وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کےلیے متحرک،ایک ہی دن میں تین اہم اقدامات کا افتتاح

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تین اہم اقدامات کی قیادت کی، جن میں کابینہ ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے گوگل جیمنی مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) تربیتی پروگرام، وزیراعلیٰ ہاؤس میں یونیورسٹی طلبہ کے لیے 20 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس کا اجرا اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح شامل ہے۔یہ اقدامات گوگل اور ٹیک ویلی پاکستان کے اشتراک سے کیے گئے جو سندھ حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو حکمرانی کے نظام میں شامل کیا جائے اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے جن کی تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں ضرورت ہے۔ان پروگراموں میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، ترجمان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی محمد علی راشد، سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ذوالفقار علی نظامانی، چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق رفیع، چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیک ویلی پاکستان عمر فاروق، گوگل فار ایجوکیشن کے سربراہ ڈاکٹر مازن عبداللہ، گوگل پاکستان کی ایشیا پیسیفک ڈیجیٹل ایڈوائزر محترمہ الیکس گیلینڈ، گوگل اور ٹیک ویلی کے نمائندگان، اعلیٰ سرکاری افسران، جامعات کی قیادت، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔

*کابینہ ارکان کے لیے گوگل جیمنی کی تربیت*

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کابینہ ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے گوگل جیمنی مصنوعی ذہانت پر مبنی تعارفی اور تربیتی سیشن کی صدارت کی۔تقریب کا آغاز محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیک ویلی پاکستان کے تعارف سے ہوا جس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیک ویلی پاکستان نے خطاب کیا۔ بعد ازاں گوگل سے تصدیق شدہ ماسٹر ٹرینرز نے گوگل جیمنی مصنوعی ذہانت کے استعمال اور حکمرانی میں اس کے اطلاق کے حوالے سے عملی مظاہرے پیش کیے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مصنوعی ذہانت کو جدید دور کی سب سے انقلابی ٹیکنالوجیز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتیں فیصلہ سازی کو بہتر بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانے اور حکمرانی کو زیادہ شفاف، فعال اور جوابدہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم سندھ حکومت کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ سندھ کو اس تبدیلی کا حصہ بننا ہوگا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انتظامی امور کو آسان بنانے، بڑے پیمانے پر معلومات کا تجزیہ کرنے، پالیسی سازی کو مضبوط بنانے اور صحت، تعلیم، زراعت، شہری منصوبہ بندی، آفات سے نمٹنے، مالیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت مختلف شعبوں میں خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی فیصلہ سازی کی جگہ لینے کے بجائے اس کی معاون ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ قیادت، جوابدہی اور عوامی اعتماد ہمیشہ منتخب نمائندوں اور سرکاری اداروں کی ذمہ داری رہیں گے۔وزیراعلیٰ نے کابینہ ارکان پر زور دیا کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے بھرپور استفادہ کریں اور ان کے ایسے عملی استعمال کی نشاندہی کریں جو حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن واضح ہے کہ ایک جدید، اختراعی اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار سندھ تعمیر کیا جائے، جہاں ٹیکنالوجی حکمرانی کو بہتر بنائے، شفافیت میں اضافہ کرے اور ہر شہری کے لیے بہتر نتائج فراہم کرے۔

*طلبہ کے لیے 20 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس*

مصنوعی ذہانت کے تربیتی پروگرام کے بعد وزیراعلیٰ نے گوگل کیریئر سرٹیفکیشن پروگرام 2026 کا افتتاح کیا اور محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ٹیک ویلی پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب میں شرکت کی۔اس پروگرام کے تحت سندھ کی تمام سرکاری جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کو 20 ہزار گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس دی جائیں گی، تاکہ وہ ڈیجیٹل شعبوں میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس حاصل کر سکیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اس اقدام کو سندھ کے نوجوانوں اور صوبے کی ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل میں ایک انقلابی سرمایہ کاری قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم صرف ایک نئے تعلیمی پروگرام کا آغاز نہیں کر رہے بلکہ ایک ایسے تبدیلی کے سفر کا آغاز کر رہے ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے مواقع اور چیلنجز کے لیے تیار کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی دنیا بھر میں صنعتوں اور روزگار کے مواقع کو نئی شکل دے رہی ہے، جس کے باعث ڈیجیٹل مہارتیں مستقبل کی کامیابی کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔اس پروگرام کے تحت طلبہ کو مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس، پروجیکٹ مینجمنٹ، یوزر ایکسپیرینس (یو ایکس) ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، آئی ٹی سپورٹ اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیٹس نوجوانوں کے لیے باوقار ملازمتوں، کاروباری مواقع اور ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے دروازے کھولیں گے۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ اس پروگرام کو سندھ کی تمام سرکاری جامعات تک توسیع دی گئی ہے، تاکہ صوبے بھر کے باصلاحیت طلبہ کو مساوی مواقع میسر آ سکیں۔وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پروگرام میں خواتین، خصوصی افراد اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ ڈیجیٹل تعلیم روایتی رکاوٹیں ختم کرکے سب کے لیے مساوی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر سیکریٹری سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیک ویلی پاکستان نے وزیراعلیٰ سندھ کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

*این ای ڈی یونیورسٹی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح*

بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پہنچے، جہاں انہوں نے این ای ڈی یونیورسٹی، گوگل اور ٹیک ویلی پاکستان کے اشتراک سے قائم کیے گئے سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح کیا۔یونیورسٹی پہنچنے پر وزیراعلیٰ نے فیتہ کاٹ کر اس سہولت کا باضابطہ افتتاح کیا، جس کے بعد وہ ڈاکٹر سروش ایچ لودھی آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب سے این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے استقبالیہ خطاب کیا جبکہ چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع، گوگل، ٹیک ویلی پاکستان اور صوبائی محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کو مستقبل کی جانب ایک دروازہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سندھ کے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے دور کے لیے تیار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کپ آج ہم صرف ایک کمرے یا سہولت کا افتتاح نہیں کر رہے بلکہ مستقبل کی جانب ایک دروازہ کھول رہے ہیں۔ سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ سندھ کے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے این ای ڈی یونیورسٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری شعبے کی کسی جامعہ میں عالمی معیار کی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک براہِ راست رسائی فراہم کرنے کا یہ ایک انقلابی قدم ہے، جس سے طلبہ کو سیکھنے، تجربات کرنے، جدت لانے اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ طلبہ صرف نظریاتی طور پر مصنوعی ذہانت کا مطالعہ نہیں کریں گے بلکہ گوگل کے جیمنی پلیٹ فارم، جدید کروم بُک ڈیوائسز اور کلاؤڈ پر مبنی تعلیمی ٹولز کے ذریعے عملی تجربہ بھی حاصل کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے تعلیم، جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے فروغ کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور جامعات و صنعت کے ساتھ شراکت داری کو مزید فروغ دے گی۔انہوں نے گوگل اور ٹیک ویلی پاکستان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور این ای ڈی یونیورسٹی کی قیادت کو سندھ میں اپنی نوعیت کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی سہولت قائم کرنے پر سراہا۔ وزیراعلیٰ نے باضابطہ طور پر اس سہولت کا افتتاح کیا اور این ای ڈی یونیورسٹی، گوگل، ٹیک ویلی پاکستان، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اس منصوبے کو عملی شکل دینے پر مبارکباد دی۔یہ تینوں پروگرام مجموعی طور پر سندھ کی ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمرانی، بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کو یکجا کرتے ہوئے سرکاری اداروں اور سندھ کے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے مستقبل کے مواقع کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button