وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر میں سولر ہوم سسٹم (ایس ایچ ایس) کٹس کی تقسیم اور تنصیب کا عمل مزید تیز کیا جائے جبکہ کم آمدنی والے خاندانوں کو صاف، سستی اور پائیدار توانائی کی فراہمی کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں جمعہ کو 18 ارب 20 کروڑ 60 لاکھ روپے مالیت کے سولر ہوم سسٹم منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر شروع کیا گیا یہ منصوبہ سندھ بھر کے 2 لاکھ 75 ہزار مستحق خاندانوں کو مفت شمسی توانائی سے بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔اجلاس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری توانائی شہاب انصاری، پراجیکٹ ڈائریکٹر دادلو زہرانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ کو منصوبے پر عمل درآمد، مستحقین کے انتخاب، ضلع وار تقسیم، تنصیب کی پیش رفت اور منصوبے کے متوقع سماجی و معاشی فوائد پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔محکمہ توانائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت غریب خاندانوں کے لیے سولر ہوم سسٹم (آف گرڈ/آن گرڈ) منصوبہ 18 ارب 20 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت سے نافذ کر رہا ہے۔منصوبے کے تحت ہر مستحق خاندان کو مکمل سولر ہوم سسٹم پیکیج فراہم کیا جا رہا ہے جس میں 180 واٹ کا سولر پینل، 30 ایمپیئر آور لیتھیم آئرن فاسفیٹ (ایل آئی ایف ای پی او فور) بیٹری کے ساتھ سینٹرل کنٹرول یونٹ، چارج کنٹرولر، موبائل چارجنگ کی سہولت، 25 واٹ کا ڈی سی پیڈسٹل پنکھا اور 5 واٹ کی تین ایل ای ڈی لائٹس شامل ہیں۔اس منصوبے سے سندھ کے تمام اضلاع میں 2 لاکھ 75 ہزار خاندان مستفید ہوں گے، جن میں آف گرڈ علاقوں کے ایک لاکھ 32 ہزار خاندان اور آن گرڈ علاقوں کے ایک لاکھ 43 ہزار محفوظ بجلی صارفین شامل ہیں۔
*تنصیب کی پیش رفت*
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب تک سندھ کے مختلف اضلاع میں 15 ہزار سے زائد سولر ہوم سسٹم کٹس تقسیم اور نصب کی جا چکی ہیں۔کراچی کے اضلاع شرقی، وسطی، جنوبی، ملیر، غربی، کورنگی اور کیماڑی سمیت سانگھڑ، تھرپارکر، عمرکوٹ، گھوٹکی، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، خیرپور، دادو، میرپورخاص، جامشورو، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، قمبر شہدادکوٹ، جیکب آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار، مٹیاری، سکھر، کشمور اور خیرپور کے دیہی علاقوں، صحرائی بستیوں، کچے کے علاقوں اور دور دراز آبادیوں میں بڑے پیمانے پر تنصیب مکمل کی جا چکی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اپریل 2025 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ جون 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔
*مستحقین کا انتخاب*
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آن گرڈ حصے کے لیے ایسے محفوظ بجلی صارفین کا انتخاب کیا جا رہا ہے جو ماہانہ صفر سے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں جبکہ آف گرڈ حصے کے تحت دور دراز، صحرائی، کوہستانی اور کچے کے علاقوں میں رہنے والے غریب خاندانوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں رجسٹرڈ اور غربت کا اسکور صفر سے 20 کے درمیان رکھنے والے خاندانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔نیشنل انرجی اینڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این ای ٹی سی) سولر کٹس فراہم کر رہی ہے، جبکہ سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (ایس آر ایس او) تنصیب، بعد از فروخت خدمات اور دو سالہ مینٹیننس وارنٹی کی ذمہ دار ہے۔
*وزیراعلیٰ کی عمل درآمد مزید تیز کرنے کی ہدایت*
منصوبے کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ سولر کٹس کی تقسیم شفاف، مؤثر اور منصفانہ انداز میں یقینی بنائی جائے تاکہ اس کے فوائد حقیقی مستحق خاندانوں تک پہنچ سکیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف بجلی فراہم کرنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی بہتر بنانے، غربت میں کمی لانے اور ان خاندانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہے جو طویل عرصے سے قابل اعتماد توانائی کی سہولت سے محروم رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے غریب خاندانوں کو بدستور ترجیح دی جائے جہاں روایتی بجلی کی فراہمی محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر نصب ہونے والی سولر کٹ توانائی کی محرومی سے نجات، مالی بوجھ میں کمی اور بچوں و خاندانوں کے لیے روشن مستقبل کی علامت ہے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ تنصیب کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جائے، معیار برقرار رکھا جائے اور مستحقین کو بروقت تکنیکی معاونت اور مینٹیننس کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ مقررہ مدت سے پہلے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
*پائیدار ترقیاتی اہداف میں کردار*
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سولر ہوم سسٹم منصوبہ اقوام متحدہ کے متعدد پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز)، بالخصوص سستی اور صاف توانائی، غربت کے خاتمے، موسمیاتی اقدامات اور پائیدار کمیونٹیز سے متعلق اہداف سے ہم آہنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے مٹی کے تیل، موم بتیوں اور بیٹری چارجنگ پر ہونے والے گھریلو اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی جس سے کم آمدنی والے خاندانوں کو ہر ماہ خاطر خواہ مالی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ مٹی کے تیل کے چراغوں سے پیدا ہونے والی اندرونی فضائی آلودگی کے خاتمے کے ذریعے عوامی صحت میں بہتری آئے گی اور سانس کی بیماریوں میں کمی ہوگی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ سولر سسٹم خاص طور پر خواتین اور بچیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے کیونکہ اس سے کام اور تعلیم کے لیے دستیاب اوقات میں اضافہ ہوگا، گھریلو معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور مجموعی خاندانی فلاح و بہبود بہتر ہوگی۔مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ قابلِ تجدید توانائی تک رسائی میں اضافہ کرے گا، شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بجلی کی سہولیات کے فرق کو کم کرے گا، جبکہ تنصیب، دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے، بالخصوص کمزور اور کم آمدنی والے افراد تک پہنچانے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔






