نئے بلدیاتی قوانین میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق متعدد اہم تجاویز شامل ہیں،سید ناصر حسین شاہ

صوبائی وزیر بلدیات، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے بالخصوص کراچی میں غیر قانونی تعمیرات، مخدوش عمارتوں، ادارے کی کارکردگی، عوامی سہولت، ون ونڈو آپریشن اور بین الادارہ جاتی رابطوں سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے 15 روز کی مہلت دی جا رہی ہے تاکہ تمام خلاف ورزیوں کی نشاندہی، ریکارڈ کی جانچ اور ضروری کارروائی مکمل کی جا سکے، تاہم اس مدت کے بعد اگر کسی بھی افسر کے خلاف غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہونے یا غفلت کی شکایت موصول ہوئی تو ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے بلاامتیاز اور فوری کارروائی کریں۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ ایس بی سی اے کے انٹیلیجنس اور مانیٹرنگ نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ رپورٹ پیش کی جائے اور غیر قانونی تعمیرات کی بروقت نشاندہی کے لیے مؤثر سرویلنس سسٹم نافذ کیا جائے تاکہ خلاف ورزیوں کی ابتدا ہی میں روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی انہدامی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے مؤثر انداز میں فرائض انجام دیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی واضح ہدایات ہیں کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے ون ونڈو آپریشن کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے تاکہ شہریوں کو تعمیراتی نقشوں، این او سی اور دیگر قانونی امور کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایس بی سی اے میں آنے والے ہر شہری کے ساتھ خوش اخلاقی، شفافیت اور قانون کے مطابق مکمل تعاون کیا جائے جبکہ عوامی سہولت کے پیش نظر ٹاؤن کی سطح پر ایس بی سی اے کا مؤثر نیٹ ورک قائم کیا جائے تاکہ شہریوں کو مرکزی دفاتر کے بجائے اپنے علاقوں میں ہی مطلوبہ خدمات میسر آ سکیں۔ اجلاس میں وزیر بلدیات نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی لیگل ٹیم کو مزید فعال اور مضبوط بنایا جائے تاکہ غیر قانونی تعمیرات، عدالتی مقدمات اور قانونی پیچیدگیوں سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)، ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ایس بی سی اے کا مربوط اور مؤثر رابطہ یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبہ بندی، منظوری اور عملدرآمد کے مراحل میں ہم آہنگی برقرار رہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے مخدوش عمارتوں کے مسئلے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی بنیادوں پر رہائش کا مناسب بندوبست کیا جائے اور ایسے عملی اقدامات کیے جائیں جن سے متاثرین کا حکومت پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی۔ وزیر بلدیات نے مزید بتایا کہ نئے بلدیاتی قوانین میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق متعدد اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد ادارے کی کارکردگی کو مزید مؤثر، شفاف اور جوابدہ بنانا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر بلدیاتی خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اجلاس کے اختتام پر سید ناصر حسین شاہ نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اجلاس میں جاری کیے گئے احکامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، مقررہ اہداف کے مطابق پیش رفت رپورٹ باقاعدگی سے پیش کی جائے اور غیر قانونی تعمیرات، مخدوش عمارتوں اور شہری سہولیات سے متعلق حکومتی پالیسی پر مؤثر انداز میں عمل کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

Back to top button