وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نظرثانی شدہ بجٹ تخمینوں کے تحت سندھ کو جون کے اختتام تک وفاقی حکومت سے 175 ارب روپے موصول ہونا تھے تاہم صرف 91 ارب روپے جاری کیے گئے جس کے باعث صوبے کو 85 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے یہ بات این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنائی فار ایجوکیشن کارنر کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔مالی امور سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ نظرثانی شدہ بجٹ تخمینوں کے مطابق سندھ کو جون کے اختتام تک وفاقی حکومت سے 175 ارب روپے ملنے تھے، لیکن صرف 91 ارب روپے جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 85 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی کم منتقلی سے صوبائی مالی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔
بلدیاتی اصلاحات کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں ہمیشہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں میں بلدیاتی نظام موجود نہیں وہاں سے ہونے والی تنقید بے بنیاد ہے۔وزیراعلیٰ نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر سکیورٹی اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ٹیکنالوجی کے فروغ اور ڈیجیٹل جدت کے لیے پرعزم ہے۔ شہری ترقی کے لیے وفاقی رابطہ ادارہ قائم کرنے کی تجاویز سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کو کسی بھی رابطہ کار وفاقی ادارے کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے تحت منتقل کیے گئے محکموں پر انتظامی اختیارات صوبوں کے پاس ہیں اور وہ انہی کے پاس رہنے چاہییں۔ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت کسی مخصوص دہشت گردی کے خطرے کی اطلاع نہیں ہے تاہم سندھ حکومت نے نئے ادارے قائم کرکے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنا کر اپنے انٹیلی جنس اور سکیورٹی نظام کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، خصوصاً خودکش حملوں کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں انتہائی اہم ہیں کیونکہ بروقت معلومات اور تجزیے کے بغیر ایسے حملوں کو روکنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ اس وقت کوئی مخصوص سکیورٹی خطرہ موجود نہیں، تاہم صوبائی حکومت سندھ بھر میں عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر الرٹ اور چوکس ہے۔مراد علی شاہ نے صوبے کے مختلف علاقوں، خصوصاً کراچی میں طویل دورانیے کی بجلی کی لوڈشیڈنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں 12 سے 18 گھنٹے تک بجلی کی بندش شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے صورتحال کے فوری تدارک کا مطالبہ کیا۔انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض پابندیوں کے باعث صوبوں کو ونڈ اور سولر توانائی کے منصوبے آزادانہ طور پر تیار کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں قابلِ تجدید توانائی کے بے پناہ وسائل موجود ہیں اور صوبے کو صاف اور پائیدار توانائی کے منصوبے آگے بڑھانے کے لیے سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔وفاقی آئینی ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے اختیارات آئینی ترمیم کے بغیر واپس نہیں لیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم وفاق کو مضبوط بنانے اور صوبوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایک تاریخی قومی اتفاقِ رائے کی علامت ہے۔آخر میں وزیراعلیٰ نے این ای ڈی یونیورسٹی میں قائم کیے گئے نئے گوگل مصنوعی ذہانت روم کو طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے آراستہ کرنے اور سندھ کے جدت پر مبنی ترقیاتی وژن کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔






