وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری شدید مون سون بارشوں، جانی نقصانات، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے پیشِ نظر تمام ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور تمام ضروری احتیاطی و ہنگامی اقدامات فوری طور پر یقینی بنانے کی ہدایت کی۔پی ڈی ایم اے کے دفتر میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے حالیہ موسمی پیش گوئی، بارشوں کے اعداد و شمار، فیلڈ رپورٹس اور متعلقہ اداروں کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ جاری مون سون کے دوران انسانی جانوں کا تحفظ اور عوام کو بلا تعطل بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے بحالی گیان چند اسرانی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، کمشنر کراچی سید حسن نقوی، سیکریٹری بحالی مصطفیٰ شیخ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی، جبکہ حیدرآباد، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد ڈویژن کے کمشنرز، بارش سے متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور حیسکو کے چیف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے ہنگامی صورتحال کے دوران ضلع سے غیر حاضر رہنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹاؤن میونسپل آفیسر (ٹی ایم او) عمرکوٹ کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ مون سون ایمرجنسی کے دوران تمام افسران اپنی متعلقہ تعیناتیوں پر موجود رہیں۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، بلدیاتی اداروں، پی ڈی ایم اے اور محکمہ آبپاشی کے افسران کے ساتھ مسلسل اجلاس کر رہے ہیں تاکہ انہیں موسمی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ رکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ضروری مشینری اور امدادی سامان پہلے ہی ضلعی انتظامیہ کو فراہم کیا جا چکا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر متاثرہ افراد کی فوری مدد کی جا سکے۔مشیر برائے بحالی گیان چند اسرانی نے اجلاس کو بتایا کہ آئندہ چند روز کے دوران حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژن میں شدید بارشوں کا امکان ہے، جہاں مجموعی طور پر 20 سے 60 ملی میٹر تک بارش متوقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ کے بیشتر دیگر اضلاع میں ہلکی بارش کا امکان ہے، جبکہ کراچی میں صرف چند مقامات پر ہلکی بارش متوقع ہے۔ تاہم ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مقامی طور پر بادل بننے کی صورت میں شہر کے بعض علاقوں میں بارش ہو سکتی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے کئی اضلاع میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔عمرکوٹ تعلقہ 169 ملی میٹر،کنری 149 ملی میٹر، کلوئی140 ملی میٹر،ڈیپلو135 ملی میٹر،کنگری غلام محمد 133 ملی میٹر،لطیف آباد 114 ملی میٹر،حسین بخش مری111 ملی میٹر،میرپورخاص شہر111 ملی میٹر،مٹھی 106 ملی میٹر،ڈھالی 104 ملی میٹر،حیدرآباد دیہی 93 ملی میٹر اور حیدرآباد شہر 89 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کئی علاقوں میں انتہائی شدید بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ کو مزید تیار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔بارشوں کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں بارش سے متعلق مختلف حادثات کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ضلع وار جائزے کے مطابق تھرپارکر میں بارش سے متعلق مختلف حادثات میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 3 افراد آسمانی بجلی گرنے، ایک شخص ڈوبنے اور 2 افراد گڑھوں میں گرنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔عمرکوٹ میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 افراد زخمی ہوئے، جبکہ بدین میں گھر کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔وزیراعلیٰ سندھ نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کی جائے، حکومتی پالیسی کے مطابق معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور تمام واقعات کی تفصیلی رپورٹس پیش کی جائیں۔سیکریٹری آبپاشی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ضلع بدین کے علاقے سیرانی کے قریب میرواہ کینال میں اتوار کی صبح تقریباً 15 فٹ اور 8 فٹ چوڑے دو شگاف پڑ گئے تھے۔ان شگافوں کے باعث تقریباً 200 گھروں میں پانی داخل ہوگیا تھا، تاہم ہنگامی ٹیموں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ نے دونوں شگاف فوری طور پر بند کر دیے اور صورتحال پر قابو پالیاگیا۔وزیراعلیٰ نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ نہروں، شاخوں، پشتوں اور دیگر حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی جائے، خصوصاً ان اضلاع میں جہاں شدید بارشیں ہو رہی ہیں۔کمشنر حیدرآباد فیاض عباسی نے اجلاس کو حیدرآباد ڈویژن میں مون سون کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈویژن کے تمام 9 اضلاع میں شدید بارشیں ہوئیں ۔ڈویژنل رپورٹ کے مطابق یکم اگست سے 2 اگست کے دوران حیدرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر 971 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ اوسط بارش 27.07 ملی میٹر رہی۔سب سے زیادہ مجموعی بارش حیدرآباد میں 360 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی،بدین میں 212 ملی میٹر،ٹنڈو اللہ یار 102 ملی میٹر،ٹنڈو محمد خان 99 ملی میٹر،سجاول 80 ملی میٹر،ٹھٹھہ 55 ملی میٹر،مٹیاری 49 ملی میٹر،جامشورو 9 ملی میٹر،دادو 5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ حیدرآباد میں سب سے زیادہ بارش لطیف آباد میں 114 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی،حیدرآباد دیہی 93 ملی میٹر،حیدرآباد شہر 89 ملی میٹر اورقاسم آباد میں 64 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ کمشنر فیاض عباسی نے بتایا کہ شدید بارشوں کے باوجود سی ایم پورٹل پر حیدرآباد ڈویژن سے کسی قسم کی جانی ، فصلوں یا بڑے پیمانے پر املاک کے نقصان کی کوئی سرکاری رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔تام حیدرآباد شہر میں مکھی ہاؤس کے قریب واقع تاریخی گنگا رام نیواس عمارت کا ایک حصہ سڑک پر گر گیا، جسے ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر ہٹا دیا۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اسی طرح ٹنڈو محمد خان میں بارش کے باعث ایک رہائشی مکان کے دو کمروں کی چھت متاثر ہوئی، جس پر ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر متاثرہ خاندان کو خیمے اور ہنگامی امداد فراہم کی۔