وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت محکمہ بلدیات سندھ کا ایک اہم جائزہ اجلاس

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت محکمہ بلدیات سندھ کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے زوم کے ذریعے شرکت کرتے ہوئے صوبے میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، انتظامی امور اور درپیش رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات ڈاکٹر وسیم شمشاد، اسپیشل سیکریٹری ٹیکنیکل اظہر حسین شاہ، ڈائریکٹر میگا پراجیکٹس عبدالغنی شیخ، ایف ڈبلیو او کے بریگیڈیئر عدنان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران منظور شدہ اور غیر منظور شدہ ترقیاتی اسکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اہم فیصلے بھی کیے گئے

Screenshot
Screenshot
Screenshot

۔ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ایم-9 ابوالحسن اصفہانی روڈ برج کی منظوری ہو چکی ہے جبکہ ہاکس بے وائی جنکشن اسکیم بھی منظور شدہ منصوبوں میں شامل ہے، لہٰذا ان منصوبوں پر مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جن ترقیاتی اسکیموں میں کوئی تکنیکی یا قانونی رکاوٹ موجود نہیں، ان کی تمام ضروری کارروائیاں فوری مکمل کر کے عملی کام کا آغاز یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ملیر ہالٹ انڈر پاس اور جناح ایونیو روڈ، جو ایم-9 منصوبے کا حصہ ہیں، کے پی سی ون کی فوری منظوری کے لیے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) محکمہ سے فوری رابطہ کرنے اور تمام ضروری اقدامات جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ اجلاس میں ڈیفنس انڈر پاس منصوبے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس پر وزیر بلدیات نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ یوٹیلیٹی سے متعلق تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کر کے تعمیراتی کام فوری شروع کیا جائے۔ سید ناصر حسین شاہ نے اس موقع پر واضح کیا کہ ان تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز دستیاب ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی انتظامی یا تکنیکی رکاوٹ کو فوری دور کر کے منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ شہری انفراسٹرکچر کی بہتری، ٹریفک کی روانی اور عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام اہم منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے منصوبوں کی مسلسل نگرانی کریں تاکہ عوام جلد از جلد ان ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

جواب دیں

Back to top button