لاہور کی پرانی آئیڈیل ہاؤسنگ سکیم گارڈن ٹاؤن میں غیرقانونی تعمیرات کی بھرمار،رہائشی ایریاز میں کثیر المنزلہ عمارتوں اور دفاتر سے رہائشیوں کا سکون برباد

لاہور(بلدیات ٹائمز ڈاٹ کام)ایل ڈی اے ٹاؤن پلاننگ زون تھری کے افسران نے لاہور کی آئیڈیل ہاؤسنگ سکیم گارڈن ٹاؤن کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ماسٹر پلان کے برعکس تعمیرات گارڈن ٹاؤن کے 12 بلاکس میں بڑے پیمانے پر مکمل اور تعمیر کروائی جا رہی ہیں۔جن میں گارڈن بلاک، احمد بلاک،ابوبکر بلاک ،علی بلاک ،عثمان بلاک ،ٹیپو بلاک، اورنگزیب بلاک،شیر شاہ بلاک،طارق بلاک،عطا ترک بلاک،ایبک بلاک،بابر بلاک شامل ہے۔غیر قانونی ،بغیر نقشہ منظوری اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزیاں کروا کر جہاں رہائشی تعمیرات کروائی جا رہی ہیں وہاں رہائشی ایریاز میں کمرشلائزیشن اور کنورژن کے بغیر کمرشل پلازے کثیر المنزلہ تعمیرات کی بھی بھرمار ہے۔61،62 ٹیپو بلاک،51 بابر بلاک،15 شیر شاہ بلاک، 11 شیر شاہ بلاک،72 اتاترک بلاک،38 طارق بلاک، 91 اورنگزیب بلاک، 69 اے ابو بکر بلاک سمیت درجنوں بڑی غیر قانونی تعمیرات شروع اور مکمل کروا کر ایل ڈی اے کو جہاں نقشہ فیس، کمرشلائزیشن، کنورژن فیس کی مد میں بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے وہاں شہر کی اس آئیڈیل سیکم جو ایک کنال سے چار کنال کے گھروں پر مشتمل ہے کہ رہائشیوں کا سکون بھی برباد ہو گیا ہے ۔فیروز پور روڈ، کنال روڈ،وائی جنکشن، نیو مسلم ٹاؤن تا قذافی اسٹیڈیم روڈ،فیصل ٹاؤن روڈ،ماڈل ٹاؤن کے درمیان واقعہ یہ سکیم غیر قانونی تعمیرات کا گڑھ بن چکی ہے جس کا پھیلاؤ ملحقہ ایریاز تک ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کے لئے بھی خطرہ بن چکا ہے۔ایل ڈی اے ٹاؤن پلاننگ زون تھری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنید اور ڈپٹی ڈائریکٹر عتیق ان غیر قانونی تعمیرات میں ملوث پائے گئے ہیں۔برکت مارکیٹ کے ساتھ ساتھ گارڈن ٹاؤن کی چھوٹی مارکیٹوں کے ساتھ رہائشیوں کو کثیر المنزلہ عمارتوں میں تبدیل کروا کر کروڑوں روپے وصول کئے گئے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ گارڈن ٹاؤن وہ سکیم ہے جہاں اہم سیاسی شخصیات، سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے علاوہ عدلیہ کے نامور ججز، بیوروکریٹس اور معروف کاروباری شخصیات کے گھروں کے علاوہ سب سے زیادہ کرائے پر سرکاری دفاتر ہیں۔گارڈن ٹاؤن کے مکینوں نے وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین، سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد اور ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق سے 12 بلاکس کا تھرڈ پارٹی سروے کروانے،غیر قانونی اور ماسٹر پلان کی خلاف ورزیاں کر کے کروائی جانے والی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی اپیل کی ہے اور ذمہ داران افسران کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔جن کی وجہ سے گارڈن ٹاؤن جیسی کشادہ ترین سکیم سکڑ رہی ہے،ٹریفک کے مسائل کے ساتھ، غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں سے مکینوں کا جینا عذاب بن چکا ہے۔

جواب دیں

Back to top button