کمشنر میرپورخاص شاہمیر بھٹو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ عمرکوٹ کے تینوں بڑے ڈسپوزل اسٹیشن مکمل طور پر فعال ہیں اور مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے بارش کا جمع شدہ پانی نکالنے کے لیے مسلسل پمپنگ جاری ہے اور پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔کمشنر نے مزید بتایا کہ گولیمار، چھور روڈ اور وہرو روڈ کے ڈسپوزل اسٹیشنز پر ریونیو افسران کو چوبیس گھنٹے نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ تمام افسران اور بلدیاتی عملہ اپنی اپنی ذمہ داریوں پر موجود ہیں اور نکاسیٔ آب کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ بارش کا پانی جلد از جلد نکالا جا سکے اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے سے بچایا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے جاری اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صورتحال معمول پر آنے تک مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے اور تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل طور پر فعال رکھے جائیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں مون سون سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، ضلعی انتظامیہ، ٹاؤن میونسپل حکام اور دیگر بلدیاتی اداروں کو ہدایت کی کہ نکاسیٔ آب کا نظام مکمل طور پر فعال رکھا جائے اور پانی نکالنے والی تمام مشینری ہر وقت قابلِ استعمال حالت میں موجود ہو۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کو بتایا کہ 10 ہیوی ڈیوٹی پمپنگ یونٹس حساس مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں، جن میں نیپا چورنگی،ڈرگ روڈ انڈر پاس،قیوم آباد،فلک ناز،نیٹو جیٹی،کے پی ٹی انڈر پاس،سب میرین انڈر پاس،سندھ اسمبلی کے اطراف،ناظم آباد انڈر پاس،4کے چورنگی،شامل ہیں۔نکاسیٔ آب کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ سے بچنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے حیسکو اور دیگر بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ پمپنگ اسٹیشنز اور اہم بلدیاتی تنصیبات کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حیدرآباد، عمرکوٹ، میرپورخاص، تھرپارکر اور ٹنڈو محمد خان میں بھی اضافی ڈی واٹرنگ پمپ نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ بارش سے متاثرہ اضلاع میں ہنگامی ردعمل کی صلاحیت مزید بہتر بنائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے تمام متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو جامع ہدایات جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز، بلدیاتی اداروں، محکمہ صحت، محکمہ آبپاشی کے انجینئرز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں کو ہدایت کی کہ موسم معمول پر آنے تک فیلڈ میں موجود رہیں اور ہنگامی آپریشنز کی خود نگرانی کریں۔انہوں نے تمام حساس اضلاع میں 24 گھنٹے نگرانی اور فوری ردعمل کا نظام قائم رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے زور دیا کہ کوئی بھی افسر پیشگی اجازت کے بغیر اپنی تعیناتی کی جگہ نہ چھوڑے۔وزیراعلیٰ سندھ نے بلدیاتی اداروں کو ہدایت کی کہ شہری مراکز، نشیبی علاقوں، سڑکوں اور انڈر پاسز میں جمع ہونے والے بارش کے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے محکمہ صحت کو بھی ہدایت کی کہ تمام اسپتالوں، دیہی مراکز صحت، ایمبولینس سروسز، ادویات اور ہنگامی طبی عملے کو مکمل طور پر الرٹ رکھا جائے تاکہ بارش سے پیدا ہونے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نہروں، نکاسیٔ آب کے نالوں، حفاظتی پشتوں اور سیلاب سے بچاؤ کے ڈھانچوں کی مسلسل نگرانی کی جائے، خصوصاً بدین، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص اور حیدرآباد اضلاع میں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ امدادی سامان، خیمے، خوراک اور ریسکیو آلات کا مناسب مقدار میں ہر وقت دستیاب رکھا جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچایا جا سکے۔سید مراد علی شاہ نے یوٹیلیٹی اداروں کو بھی ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جائے، جبکہ تمام متعلقہ محکموں کو پابند کیا کہ وہ صورتحال سے متعلق باقاعدہ رپورٹس وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو ارسال کرتے رہیں۔ذمہ داری، جوابدہی اور فوری ردِعمل پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ ہنگامی صورتحال کے دوران غفلت، لاپروائی یا ڈیوٹی سے غیر حاضری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہہمارے عوام کی جان و مال کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے۔ مون سون کے موسم میں انسانی جانوں، املاک اور عوامی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے تمام ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کریں اور ہر ہنگامی صورتحال پر فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔
Read Next
2 دن ago
*حکومت سندھ اور آغا خان یونیوسٹی میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط*
2 دن ago
نئے بلدیاتی قوانین میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق متعدد اہم تجاویز شامل ہیں،سید ناصر حسین شاہ
3 دن ago
*خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کی مینگو ڈپلومیسی فیسٹیول 2026 میں شرکت*
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا جدید تین صوبائی ڈیٹا سینٹر کے قیام کا حکم، جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت*
3 دن ago
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس،غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لئے 15 روز کی مہلت
Related Articles
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا دورہ، جدید جی ائی ایس ٹیکنالوجی کی باقاعدہ رونمائی
4 دن ago
سید مراد علی شاہ کی امریکی سرمایہ کاروں کو سندھ میں توانائی، ٹیکنالوجی،انفراسٹرکچر اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت
4 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ،برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر اور کثیرالقومی کمپنیوں کے نمائندوں کا گول میز اجلاس*
5 دن ago



