*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے این آئی سی وی ڈی میں جدید ترین شعبہ ایمرجنسی کا سنگ بنیاد رکھ دیا*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) میں 100 بستروں پر مشتمل جدید ترین امراض قلب کے ایمرجنسی شعبے کا سنگ بنیاد رکھا اور منصوبے کو ہنگامی طبی سہولیات کے استحکام اور ملک بھر سے آنے والے مریضوں کے لیے زندگی بچانے والے امراض قلب کے علاج کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

یہ منصوبہ حکومت سندھ، این آئی سی وی ڈی پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن اور ہلٹن فارما کے اشتراک سے قائم کیا جا رہا ہے، جس سے ادارے کی ہنگامی طبی سہولیات کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور فوری تشخیص، انتہائی نگہداشت اور ہنگامی طبی مداخلت کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ مریضوں کے لیے موزوں ماحول فراہم کیا جائے گا۔سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ منصوبہ محض تعمیراتی اقدام سے کہیں بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک اور تعمیراتی منصوبے کا آغاز نہیں بلکہ ایسی سہولت کا آغاز ہے جو زندگیاں بچائے گی، خاندانوں کو امید فراہم کرے گی اور پاکستان کے سب سے بڑے اور قابل اعتماد امراض قلب کے ادارے کو مزید مضبوط بنائے گی۔تقریب میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر ڈاکٹر طاہر صغیر، سینئر ڈاکٹرز، طبی ماہرین، مخیر حضرات، عطیہ دہندگان، ہلٹن فارما کے نمائندگان، پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے اراکین اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یاد دلایا کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) اور این آئی سی وی ڈی پہلے وفاقی حکومت کے زیر انتظام تھے۔ تاہم 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت نے ان اداروں کے لیے بجٹ مختص نہیں کیا اور سندھ حکومت کو آگاہ کیا کہ ان اداروں کی ذمہ داری اب اسے سنبھالنا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت جب سید قائم علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ تھے، سندھ حکومت سے جے پی ایم سی، این آئی سی وی ڈی اور این آئی سی ایچ کے لیے 900 ملین روپے فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جون میں سالانہ بجٹ مختص کیے جانے کے بعد فنڈز کا انتظام مشکل تھا، تاہم سندھ حکومت نے جولائی میں فوری اقدامات کرتے ہوئے ان اہم طبی اداروں کی بلا تعطل فعالیت کو یقینی بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے اسپتالوں کی معاونت کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے نہ صرف ان تینوں اداروں کو برقرار رکھا بلکہ گزشتہ برسوں کے دوران ان کی سہولیات میں نمایاں اضافہ کیا اور ان کے بجٹ بھی بڑھائے۔ انہوں نے جے پی ایم سی، این آئی سی ایچ اور این آئی سی وی ڈی کو ملک میں کامیاب سرکاری و نجی شراکت داری کی بہترین مثالوں میں شمار کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے 2016 میں وزیراعلیٰ بننے کے بعد جے پی ایم سی کے دورے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے چیئرمین مشتاق چھاپرا نے انہیں مختلف سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کرایا تھا۔ فاؤنڈیشن کے عزم سے متاثر ہوکر انہوں نے اعلان کیا تھا کہ فاؤنڈیشن کی جانب سے دیے جانے والے ہر ایک روپے کے مقابلے میں سندھ حکومت بھی اتنی ہی رقم فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ، ہم نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا اور ہر سال عوام کی خدمت میں اسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے مزید بتایا کہ 2018 میں ایک نئی وفاقی حکومت نے ان اداروں کو دوبارہ وفاقی کنٹرول میں لینے کی کوشش کی۔ تاہم سندھ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ صوبے نے ان اسپتالوں کو مضبوط بنانے اور ان کی توسیع کے لیے خاطر خواہ وسائل خرچ کیے ہیں، اس لیے وہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بناتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج این آئی سی وی ڈی کی ترقی اور کامیابی، جس میں اس کے نئے ایمرجنسی بلاک کا افتتاح بھی شامل ہے، سندھ حکومت کے عوام کو جدید، قابل رسائی اور مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔

*بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنا*

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی مکمل طور پر مفت امراض قلب کا علاج فراہم کرکے اور اس بات کو یقینی بناکر سرکاری شعبے کی صحت کی سہولیات کی کامیاب ترین مثالوں میں شامل ہوگیا ہے کہ زندگی بچانے والے طبی علاج تک رسائی مریض کی مالی حیثیت کے بجائے طبی ضرورت کی بنیاد پر ہو۔انہوں نے بتایا کہ این آئی سی وی ڈی کے ایمرجنسی شعبے میں روزانہ ایک ہزار سے ایک ہزار 200 مریض آتے ہیں، جن میں سے بہت سے سندھ کے دور دراز علاقوں اور دیگر صوبوں سے سفر کرکے پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کی یہ غیر معمولی تعداد اس ادارے اور اس کے طبی ماہرین پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے تاہم اس کے ساتھ موجودہ سہولیات پر بھی بہت زیادہ دباؤ پڑتا ہے، جس کے باعث توسیع ناگزیر ہے۔سید مراد علی شاہ نے زور دیا کہ امراض قلب کی ہنگامی صورتحال میں ہر سیکنڈ اہم ہوتا ہے اور تاخیر زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ صحت کی سہولیات کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل وسعت دیں اور جدید بنائیں تاکہ مریضوں کو ضرورت کے وقت بروقت اور مؤثر علاج مل سکے۔

*جدید ایمرجنسی سہولت*

نئے ایمرجنسی شعبے میں ٹرائیج یونٹ، بحالیٔ تنفس و قلب یونٹ، انتہائی نگہداشت یونٹ، اہم طبی فیصلوں کا یونٹ، اسٹیٹ لیبارٹری، فوری علاج کی سہولت، فارمیسی، انتظار گاہ، معاونت مرکز اور دیگر ضروری معاون سہولیات شامل ہوں گی، جن کا مقصد مریضوں کی آمد و رفت بہتر بنانا اور ہنگامی طبی ردعمل کو مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ منصوبہ تقریباً 8 ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

*موجودہ بنیادی ڈھانچے کا مؤثر استعمال*

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 5 دسمبر 2025 کو این آئی سی وی ڈی کے جدید ترین آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈی) کمپلیکس کا افتتاح کیا تھا۔ او پی ڈی کی خدمات نئے کمپلیکس میں منتقل کیے جانے کے بعد سابق او پی ڈی عمارت کو اب امراض قلب کے لیے مخصوص ایمرجنسی سہولت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی بہترین مثال ہے، جس کے ذریعے مریضوں کی بدلتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ بنیادی ڈھانچے کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے صحت کی سہولیات کی استعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

*این آئی سی وی ڈی کا بڑھتا ہوا دائرہ کار*

وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی وی ڈی کو ملک بھر سے آنے والے مریضوں کی خدمت کرنے والا قومی ادارہ بننے پر سراہا۔ پروفیسر طاہر صغیر کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق این آئی سی وی ڈی نے صرف 2025 کے دوران 16 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا، جبکہ 2014 میں تقریباً 5 لاکھ 83 ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا تھا، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران طبی خدمات کی فراہمی میں غیر معمولی اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔2019سے 2025 کے دوران سندھ سے باہر کے 13 لاکھ 20 ہزار سے زائد مریضوں نے این آئی سی وی ڈی کراچی سے علاج حاصل کیا، جن میں بلوچستان سے 9 لاکھ 6 ہزار سے زائد، پنجاب سے 3 لاکھ 4 ہزار، خیبر پختونخوا سے ایک لاکھ ایک ہزار اور آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہزاروں مریض شامل تھے۔تقریب کے شرکاء کو بتایا گیا کہ 2025 کے دوران این آئی سی وی ڈی میں 9 ہزار 279 پرائمری پی سی آئیز، 18 ہزار 875 انجیوگرافیز اور ایک ہزار 489 امراض قلب کی سرجریز کی گئیں، جبکہ 54 ہزار سے زائد مریض داخل کیے گئے اور تقریباً 2 لاکھ 97 ہزار ایمرجنسی طبی مشاورت فراہم کی گئی۔

