وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں شرکت اور میڈیا سے گفتگو

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 10 محرم الحرام کے موقع پر سی بریز پلازہ سے برآمد ہونے والے عاشورہ کے جلوس میں شرکت کی اور جلوس کی قیادت کرتے ہوئے عزاداروں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے حضرت امام حسینؓ اور ان کے باوفا رفقاء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی اور سینیٹر وقار مہدی بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ واقعہ کربلا کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ حق اور سچائی کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں اور کسی بھی نیک مقصد کے لیے قربانی دینے سے دریغ نہ کریں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ہمیشہ حق اور انصاف کا ساتھ دینا چاہیے اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون پر جلوسوں کے منتظمین، علمائے کرام، رضاکاروں، سرکاری حکام اور شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کا جائزہ لینے اور انہیں حتمی شکل دینے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں متعدد اجلاس منعقد کیے گئے۔اس سال محرم الحرام کے دوران پیش آنے والے چند افسوسناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈیفنس میں ایک گاڑی حادثاتی طور پر ایک امام بارگاہ کے احاطے میں داخل ہوگئی، جبکہ شکارپور میں بجلی کی تاروں سے علم ٹکرانے کے باعث چند عزادار شہید ہوگئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ روہڑی میں شمع گل کے جلوس کے دوران بھی چار عزادار جان کی بازی ہار گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے انتظامات اور احتیاطی اقدامات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔پریا کماری کی بازیابی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم وہ تاحال بازیاب نہیں ہوسکی ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران کسی مخصوص سیکیورٹی خطرے کی اطلاع نہیں تھی تاہم پاکستان کے دشمن ہمیشہ بدامنی پھیلانے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جلوسوں کے منتظمین، حکومتی نمائندے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور میڈیا مل کر کام کریں تاکہ شرپسند عناصر کو امن و امان خراب کرنے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں مجموعی سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں امن، اتحاد اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ عاشورہ کے روز سندھ بھر میں ایک ہزار 292 جلوس اور ایک ہزار 637 مجالس منعقد ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عزاداروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں 59 ہزار 265 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان آرمی کے دو ہزار 630 اور پاکستان رینجرز سندھ کے چھ ہزار 700 اہلکار بھی سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جلوسوں کی نگرانی کے لیے جدید سرویلنس نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔ انتہائی حساس مقامات پر کلوز سرکٹ کیمرے نصب کیے گئے ہیں جبکہ جلوسوں کے راستوں پر درجنوں اہم مقامات کی نگرانی کے لیے اضافی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس، رینجرز، ضلعی انتظامیہ، منتظمین اور رضاکاروں کی کاوشوں کو سراہا۔وزیراعلیٰ نے تمام سیکیورٹی اور انتظامی حکام کو ہدایت کی کہ وہ پوری طرح چوکس رہیں اور فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عاشورہ کے جلوسوں کے پرامن اختتام کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے، جبکہ عزاداروں کو محرم الحرام کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھے اپنی سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ آج کا دن حق کی باطل پر فتح کی علامت ہے اور ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ عاشورہ کے پیغامِ امن، قربانی اور اتحاد کو برقرار رکھیں۔وزیراعلیٰ نے محرم الحرام کے دوران مؤثر انتظامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ صوبے بھر میں عاشورہ کی تمام تقریبات پرامن طور پر اختتام پذیر ہوں گی۔

جواب دیں

Back to top button