سرکلر روڈ پر آزادی فلائی اوور سے پہلے دوسرا ڈانسنگ فاؤنٹین بھی لگایا جا رہا ہے،ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق

ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے صوبائی دارالحکومت میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا،اس موقع پر چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید اور چیف انجینئر ٹیپا اقرار حسین نے انہیں مختلف منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ڈی جی ایل ڈی اے نے ریلوے اسٹیشن اور بھاٹی چوک انڈر پاس کا دورہ کیا۔انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے پارکنگ ایریا میں نصب کیے گئے ڈانسنگ فاؤنٹین کا بھی جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ایل ڈی اے نے لاہور میں 100فٹ سے زائد اونچائی کے حامل پہلے رنگا رنگ ڈانسنگ فاؤنٹین کو نصب کیاہے۔13 اور 14 اگست کو شہری بڑی تعداد میں رنگارنگ ڈانسنگ فاؤنٹین،جشن آزادی کے تھیم اور خوبصورت سٹنگ ایریاز سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

اس موقع پرڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے کہا کہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے پارکنگ ایریا اور ری ماڈلنگ سے پورے علاقے کو نئی اورجدید شکل ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکلر روڈ پر آزادی فلائی اوور سے پہلے دوسرا ڈانسنگ فاؤنٹین بھی لگایا جا رہا ہے،انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے اطراف فنشنگ کے کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قلیوں کے بیٹھنے کے لیے جگہ پر کام جلد مکمل کرنے، پنکھے لگانے ،پانی کا انتظام کرنے اورشہریوں کی رہنمائی کے لیے ٹریفک سائنیج بھی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ڈی جی ایل ڈی اے نے داتا دربار کے باہری حصے میں جاری کاموں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔انہیں بتایاگیاکہ داتا دربار کے سامنے پیڈسٹرین انڈر پاس پر بزرگ شہریوں کے لیےایسکیلیٹرز بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔ ڈی جی ایل ڈی اے نے پیڈسٹرین انڈر پاس کے فنشنگ ورک کو بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔بھاٹی چوک انڈر پاس کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ تعمیراتی کام مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ لین مارکنگ بھی کر لی گئی ہے۔ ڈی جی ایل ڈی اے نے بھاٹی چوک انڈر پاس کے بیرل پر جاری بیوٹیفکیشن ورک کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے سرکلر روڈ پر پروٹیکٹڈ یوٹرن کے کام بھی آئندہ چند روز میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔چیف انجینئر ٹیپا نے بیوٹیفکیشن، سروس روڈ اور پروٹیکٹڈ یو ٹرن کے باقی کام آئندہ چند روز میں مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے سرکلر روڈ پر مزدوروں کے بیٹھنے کے لیے گوشہ مزدور جلد بنانے کی بھی ہدایت کی۔اس موقع پر ٹیپا، ایل ڈی اے، کنٹریکٹر اور نیسپاک کے متعلقہ حکام موجود تھے۔

جواب دیں

Back to top button