خیبر پختونخوا کے بلدیاتی اداروں کے پراونشل فنانس کمیشن شئیرز کے حصول میں ناکامی، آکٹرائے شئیر کے بدلے جنرل سیل ٹیکس کے آڈٹ میں ناکامی،اربن منتقلی جائیداد ٹیکس کی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ آڈٹ کرانے میں ناکامی، بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن میں کمی، میونسپل ٹیکسز کا خاتمہ، کرونا وباء کے دوران 120 سے زائد میونسپل ٹیکسز کی معطلی اور تاحال ان ٹیکسز کی عدم بحالی، غیر ضروری طور پر نئی TMAs کا قیام ، ملازمین کو ان کے جائز حقوق جی فراھمی میں ناکامی جیسے اقدامات سے بلدیاتی اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے میں لوکل کونسل بورڈ کا اھم کردار رہا ہے۔لوکل کونسل بورڈ کے اعلیٰ حکام اپنی سیٹوں کو بچانے کے لئے عوامی نمائندوں کے آلہ کار بن کر بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن کو ختم کرنے اور مضبوط ذرائع آمدن والی TMAs کو کمزور کرنے کے لئے غیر ضروری اور ذرائع آمدن سے محروم نئی TMAs کے قیام کی راہ ھموار کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہے اور بلدیاتی اداروں کے ختم شدہ اور کرونا وباء کے دوران معطل کئے گئے ٹیکسز کی بحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ضروری نہیں سمجھا۔لوکل کونسل بورڈ نے نان پی یو جی ایف کے ملازمین کا پی یو جی ایف میں ابزارپشن کا کوٹہ بھی اپنے چہیتوں/مخصوص بندیوں (پی یو جی ایف والوں) کو نوازنے کے لئے شیر مادر سمجھ کر لٹایا اور اس طرح نان پی یو جی ایف ملازمین کی حق تلفی کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا بہتر سمجھا۔پاکستان بننے سے لیکر آج تک مستعار پرسنل لیجر اکاؤنٹ کو بلدیاتی اداروں کا مقدر سمجھا جب کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے چار پانچ سال قبل پرسنل لیجر اکاؤنٹ جیسے فرسودہ نظام کو ختم کرنے کا کہا مگر لوکل کونسل بورڈ والے تاحال نیا اکاونٹنگ سسٹم منظور کرانے میں ناکام رہے اور بلدیاتی اداروں کو PLA جیسے فرسودہ نظام کے سہارے چھوڑ کر اس نظام میں ہر تین چار مہینوں بعد توسیع کی بھیک مانگ کر بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کے لئے بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کی مالی حالت کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے اور یہ ادارے فنڈز کی عدم دستیابی اور مالی پوزیشن کمزور ہونے کی وجہ سے اپنے ملازمین اور پنشنرز کو کئی کئی مہینوں کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کرنے سے محروم چلے آ رہے ہیں ان کے بچے بھوک ، افلاس سے دوچار ہیں اور فاکوں کی وجہ سے در در کے دھکے کھا رہے ہیں۔ لوکل کونسل بورڈ کے اعلیٰ حکام کی نااہلی کی سزا بلدیاتی ملازمین بھگت رہے ہیں۔ بلدیاتی ملازمین سروس سٹرکچر بننے کے باوجود اپنے ترقی کے آئینی حق سے محروم ہیں۔لوکل کونسل بورڈ کی نااہلی کی وجہ سے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز تنخواہوں اور پنشن کی بزریعہ اکاونٹ فور کی منظوری سے محروم ہیں ۔وزیر اعلیٰ کے اعلان کے باوجود بھی لوکل کونسل بورڈ اس وزیر اعلیٰ کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہا جس کا خمیازہ بلدیاتی ملازمین فاکوں سے دوچار ہو کر بھگت رہے ہیں اور ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہے۔لوکل کونسل بورڈ کا قیام سال 1988 میں بلدیاتی اداروں کی مضبوطی اور بلدیاتی ملازمین ، پنشنرز کی فلاح و بہبود کے لئے عمل میں لایا گیا تھا مگر سب کچھ اس کے برعکس چل رہا ہے۔