*خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے سی آرٹس کے تحت پہلے رہائشی مرکز کا افتتاح کردیا*

پاکستان کی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے پیر کو کراچی کے علاقے کورنگی میں سینٹر فار آٹزم ری ہیبلیٹیشن اینڈ ٹریننگ، سندھ (سی آرٹس) کے تحت قائم پاکستان میں آٹزم کے شکار بچوں کے لیے پہلے خصوصی رہائشی مرکز کا افتتاح کیا۔ یہ اہم اقدام آٹزم کے شکار بچوں کو جامع، طویل المدتی اور خصوصی نگہداشت فراہم کرنے اور ان کے خاندانوں کی معاونت کے لیے ملک کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس منصوبے کو آٹزم کے شکار بچوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے امید، شمولیت اور وقار کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی مرکز سندھ حکومت کے اس غیر متزلزل عزم کا عکاس ہے کہ آٹزم کے شکار ہر بچے کو معیاری تشخیص، تعلیم، بحالی، زندگی کی مہارتوں کی تربیت اور آزاد مستقبل کے مواقع تک رسائی حاصل ہو۔تقریب میں سیکریٹری محکمہ بااختیاری برائے افراد معذوری طحہٰ فاروقی، سفارتی اور ترقیاتی برادری کے ارکان، آٹزم کے ماہرین، ماہرین تعلیم، والدین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ چیف آٹزم کنسلٹنٹ اور سی آرٹس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ ارم رضوان نے شرکا کو ادارے کی خدمات اور مستقبل میں توسیع کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔نئے افتتاح کیے گئے مرکز کو آٹزم کے شکار ایسے بچوں کے لیے محفوظ اور معاون ماحول فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جنہیں خصوصی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں رہائشی سہولت، علاج معالجے کی خدمات، تعلیمی پروگرام، رویوں سے متعلق معاونت، زندگی کی مہارتوں کی تربیت اور فنی تربیت ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائے گی۔سی آرٹس حکام کے مطابق یہ مرکز تقریباً 250 بچوں کو سہولیات فراہم کرے گا اور شواہد پر مبنی آٹزم مداخلتی پروگراموں میں تربیت یافتہ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیم کے ذریعے کام کرے گا۔ مرکز میں دو اہم خدمات فراہم کی جائیں گی جن میں شدید رویوں کے مسائل کا سامنا کرنے والے بچوں کے لیے مختصر مدت کی پیشہ ورانہ نگہداشت اور ایسے آٹزم کے شکار بچوں کے لیے طویل المدتی رہائشی نگہداشت شامل ہے جن کا کوئی سرپرست نہیں یا جنہیں خاندان کی مناسب معاونت حاصل نہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب 2018 میں سی-آرٹس قائم کیا گیا تو اس کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی تھی کہ آٹزم کے شکار ہر بچے کو سیکھنے، ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ ادارہ پاکستان میں آٹزم کے شکار افراد کے لیے معاونت اور بحالی کے سب سے بڑے نیٹ ورک میں تبدیل ہوچکا ہے، جو 1,500 سے زائد بچوں اور ان کے خاندانوں کو خدمات فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کا افتتاح محض ایک عمارت کا افتتاح نہیں بلکہ بچوں، والدین اور خاندانوں کے لیے امید کے نئے دروازے کھولنے کا آغاز ہے۔ یہ مرکز ایک ایسا گھر ہے جہاں بچوں کو سمجھا، عزت دی اور اپنی صلاحیتوں اور ہنر کو دریافت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ آٹزم کے شکار افراد کی معاونت کے لیے سندھ حکومت کا عزم پورے صوبے تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی، حیدرآباد، شہید بینظیرآباد، گمبٹ، سکھر اور لاڑکانہ میں سی آرٹس کے 10 مراکز اس وقت فعال ہیں، جہاں تشخیص، تعلیم، بحالی، رویوں سے متعلق تھراپی، زندگی کی مہارتوں کی تربیت، فنی ترقی اور خاندانوں کی مشاورت سمیت مفت خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔خصوصی آٹزم خدمات تک رسائی مزید بڑھانے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ گلشن اقبال ٹاؤن، ماڈل کالونی، پریمیئر کالج ناظم آباد، سومار کنڈانی ولیج، لانڈھی، ناظم آباد، حیدرآباد، مٹیاری، میرپورخاص، لاڑکانہ، ٹنڈو محمد خان، سکھر اور شہید