وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت زراعت، غذائی تحفظ اور دیہی ترقی سے متعلق سندھ کابینہ کے ایک اہم اجلاس میں تاریخی "سندھ فارمرز ایگریکلچرل کلیکٹوز ایکٹ، 2026” کی منظوری دے دی گئی، گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کا حکم، محکمہ خوراک کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے اصلاحات کا آغاز اور پاکستان کی گندم کی معیشت میں بنیادی تبدیلی لانے کے مقصد سے تیار کردہ قومی گندم پالیسی 2026 تا 2030 کے مسودے کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں زراعت کی جدید کاری، جامع تعلیم، جیلوں کی سکیورٹی، ریونیو اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ریسکیو-1122 اہلکاروں کی فلاح، ماہی گیری کی نگرانی اور سندھ میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی میں توسیع سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔سینئر وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر، وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں اور وزیر ماہی گیری محمد علی ملکانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔
*زراعت میں تاریخی اصلاحات*
دیہی معیشت میں بنیادی تبدیلی کے لیے سندھ کابینہ نے "سندھ فارمرز ایگریکلچرل کلیکٹوز ایکٹ، 2026” کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی، جس کے بعد اسے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔مجوزہ قانون سازی کا مقصد چھوٹے کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنی زمین، وسائل اور زرعی مشینری کو مشترکہ طور پر استعمال کرسکیں، مالی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کریں اور براہ راست زیادہ منافع بخش منڈیوں سے منسلک ہوسکیں۔کسان تنظیموں، سندھ چیمبر آف ایگریکلچر، سندھ آبادگار بورڈ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیے گئے اس بل میں اجتماعی کاشتکاری اور زرعی کاروبار کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔ اس میں ایک سے 25 ایکڑ تک زمین کے مالک یا کاشتکار کو چھوٹا کسان قرار دیا گیا ہے جبکہ اجتماعی نظام کا دائرہ مویشی بانی اور اندرونِ سندھ ماہی گیری تک بھی بڑھایا گیا ہے۔قانون میں "ایک رکن، ایک ووٹ” کے اصول پر مبنی جمہوری طرز حکمرانی متعارف کرائی گئی ہے، خواتین اور خواجہ سرا افراد کی نمائندگی لازمی قرار دی گئی ہے، منافع کی شفاف تقسیم کا نظام وضع کیا گیا ہے، جبکہ کاربن کریڈٹ اور ماحولیاتی خدمات کی منڈیوں میں شمولیت کے مواقع بھی فراہم کیے گئے ہیں۔قانون پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے "سندھ ایگریکلچرل کلیکٹوز ریگولیٹری اتھارٹی” کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو اجتماعی اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کرے گی، ڈیجیٹل گورننس پلیٹ فارم فراہم کرے گی، ای کامرس روابط کو فروغ دے گی، موسمیاتی اور زرعی آفات کے خطرات کے انتظام میں معاونت کرے گی اور تنازعات کے حل کا نظام بھی وضع کرے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت کو یقین ہے کہ یہ اقدام زرعی مشینی کاری کو فروغ دے گا، کسانوں کی سودے بازی کی قوت میں اضافہ کرے گا، انہیں آڑھتیوں پر انحصار سے نجات دلائے گا اور صوبے بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔
*گندم کی ذخیرہ اندوزی اور غذائی تحفظ*
کابینہ کو بتایا گیا کہ مالی سال27-2026 کے دوران سندھ کو تقریباً 15 لاکھ 90 ہزار ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہوگا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت سرکاری امدادی نرخ 3,500 روپے فی 40 کلوگرام سے نمایاں حد تک بڑھ چکی ہے۔محکمہ خوراک نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ فلور ملز، تاجروں اور نجی ذخیرہ اندوزوں کے پاس گندم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جس کی وجہ سے قیاس آرائیاں اور قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کابینہ سے مشاورت کے بعد آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور صارفین کے تحفظ کے لیے ذخیرہ اندوزی کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
*محکمہ خوراک کی ڈیجیٹلائزیشن*
وسیع تر اصلاحات کے تحت کابینہ نے سندھ میں گندم کی خریداری، ذخیرہ، نقل و حمل اور اجرا کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے "انٹیگریٹڈ ویٹ مینجمنٹ سسٹم” قائم کرنے کی تجویز پر غور کیا۔
محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس اقدام کی توثیق کرتے ہوئے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کو اس عمل میں شامل کرنے کی سفارش کی۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت دی کہ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کیا جائے، شفافیت کو فروغ دیا جائے اور اجناس کے انتظام کے جدید طریقہ کار اختیار کیے جائیں۔مراد علی شاہ نے گندم سے متعلق امور میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ محکمہ خوراک کو مرحلہ وار ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی ریگولیٹری ادارے میں تبدیل کیا جائے جو بنیادی طور پر پالیسی سازی، نگرانی اور غذائی تحفظ پر توجہ دے۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے بتایا کہ محکمہ خوراک کی ڈیجیٹلائزیشن محکمہ خوراک میں متعارف کرائے جانے والے اصلاحاتی پیکج کا حصہ ہے۔
*سندھ فشریز سکیورٹی سروس*
کابینہ نے صوبے کے ساحلی علاقوں میں نگرانی اور قانون پر عملدرآمد کو مؤثر بنانے کے لیے سندھ رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن آف فشنگ جیٹیز رولز، 2022 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ 64 غیر مجاز فشنگ جیٹیز کی نشاندہی کے بعد کیا گیا۔ترامیم کے تحت میرین فشریز کنزرویشن پولیس کا نام تبدیل کرکے "سندھ فشریز سکیورٹی سروس” رکھا جائے گا، جس کی سربراہی ڈسٹرکٹ فشریز کنزرویشن آفیسر کرے گا۔ یہ ادارہ سمندری وسائل کی نگرانی، کنٹرول اور سرویلنس کے فرائض انجام دے گا۔کابینہ نے پہلے سے منظور شدہ 300 آسامیوں کے لیے 23 کروڑ 65 لاکھ 50 ہزار روپے کے اخراجات کی توثیق بھی کی جبکہ ساحلی نگرانی اور قانون پر عملدرآمد کو مؤثر بنانے کے لیے تین اسپیڈ بوٹس کی خریداری کی مد میں مزید 6 کروڑ 30 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی۔
*ریسکیو 1122 اہلکاروں کے لیے فلاحی پیکج*
ہنگامی امدادی کارروائیوں کے دوران اپنی جانوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر کابینہ نے ریسکیو 1122 کے دورانِ ڈیوٹی جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ کے لیے مالی معاونت کا پالیسی فریم ورک منظور کر لیا۔
اس پیکج کے تحت ایک کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ، تین لاکھ روپے تدفین اخراجات، لواحقین کے لیے تنخواہ کے تسلسل یا ملازمت کی فراہمی جبکہ 50 لاکھ روپے کی گروپ لائف انشورنس شامل ہوگی۔فوائد کی اہلیت کا تعین اور ادائیگیوں کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ویلفیئر کمپنسیشن کمیٹی قائم کی جائے گی۔
*حیدرآباد فلائی اوور منصوبہ دوبارہ شروع*
کابینہ نے محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے ذریعے حیدرآباد میں طویل عرصے سے تعطل کا شکار شہید محترمہ بینظیر بھٹو فلائی اوور منصوبے کی تکمیل کی منظوری دے دی۔یہ منصوبہ اصل میں مالی سال 17-2016 میں شروع کیا گیا تھا، تاہم 24 برج گرڈرز کی تعمیر سمیت نمایاں پیش رفت کے باوجود تعطل کا شکار ہوگیا تھا۔ اب اس منصوبے کا باقی ماندہ کام ساختی جانچ اور قانونی و تکنیکی تقاضے پورے ہونے کے بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
*قومی گندم پالیسی*
کابینہ نے وفاقی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے بھجوائے گئے قومی گندم پالیسی 2026 تا 2030 کے مسودے کا جائزہ لیا۔مجوزہ پالیسی کا مقصد حکومتی سطح پر گندم کی خریداری کے موجودہ نظام کو مرحلہ وار مارکیٹ پر مبنی نظام میں تبدیل کرنا، سبسڈی کا بوجھ کم کرنا، نجی شعبے کے تحت منظم ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ افزائی کرنا، محدود اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنا اور بہتر بیج، زرعی مشینی کاری اور معیاری زرعی مداخلتوں کے ذریعے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔سندھ کا مؤقف مرتب کرنے کے لیے وزیراعلیٰ نے سیکریٹری خوراک، سیکریٹری زراعت اور سیکریٹری قانون پر مشتمل کمیٹی قائم کردی، جو پالیسی کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی۔
*شوگر سیکٹر سے متعلق سندھ کا مؤقف*
کابینہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن سے متعلق مشاہدات پر بھی غور کیا اور سندھ میں نئی شوگر ملوں کے قیام کی مخالفت کے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ شوگر ملوں کی لائسنسنگ، قیمتوں کے تعین اور نگرانی کے اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس ہی رہنے چاہئیں، جبکہ مشروط ڈی ریگولیشن، مرحلہ وار تجارتی آزادی اور مؤثر مسابقتی حفاظتی اقدامات کی حمایت کی تاکہ کاشتکاروں، صارفین اور ماحولیات کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