*بچوں کے لیے توسیعی منصوبہ جاری*

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ این آئی سی وی ڈی میں بچوں کے لیے الگ 7 منزلہ، 300 بستروں پر مشتمل امراض قلب یونٹ زیر تعمیر ہے۔ اس سہولت میں 5 آپریشن تھیٹرز، 4 کیتھیٹرائزیشن لیبارٹریز، ایک ہائبرڈ لیب، سی ٹی اور ایم آر آئی کی سہولیات اور بچوں کے امراض قلب کے علاج کی مکمل خصوصی خدمات شامل ہوں گی۔علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کے لیے 250 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش رکھنے والا نیا کانفرنس ہال اور لائبریری بھی قائم کی جا رہی ہے۔

*طبی عملے کو خراج تحسین*

طبی ماہرین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈکس، ٹیکنیشنز اور معاون عملے کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لگن، پیشہ ورانہ مہارت اور ہمدردی اس ادارے کی اصل طاقت ہے۔ وہ روزانہ زندگیاں بچاتے ہیں اور مشکل ترین لمحات میں مریضوں اور ان کے خاندانوں کو سہارا فراہم کرتے ہیں۔

*عطیہ دہندگان اور شراکت داروں کی تعریف*

سید مراد علی شاہ نے ہلٹن فارما، پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن اور دیگر مخیر حضرات کا شکریہ ادا کیا جن کی معاونت سے یہ منصوبہ ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے کی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوسکتی۔ پائیدار ترقی کے لیے سرکاری اداروں، نجی تنظیموں، مخیر حضرات اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی شراکت داریاں ہمیں خدمات میں توسیع، اداروں کو مضبوط بنانے اور زیادہ ضرورت مند افراد تک پہنچنے کے قابل بناتی ہیں۔

*وزیر صحت کا خطاب*

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ امراض قلب کی نئی ایمرجنسی سہولت ہنگامی طبی ردعمل کی صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط بنائے گی اور تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کے علاج کے نتائج بہتر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی سرکاری شعبے کی صحت کی سہولیات میں بہترین کارکردگی کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید ایمرجنسی شعبے کے اضافے سے ہر سال ہزاروں مریضوں کو بروقت، معیاری اور مکمل طور پر مفت امراض قلب کی سہولیات فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت مزید بہتر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صحت کے بنیادی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی طبی سہولیات میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی میں ہر توسیع کا مطلب مزید جانیں بچانا، فوری طبی مداخلت اور سندھ اور پاکستان کے عوام کے لیے صحت کی بہتر سہولیات تک رسائی ہے۔

*منصوبے پر بریفنگ*

اس سے قبل این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طاہر صغیر نے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی اور امراض قلب کے علاج، طبی تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں این آئی سی وی ڈی کی کامیابیوں کو اجاگر کیا۔انہوں نے بتایا کہ نئے ایمرجنسی شعبے کو رفتار، تحفظ اور طبی مہارت کے اصولوں کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں امراض قلب کی ہنگامی صورتحال کے فوری جائزے، مریضوں کو مستحکم کرنے اور علاج کے لیے مخصوص سہولیات موجود ہوں گی۔پروفیسر طاہر صغیر نے سرکاری صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل تعاون اور عزم پر حکومت سندھ، پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن اور ہلٹن فارما کا شکریہ ادا کیا۔تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ 100 بستروں پر مشتمل نیا امراض قلب ایمرجنسی شعبہ امید، علاج اور بہترین طبی خدمات کی علامت بنے گا اور خطے کے معروف امراض قلب کے اداروں میں این آئی سی وی ڈی کی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا۔

جواب دیں

Back to top button