بینظیرآباد میں مزید 13 سی آرٹس یونٹس زیر تعمیر یا تکمیل کے قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی مراکز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور جلد فعال ہوجائیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے لانڈھی، ملیر، نارتھ ناظم آباد اور بحریہ ٹاؤن میں تین جدید سی-آرٹس انکلیوسو پارکس کے قیام کا بھی اعلان کیا بشرطیکہ مناسب اراضی دستیاب ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ان پارکس میں خصوصی ضروریات کے مطابق کھیلوں کا سامان، حسی سہولیات سے ہم آہنگ جگہیں اور محفوظ تفریحی ماحول فراہم کیا جائے گا، جہاں ہر صلاحیت کے بچے مل کر کھیل اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ شمولیت صرف پالیسیوں اور دستاویزات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اسے ہمارے اسکولوں، محلوں، کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر بھی نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انکلیوسو پارکس بچوں میں سمجھ بوجھ، ہمدردی اور قبولیت کو فروغ دیں گے اور آٹزم کے شکار بچوں کو معاشرتی زندگی میں بھرپور شرکت کے مواقع فراہم کریں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سی آرٹس ماڈل کی کامیابی نے سندھ سے باہر بھی توجہ حاصل کی ہے اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے بلوچستان اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی حکومتوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ ان علاقوں میں آٹزم مراکز کے قیام کے لیے تکنیکی مہارت اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کی جاسکے۔انہوں نے خدمات کے اس دائرہ کار میں توسیع کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ایک جامع اور مساوی پاکستان کے وژن سے منسوب کیا اور کہا کہ آٹزم کے شکار ہر بچے کو، چاہے وہ ملک کے کسی بھی حصے میں رہتا ہو، معیاری نگہداشت، تعلیم اور ترقی کے مواقع حاصل ہونے چاہئیں۔پاکستان کی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے آٹزم کے شکار بچوں سے براہ راست ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاشرے کے قابل قدر، باصلاحیت اور اہم ارکان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹزم بچوں کی صلاحیتوں کا تعین نہیں کرتا۔ ہر بچے میں منفرد صلاحیتیں، قابلیتیں اور خواب موجود ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ ترقی کرسکیں، اعتماد کے ساتھ سیکھ سکیں اور فخر کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت تعلیم، بحالی، معاشرے میں شمولیت اور معاونتی نظام میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ آٹزم کے شکار بچوں کو اپنی بھرپور صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے بااختیار بنایا جاسکے۔انہوں نے محکمہ بااختیاری برائے افراد معذوری، سی-آرٹس کی قیادت اور عملے، بالخصوص چیف آٹزم کنسلٹنٹ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ ارم رضوان کو سندھ بھر میں آٹزم کی خدمات کے فروغ کے لیے ان کی محنت اور لگن پر خراج تحسین پیش کیا۔سی آرٹس ریزیڈینشل کا افتتاح پاکستان میں آٹزم کی نگہداشت کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس کے ذریعے ایک ایسا منفرد ماڈل قائم کیا گیا ہے جس میں ایک ہی ادارے کے تحت تشخیص، بحالی، تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور رہائشی معاونت کو یکجا کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ مرکز آٹزم کی خدمات کے لیے ایک نیا معیار قائم کرے گا اور زیادہ جامع اور ہمدرد معاشرے کے قیام کی کوششوں کو تقویت دے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ نیا رہائشی مرکز بچوں کے لیے امید، والدین کے لیے اطمینان اور معاشرے کے لیے ترقی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر ایسا سندھ بنانا ہے جہاں ہر فرد، اس کی صلاحیت سے قطع نظر، قابل قدر، قابل احترام اور کامیابی کے لیے بااختیار ہو۔

جواب دیں

Back to top button