وقت کا تقاضہ ہے کہ لوکل کونسل بورڈ کے موجودہ سیٹ اپ کو تبدیل کر کے نئے آنے والے آفیسرز کو بلدیاتی اداروں کے فنڈز کی مضبوطی، گزشتہ ادوار میں غیر ضروری طور پر قائم کی گئی TMAs کا نئے بلدیاتی نظام کے قیام سے قبل خاتمہ کیا جائے۔بلدیاتی اداروں سے ڈیلی ویجز کی بھرتی کا اختیار سرے سے ختم کیا جائے۔بلدیاتی اداروں کے ختم اور معطل شدہ ٹیکسز کو بحال کر کے بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن پر نظر ثانی کی جائے اور بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنے کےلئے بلدیاتی اداروں کی پوسٹوں کے بنیادی سکیلز کو یونیفارم سٹرکچر کے مطابق برابر کرکے کیٹیگری وائز TMAs کے مطابق سکیل برابر کئے جا کر ہر پوسٹ کے سکیلز میں پائی جانے والی تفریق کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ بلدیاتی ادارے ہی عوام کو بلدیاتی سہولیات کی فراھمی کے ادارے ہیں اور انکی مضبوطی میں ہی عوام اور ملازمین کے فوائد موجود ہیں۔ادارے مضبوط ہوں گے تو ملازمین خوشحال ہونگے تب ہی سارہ نظام مضبوط ہو گا تو ہی عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بن سکیں گے۔بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کو گرانٹ جیسی بھیک سے بچانے کے لئے اکاؤنٹ فور کی منظوری ہی وقت کا تقاضا ہے۔اسی میں لوکل کونسل بورڈ اور بلدیاتی اداروں کی بقاء وابستہ ہے۔ آج بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز لوکل کونسل بورڈ کی غلط، غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی سے دوچار ہیں تو کل کو لوکل کونسل بورڈ سے وابستہ اعلیٰ حکام اور ملازمین و پنشنرز پی یو جی ایف کا بھی یہی حال ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا کون سا بندہ لوکل کونسل بورڈ اور بلدیاتی اداروں کی اصلاح و احوال کا بیڑہ اٹھائے گا۔لوکل کونسل بورڈ فی الوقت تبدیلیوں پر کمائی کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔
Read Next
14 گھنٹے ago
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی سے پشاور پریس کلب کی کابینہ اور گورننگ باڈی کے وفد کی ملاقات
1 دن ago
خیبر پختونخوا میں واٹر اینڈ سینیٹیشن کمپنی ماڈل کو مرحلہ وار اتھارٹی میں تبدیل کرنے،ملازمین کے مستقل سروس اسٹرکچر کے قیام کے حوالے سے درخواست
1 دن ago
خالد جاوید خان اپنی سروس سے باعزت ریٹائرڈ،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا کی طرف سے خراج تحسین
2 دن ago
ریپ میں ملوث عناصر کو عبرت کا نشان بنایا جائے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی
2 دن ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت کابینہ کا 54واں اجلاس
Related Articles
محمد سہیل خان آفریدی نے ایک ہی روز ورسک روڈ فلائی اوور کے بعد پلوسی فلائی اوور منصوبے کا بھی سنگِ بنیاد رکھ دیا
4 دن ago
وزیر بلدیات و اعلٰی تعلیم خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی کا کوہاٹی گیٹ سپریم کمانڈ پوسٹ کا دورہ
7 دن ago
خیبرپختونخوا کی44 ٹی ایم ایز کے ریٹائرڈ ملازمین کے لئے گرانٹ جاری کرنے پر لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ کا اظہار تشکر
1 ہفتہ ago
*لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے مطالبہ پر صوبائی حکومت نے خصوصی گرانٹ کا اجراء کر دیا*
1 ہفتہ ago


