چیئرمین عمران خان کے فلاحی اور ترقی یافتہ ریاست کے وژن کے تحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے ضلع خیبر کے دورے کے موقع پر جمرود میں 2 ارب روپے سے زائد لاگت کے پانچ اہم ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔ان منصوبوں میں شامل ہیں:⬅️ 636 ملین روپے سے نرسنگ کالج جمرود کا قیام⬅️ 32 ملین روپے سے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز میں جدید AI کلاسز کا قیام⬅️ 502 ملین روپے سے پینے کے صاف پانی کی 21 اسکیموں کی بحالی اور سولرائزیشن⬅️ 430 ملین روپے سے جمرود بازار کی بیوٹیفکیشن⬅️ 424 ملین روپے سے 10 کلومیٹر طویل تختہ بیگ تا ڈی ٹور روڈ باڑہ کی توسیع، بحالی اور بہتری۔۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے کہا: تمام قبائلی اضلاع میں سب سے زیادہ ووٹ میرے حلقے کے عوام نے مجھے دیے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی اضلاع سے وزیراعلیٰ منتخب ہوا۔ اپنے حلقے کے عوام کے مجھ پر بہت احسانات ہیں، تاہم میری کوشش ہے کہ ترقیاتی منصوبے پورے صوبے میں انصاف اور مساوات کے ساتھ تقسیم کیے جائیں۔ آج اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ منصوبے عوام کا حق ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر سخت وقت ہے اور ہمارا قائد عمران خان بے گناہ جیل میں قید ہے۔ ہم نے تمام آئینی اور جمہوری راستے اختیار کیے، عدالتوں سے رجوع کیا، مگر کسی میں اتنی جرات نہ ہوئی کہ میری عمران خان سے ملاقات کرا دیتا۔ عمران خان کی بہنوں پر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو کرتی ہیں۔ ہم نے مفاہمت کے تمام راستے اختیار کیے، مگر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ تحریک انصاف اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں مزاحمت کے بغیر مفاہمت ممکن نہیں۔ 5 اگست کو پشاور میں فیصلہ کن جلسہ منعقد ہوگا۔ ایک وفاقی وزیر کہتا ہے کہ سسٹم کولیپس کر چکا ہے، سوال یہ ہے کہ اس نظام کو اس نہج تک پہنچانے والے کون ہیں؟ یہ سسٹم اُن لوگوں کی وجہ سے تباہ ہوا جو گزشتہ 78 برس سے ملک کے فیصلے کرتے آئے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، دہشت گردی کو دوبارہ فروغ دیا اور بیرونِ ملک جزیرے خریدے۔ فیصلہ وہی ہوگا جو عوام کی امنگوں کے مطابق ہوگا۔ ہمیں صرف وہی نظام قابلِ قبول ہے جس میں عوام کی حکمرانی ہو، آئین کی بالادستی ہو اور عدالتوں سے انصاف ملے۔ ہم وہ پالیسی ہرگز قبول نہیں کریں گے جس میں ایک وزیراعلیٰ کا پاسپورٹ بلاک کر دیا جائے اور دوسرے کے لیے 11 ارب روپے کا خصوصی طیارہ خریدا جائے۔جس وزیراعظم نے قانونی طور پر گھڑی لی، وہ آج جیل میں ہے، جبکہ جنہوں نے غیر قانونی طور پر گاڑیاں لیں، وہ آج وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنے بیٹھے ہیں۔ ایسا نظام ہمیں ہرگز قبول نہیں۔ ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے اور وہی وزیراعظم منتخب ہو جسے عوام منتخب کریں۔ مجھے بدنام کرنے کے لیے تیراہ کے لوگوں کو بے دخل کیا گیا، مگر آج بھی وہ لوگ میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ 5 اگست کو فیصلہ کرنا ہے کہ غلامی قبول کرنی ہے یا آزادی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ 5 اگست سیمی فائنل ہے، اس میں اہم فیصلے ہوں گے اور عوام نے اسے کامیاب بنانا ہے۔ ہمارے نوجوان کاکروچ نہیں بلکہ علامہ اقبال کے شاہین ہیں۔ 5 اگست کو جو فیصلہ ہوگا، اس میں آپ کا وزیراعلیٰ سب سے آگے اور کارکن اس کے شانہ بشانہ ہوں گے۔