*جامع تعلیم کے لیے آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ شراکت داری*
کابینہ نے محکمہ بااختیار افرادِ معذوری اور آغا خان یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ کو سندھ بھر میں جامع تعلیم کے فروغ کے لیے پانچ سالہ معاہدے پر دستخط کرنے کی اجازت دے دی۔اس منصوبے کے تحت آغا خان یونیورسٹی میں خصوصی تعلیم کا یونٹ قائم کیا جائے گا، دو ہزار سے زائد اساتذہ کو تربیت دی جائے گی، ماڈل اسکولز اور تدریسی وسائل تیار کیے جائیں گے جبکہ تقریباً 24 ہزار طلبہ اس سے مستفید ہوں گے۔ سندھ حکومت 27 کروڑ 85 لاکھ 60 ہزار روپے جبکہ آغا خان یونیورسٹی 16 کروڑ 6 لاکھ 50 ہزار روپے فراہم کرے گی۔
*سندھ جیلوں کے لیے اسلحہ*
کابینہ نے انسپکٹر جنرل سندھ جیل خانہ جات کو پاکستان آرڈیننس فیکٹری سے 212 چینی سب مشین گنز خریدنے کی اجازت دے دی۔ یہ فیصلہ مالی سال17-2016 سے زیر التوا خریداری کے معاملے کو نمٹانے کے لیے کیا گیا۔ اس وقت محکمہ جیل خانہ جات نے 535 روسی اے کے-103 رائفلوں کی خریداری کے لیے پاکستان آرڈیننس فیکٹری کو 4 کروڑ 63 لاکھ 94 ہزار 886 روپے ادا کیے تھے، تاہم روس پر بین الاقوامی پابندیوں کے باعث پاکستان آرڈیننس فیکٹری اصل معاہدہ پورا نہ کرسکی اور متبادل کے طور پر چینی سب مشین گنز فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ فی ہتھیار قیمت بڑھ کر 2 لاکھ 18 ہزار 820 روپے ہونے کے باعث پہلے سے ادا کی گئی رقم سے اب 212 ہتھیار خریدے جائیں گے۔
*ڈی ایچ اے فیز سیون ایکسٹینشن اسٹامپ ڈیوٹی*
بورڈ آف ریونیو نے ڈی ایچ اے کراچی فیز سیون ایکسٹینشن میں واقع 262 ایکڑ اراضی کی لیز پر اسٹامپ ڈیوٹی کی وصولی کے لیے حتمی طریقہ کار کابینہ کے سامنے پیش کیا۔کابینہ نے قانونی طور پر حتمی مؤخر ادائیگی منصوبے کی توثیق کردی، جس کے تحت 2 ارب 49 کروڑ 65 لاکھ 32 ہزار 500 روپے کی مکمل اسٹامپ ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ یہ رقم جولائی 2026 سے جنوری 2029 تک تین سال کے دوران چھ مساوی ششماہی اقساط میں وصول ہوگی، جن میں ہر قسط 41 کروڑ 60 لاکھ 88 ہزار 750 روپے ہوگی۔
*این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک*
کابینہ نے این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے لیے نظرثانی شدہ مالیاتی فریم ورک کی منظوری دے دی، جو سندھ حکومت کا ایک نمایاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبہ ہے۔
یہ منصوبہ ابتدا میں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کی حیثیت اور وفاقی مراعات کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے متعلق مالیاتی پابندیوں کے باعث نئے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کی منظوری رک جانے سے اس پر پیش رفت نہ ہوسکی۔منظور شدہ متبادل ماڈل کے تحت اگر تجارتی سرگرمیاں شروع ہونے کے تین سال بعد بھی منصوبے کی فروخت کے لیے دستیاب جگہ کا قبضہ مقررہ حد سے کم رہا تو سندھ حکومت مارکیٹ ریٹ پر زیادہ سے زیادہ 40 فیصد غیر استعمال شدہ فروختی رقبہ خریدنے کی مشروط ذمہ داری قبول کرے گی۔ کابینہ نے رعایتی معاہدے میں ضروری ترامیم اور منصوبے پر عملدرآمد کی بھی منظوری دے دی۔
*پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ تین سالہ سروس لیول ایگریمنٹ*
کابینہ نے بورڈ آف ریونیو اور پاکستان سنگل ونڈو کے درمیان نئے تین سالہ سروس لیول ایگریمنٹ کی منظوری دے دی۔ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کے ساتھ سابقہ معاہدہ 2025 میں ختم ہونے اور نظام کی پاکستان سنگل ونڈو کو منتقلی کے بعد نیا معاہدہ بلز آف انٹری (گڈز ڈیکلریشن) پر وصول کیے جانے والے دو ہزار روپے اسٹامپ ڈیوٹی کی ڈیجیٹل وصولی کا احاطہ کرے گا۔منظور شدہ سروس فیس، سندھ سیلز ٹیکس کے علاوہ، مالی سال 26-2025 کے لیے فی ادا شدہ بینک چالان 40 روپے جبکہ مالی سال 27-2026 اور 28-2027 کے لیے 44 روپے مقرر کی گئی ہے۔ معاہدے میں ریئل ٹائم مانیٹرنگ، ویو اونلی رسائی اور ای پے سندھ پلیٹ فارم کے ذریعے حسبِ ضرورت ریکنسلی ایشن رپورٹس سمیت مالیاتی نگرانی کے خصوصی انتظامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
*پاکستان رینجرز کی تعیناتی میں توسیع*
کابینہ نے سندھ پولیس کی معاونت کے لیے صوبے میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کی منظوری دے دی۔ یہ مدت 20 جولائی 2026 سے 19 جولائی 2027 تک ہوگی تاکہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت جاری رکھی جاسکے۔






