یہ اب تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حکمرانی میں اختیارات کی عدم مرکوزیت جمہوری معاشروں میں اہم اور بنیادی سوال ہے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ آبادی کا تیز رفتاری سے پھیلاؤ اور رہائشی آبادیوں کا بے ہنگم اور کنٹرول یا منصوبہ بندی کے بغیر وسعت پزیری ایسے عوامل ہیں کہ اگر منضبط اور منصوبہ بند انداز حکمرانی نہ اپنایا جائے۔تو نہ صرف لا قانونیت کو فروغ ملتا ہے،بلکہ انسانی ضروریات زندگی کی دستیابی بھی مشکلات کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔اس سے بچنے کی واحد شکل انداز حکمرانی میں ادارہ جاتی تشکیل کے ساتھ ساتھ اختیارات اور ذمہ داریوں کی عدم مرکوزیت یا ڈی سینٹر لائزیشن ہوتی ہے۔جسے اصطلاحی زبان میں اختیارات کو نیچے منتقل کرنا بھی کہا جاتا ہے۔اور اس کی عملی شکل منتخب مقامی حکومتوں کا نظام ہوتا ہے۔جو جمہوری معاشروں میں اولین اور ترجیحی حکومتی درجہ(Tier) قرار پایا ہے۔پاکستان کے آئین اور روایات میں منتخب مقامی حکومتوں کا تسلسل قیام پاکستان سے قبل چلا آ رہا ہے۔ان کی شکلیں مختلف ادوار میں مختلف رہی ہیں۔تا ہم 1959سے ان کی با ضابطہ تشکیل تسلسل سے چلی آ رہی ہے۔البتہ کئی کئی سال منتخب کونسلوں کے بغیر انتظامی افسران کی نگرانی میں چلنے والی مقامی حکومتیں سر گرم عمل رہی ہیں۔دوسرے لفظوں میں یونین کونسلیں،میونسپل کمیٹیاں،بلدیاتی ادارے قیام پاکستان سے ہی مسلسل چلے آ رہے ہیں۔لیکن ان کے وسائل اور اختیارات میں قطع برید ہوتی چلی آئی ہے۔دور جدید جمہوری اداروں کی نشوو نما اور اختیارات میں وسعت سے مشروط ارتقاء کا دور ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے ہمیں ہر سطح پر مقامی حکومتی ادارے فعال اور متحرک بنانا ہوں گے۔ان میں سب سے اہم مسئلہ ان کے اختیارات فرائض (فنکشن) اور مالیاتی خود مختیاری کا ہے۔جس پر بحث مباحثہ بھی جاری ہے اور یہ ہماری آئینی پابندی بھی ہے۔کہ مقامی حکومتیں ہوں جن کی حکمرانی میں منتخب مقامی نمائندے ہوں اور یہ با اختیار،با وسائل ہوں اور سیاسی و انتظامی طور پر خود مختار ہوں۔ہر سال ہمارا مالیاتی سال یکم جولائی تا30جون ہوتا ہے۔اور ہر سال کا مالیاتی بجٹ جو سال بھر کی ممکنہ اٰمدن اور اخراجات کا تخمینہ ہوتا ہے۔وہ تیار اور منظور کیا جاتا ہے۔نہ صرف قومی بجٹ بلکہ صوبائی بجٹ سازی کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کی بجٹ سازی بھی انہی دو مہینوں میں مکمل ہوتی ہے۔منتخب اسمبلیاں یا منتخب کونسلیں اپنے اپنے بجٹ کی منظوری دیتی ہیں۔پنجاب میں مقامی حکومتوں کے بجٹ صوبائی ہدایات پر انتظامی آفیسرز(ایڈمنسٹرٹرز) ہی تیار کریں گے۔اور خود ہی منظوری دیں گے۔کیونکہ مقامی حکومتوں میں منتخب کونسلیں نہیں ہیں۔اس صورتحال میں:یہاں ہم چند تجاویز دینا چاہتے ہیں۔اول: صوبائی حکومت اپنے صوبائی بجٹ میں کل آمدن(Consolidated Revenue) میں 25 فی صد مقامی حکومتوں کے لئے مختص کرے۔اسی طرح سالانہ ترقیاتی پلان میں بھی 25فی صد(PSDP) مقامی حکومتوں کے توسط سے یقینی بنائے۔دوم: اس سال کے مالیاتی بجٹ میں لوکل گورنمنٹ کی منظوری دے تا کہ اس سال کے آخر تک نئی مقامی حکومتیں منتخب کونسلوں کے ذریعے وجود میں آ سکیں۔سوم:نئے بجٹ میں منتخب کونسلرز کی تعلیم و تربیت کے لئے الگ بجٹ مختص کرے۔جن کی مد میں اجلاسوں کے دوران اعزازیہ جات(ٹی اے ڈی اے) بھی مختصر مختص کیا جائے۔جس کی ضرورت بھی ہے اور دیرینہ مطالبہ بھی ہے۔چہارم:مقامی حکومتوں کے توسط سے مقامی ٹیکس اور ٹول کی شرح طے کی جائے۔یا قومی سطح پر جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں کم از کم 30فی صد وصولی کو واپس مقامی حکومتوں کو منتقل کیا جائے۔پنجم: مقامی حکومتوں کے دائرہ کار سے وفاقی ٹیکسوں کا 2فی صد انہی علاقوں کو واپس منتقل کیا جائے۔خصوصی اور ترقیاتی گرانٹس کے ذریعے۔ششم:مقامی حکومتوں کے فنکشن میں وسعت لائی جائے۔تمام متبادل ادارے،اتھارٹیاں اور کمپنیاں متعلقہ مقامی حکومتوں کے انتظامی سیاسی اور مالیاتی کنٹرول میں لائی جائیں۔
Read Next
5 گھنٹے ago
*آبادی سات گنا بڑھ گئی،صوبائی حدود وہیں کی وہیں،پاکستان میں انتظامی تقسیم پر نظرثانی ناگزیر،ابراہیم مراد*
9 گھنٹے ago
جب امن کی جنگ ہو تو سیاست نہیں، ریاست جیتنی چاہیے۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
12 گھنٹے ago
خواتین کو آدھی آبادی کا آدھا نہیں، پورا حق – مخصوص سے منصفانہ تک کا سفر۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
1 دن ago
وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت اجلاس،انسدادِ سموگ اقدامات،ایجنسیز کی کارکردگی اور اینٹی لٹرنگ مہم کا جائزہ
2 دن ago
پی ڈبلیو سی اے کی جانب سے قلعہ کہنہ قاسم باغ،ملتان میں تاریخی کتب خانے کی بحالی، اہلِ علم و دانش کیلئے کیفے کا قیام
Related Articles
ایل ڈبلیو ایم سی کے زیراہتمام 34 سرکاری اور نجی اسکولوں کے مابین 3Rs اور ویسٹ سیگریگیشن ماڈل مقابلے کا اہتمام
3 دن ago
مقامی حکومت کا نظام:دنیا کی ترقی کا راز اور پاکستان کی جمہوری محرومی۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
4 دن ago




