*سندھ اسمبلی نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ پر خراجِ عقیدت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی اسمبلی میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ قرارداد میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو پاکستان کی سابق وزیراعظم، ’’دخترِ مشرق‘‘ اور مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم قرار دیتے ہوئے ان کی جمہوریت، عوامی خدمت، آئینی بالادستی، سماجی انصاف، وفاقی ہم آہنگی، خواتین کے حقوق اور محروم طبقات کی فلاح کے لیے خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ 21 جون 1953ء کو جنم لینے والی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی پوری زندگی عوامی خدمت اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی قتل کے بعد انہوں نے قید و بند، تنہائی اور جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر آمریت کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ محترمہ بینظیر بھٹو جرات، استقامت اور جمہوری مزاحمت کی عالمی علامت بن گئیں۔ سنہ 1988ء میں ان کا وزیراعظم منتخب ہونا پاکستان کی سیاسی تاریخ اور مسلم دنیا میں خواتین کی قیادت کے حوالے سے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔ ایوان سندھ نے تعلیم اور صحت کی سہولیات کے فروغ، خواتین کی سیاسی و سماجی شمولیت، محنت کشوں، ہاریوں، اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی فلاح کے لیے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی خدمات کو بھی سراہا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ان کی پالیسیوں کا مقصد ایک ایسے سماج کا قیام تھا جہاں تمام شہریوں کو مساوی مواقع اور ترقی کے یکساں امکانات میسر ہوں۔ سندھ اسمبلی نے 27 دسمبر 2007ء کو جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی جدوجہد کے دوران شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا ایک فیصلہ کن اور یادگار باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ قرارداد میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے سیاسی نظریات نے پارلیمانی جمہوریت، وفاقی یکجہتی اور جمہوری اداروں کے استحکام کے حوالے سے قومی مکالمے کو نئی جہت دی اور ملکی ادارہ جاتی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ قرارداد کے ذریعے سندھ اسمبلی نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی، جدوجہد، کامیابیوں اور قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے جمہوری وژن، آئینی اقدار اور سماجی انصاف کے اصولوں سے وابستگی کا اعادہ کیا۔ ایوان نے پاکستان خصوصاً سندھ کے عوام کے لیے ان کی بے مثال خدمات کو سراہتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے درجات بلند فرمائے اور پاکستان کو ایک جمہوری، ترقی پسند اور خوشحال ریاست بنانے کی توفیق عطا فرمائے، جیسا کہ ان کا خواب تھا۔قبل ازیں؛ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 73ویں یومِ ولادت کے موقع پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو جمہوریت، عوامی حقوق، وفاقِ پاکستان اور خواتین کی سیاسی قیادت کی روشن علامت تھیں، جن کی جدوجہد اور قربانیاں قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش سرمایہ ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری اپنے پیغام میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت، انتہاپسندی اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف جرات، استقامت اور سیاسی بصیرت کی لازوال مثال قائم کی۔ انہوں نے ہر مشکل اور آزمائش کا سامنا کرتے ہوئے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے تاریخی جدوجہد کی، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان میں جمہوری روایات کے استحکام، خواتین کے حقوق کے فروغ اور محروم و پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی قیادت نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی خواتین کے لیے نئی راہیں متعین کیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وژن عوامی خدمت، رواداری، سماجی انصاف، وفاقی ہم آہنگی اور ایک ترقی پسند پاکستان کی تعمیر پر مبنی تھا۔ سندھ حکومت آج بھی ان کے افکار، عوام دوست پالیسیوں اور ترقیاتی وژن کی روشنی میں صوبے کے عوام کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج محترمہ بینظیر بھٹو کے 73ویں یومِ ولادت پر پوری قوم ان کی جمہوری جدوجہد، سیاسی بصیرت اور عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ جمہوریت، عوامی خدمت، آئین کی سربلندی اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن کو جاری رکھا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button