہ لیڈر جو باتیں کرتا ہے۔دوسرے ممبران کی تائید کر تے چلے جاتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کا یہ کلچر پھر حکومتی اداروں میں نظر آتا ہے۔مقامی حکومتوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔یہاں بسا اوقات لیڈر کے مقابل ممبران کے پاور گروپ زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور پھر مقامی حکومتوں کا دائرہ کار ایسے امور بارے ہوتا ہے۔جہاں لیڈر کے مقابل عام کونسلرز یا ممبران زیادہ با خبر ہوتے ہیں۔لہذ امقامی کونسلوں میں لیڈر کی ہر بات منظور نہیں کی جاتی اور یہی کلچر مقامی کونسلوں کے وجود کے لئے خطرات کا باعث بن جاتا ہے۔پنجاب میں اب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔گو کہ اس انتخابی شیڈول میں بھی حکومت کے لئے سہولت فراہم کی گئی ہے کہ ابتدائی فہرستیں اپریل میں جاری ہوں گی۔اور پھر حلقہ بندی اتھارٹیاں کی طرف سے حتمی فہرستیں شائع ہوں گی۔اور یہ تاریخ 8اگست2026ء مقرر کی گئی ہے اس کے بعد الیکشن کا شیڈول آئے گا۔جو تین ماہ پر مشتمل ہو سکتا ہے۔اور شرط یہ ہے۔کہ اگست ستمبر میں موسمیاتی اثرات کے تحفظ بارشوں کی شدت نہ ہو اور سیلابی کیفیت نہ بن جائے اگر سارا کچھ معمول کے مطابق رہے تو امکان ہے کہ اکتوبر نومبر میں لوکل گورنمنٹ انتخابات ہو ہی جائیں۔جس کے لئے حکمران جماعت نے تو تیاری کا آغاز کر دیا ہے۔جبکہ دیگر جماعتوں نے تو ابھی نئے قانون2025ء کو قبول نہیں کیا۔بظاہر یوں لگتا ہے کہ منتخب مقامی حکومتوں کے بارے ہمارے جمہوری حکومتوں کو زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔کیونکہ ان کی ترقیاتی حکمت عملی میں مقامی حکومتوں کا رول اور دائرہ کار بہت سکڑتا جا رہا ہے۔ہمارے سارے صوبوں کی حکومتیں پہلی ترجیح کے طور پر صوبائی محکموں اور ایجنسیوں کے ذریعہ ترقیاتی فرائض کے ساتھ ساتھ میونسپل ذمہ داریاں بھی شفٹ کرائی جا رہی ہیں۔سندھ اور بلوچستان میں تو لولی لنگڑی مقامی حکومتیں ہیں مگر وہاں بھی زیادہ کام سپیشل پیکجز کے ذریعہ سر انجام دینے کا غالب رجحان ہے۔جبکہ پنجاب میں تو سر فہرست اور فوقیت ہی ایسی ترقیاتی حکمت عملی تو دی جا رہی ہے۔جس میں خصوصی پراجیکٹ اور خصوصی پروگراموں کے ذریعہ جو صوبائی حکومت کے غالب رول سے جاری ہیں۔سارے کام کئے جا رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر نت نئی پیکج اعلان ہو رہے ہیں۔مثالی گاؤں ستھرا پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ پروگرام،دھی رانی پروگرام صحت کے لئے کئی پروگرام اور کئی تفریحی پروگرام اب صوبائی سطح کے اداروں کے ذریعہ جاری ہیں۔خیبر پختونخواہ میں جہاں منتخب مقامی حکومتوں کا دورانیہ ابھی مکمل ہوا مگر کیسے بحرانی حالات کا شکار تھا کہ منتخب مقامی حکومتوں کے نمائندگان ہی احتجاج کرتے نظر آتے تھے۔کہ انہیں نہ سرپرستی دی جاتی ہے، نہ فنڈز مہیا ہوتے ہیں۔نہ اختیارات دئیے گئے ہیں۔اسی احتجاج میں ان کا دورانیہ ختم ہو ا۔اب مجھے تو یہی نظر آتا ہے کہ مستقبل میں جب کبھی فوجی حکمرانی کا دور ہو گا تو ایک بار منتخب مقامی حکومتوں کا اختیار ہو گا۔وگرنہ یونہی کام چلے گا۔






