سندھ کے وزیر برائے بلدیات، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے پاکستان کا پہلا حکومتی سطح کا کاربن کریڈٹ منصوبہ کامیابی سے نافذ کر کے نہ صرف ماحول دوست اقدامات کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماڈل میں تبدیل کیا ہے بلکہ مینگرووز کی بحالی کے منصوبے کے ذریعے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کے حصول کی راہ بھی ہموار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت ماحول کے تحفظ، شجرکاری، شہری سرسبز کاری اور موسمیاتی مزاحمت (Climate Resilience) کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔**یہ بات انہوں نے نیشنل فورم فار انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ (NFEH) کے زیر اہتمام منعقدہ **23ویں سالانہ ماحولیاتی کانفرنس اور ایوارڈز 2026** سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا موضوع تھا **”پاکستان کے قابلِ رہائش مستقبل کی بحالی: مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے ماحولیاتی نقصانات کا ازالہ”**۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو بروقت محسوس کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جن کے نتیجے میں ماحولیاتی تحفظ کو پائیدار معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں مینگرووز کی شجرکاری کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ مہم نے پاکستان کے پہلے سرکاری کاربن کریڈٹ منصوبے کی بنیاد رکھی، جس سے ہر سال خاطر خواہ زرمبادلہ حاصل ہو رہا ہے اور اس آمدنی کا بڑا حصہ سندھ کو مینگرووز کی کامیاب بحالی کی بدولت مل رہا ہے۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومتِ سندھ ماحولیاتی حکمرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ماحولیاتی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے اور انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ (SEPA Act) میں ترامیم کی جا رہی ہیں تاکہ اسے مزید مؤثر، شفاف اور موجودہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنایا جا سکے، جبکہ صوبے کے ماحولیاتی ریگولیٹری نظام کو بھی عالمی معیار سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمۂ ماحولیات کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف کاربن کریڈٹس قائم کر دیا گیا ہے تاکہ کلائمیٹ فنانس کے مواقع سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے اور صوبے میں کاربن مارکیٹ کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمۂ ماحولیات کی جانب سے اب تک 13 کاربن کریڈٹ منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جو مختلف مراحل میں زیرِ تکمیل ہیں۔ ان منصوبوں میں مینگرووز کی بحالی، ریورائن فاریسٹ، بائیو گیس کی پیداوار، ایگروفاریسٹری اور لینڈ فل میتھین اخراج پر قابو پانے جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی سمیت مختلف شہروں میں **اربن فاریسٹری** کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جبکہ نہروں کے کناروں اور دیگر موزوں مقامات پر وسیع پیمانے پر شجرکاری مہم بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے تعاون سے ضلع ٹھٹھہ کے ساحلی علاقوں کو سیلاب سے محفوظ بنانے اور موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کے لیے **جام ساکرو آؤٹ فال ڈرین منصوبہ** بھی زیر تکمیل ہے۔ وزیرِ بلدیات، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومتِ سندھ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ماحولیاتی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں دو مکمل خودکار ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز نصب کیے جا چکے ہیں، جو فضائی معیار کے 8 تا 9 اہم ماحولیاتی اشاریوں (پیرامیٹرز) کی بنیاد پر ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کا ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کر رہے ہیں، جبکہ صوبہ سندھ بھر میں مزید 17 مکمل خودکار ایئر کوالٹی اینالائزرز نصب کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) نے اپنے ماحولیاتی مانیٹرنگ اور نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) کے نظام کو بھی مکمل طور پر خودکار (آٹومیٹڈ) بنا دیا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا، صنعتوں اور معائنہ کرنے والے افسران کی جانب سے غلط رپورٹنگ کے امکانات کا خاتمہ ہوگا، اور ماحولیاتی ضوابط پر عملدرآمد کو مزید مؤثر اور جوابدہ بنایا جا سکے گا۔ناصر حسین شاہ نے بطور سابق صوبائی وزیر توانائی اپنے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی بلند و بالا عمارتوں میں توانائی بچانے والے ڈیزائن کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے تاکہ بجلی کی کھپت اور کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکے۔انہوں نے این ایف ای ایچ کی جانب سے کراچی میں شروع کی جانے والی مون سون شجرکاری مہم کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے **10 ہزار پودوں** کی فراہمی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ چونکہ این ایف ای ایچ نے نجی شعبے کے تعاون سے پہلے ہی اتنے ہی پودے حاصل کر لیے ہیں، اس لیے حکومت مناسب مقامات فراہم کرے گی تاکہ اس مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت غیر سرکاری تنظیموں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانے اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ تمام اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ سندھ کو ماحولیاتی تحفظ، جدید ٹیکنالوجی، ادارہ جاتی اصلاحات اور کاربن مارکیٹ کی ترقی کو یکجا کرتے ہوئے پاکستان میں موسمیاتی اقدامات کا قائد صوبہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ پائیدار اقتصادی ترقی، موسمیاتی لچک (Climate Resilience) اور ماحول دوست ترقی کے فروغ کے لیے جامع اور مؤثر حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔بلدیاتی نظام مضبوط ہوگا تو شہری ماحولیاتی مسائل کا 80 فیصد حل ممکن ہے: نعیم قریشی
کانفرنس سے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے **صدر این ایف ای ایچ نعیم قریشی** نے کہا کہ ادارے کی مون سون شجرکاری مہم مکمل طور پر نجی شعبے کی فلاحی معاونت سے چلائی جائے گی اور اس کے لیے حکومت سے مالی امداد نہیں لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم سے کراچی کے عوامی پارکوں کی بحالی اور خوبصورتی میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر بلدیاتی اداروں کو مؤثر اور بااختیار بنایا جائے تو شہری علاقوں کے تقریباً **80 فیصد ماحولیاتی مسائل** حل کیے جا سکتے ہیں، جن میں گندے پانی کی صفائی، سیوریج کا بہتر نظام، بارش کے پانی کی فوری نکاسی، پائیدار شہری انفراسٹرکچر اور ٹھوس کچرے کا مؤثر انتظام شامل ہیں۔*ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، پانی، توانائی، ٹرانسپورٹ اور صحت کے شعبوں میں فوری اصلاحات پر زور دیا****پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل** کے چیئرمین **یونس ڈاگھا** نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب سے پاکستان کو تقریباً **9 ارب ڈالر** کا نقصان ہوا، جس میں سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ **رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (RBOD)** کی عدم تکمیل کے باعث دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے شہر اور قصبے مستقبل میں بھی سیلاب کے خطرات سے دوچار رہیں گے، جبکہ کراچی کا ناقص نکاسی آب کا نظام بھی شہری سیلاب کی ایک بڑی وجہ ہے۔**سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (SDPI)** کی ماحولیاتی محقق **زینب نعیم** نے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تقریباً **ایک فیصد** حصہ ڈالتا ہے، تاہم جنوبی ایشیا دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے دوچار خطوں میں شامل ہو چکا ہے۔**ساؤتھ ایئر** کے چیف آپریٹنگ آفیسر **ایئر وائس مارشل (ر) اعجاز ملک** نے پانی کے تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے روایتی فلڈ ایریگیشن کے بجائے **ڈرپ ایریگیشن** نظام اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔توانائی کے ماہر **انجینئر عرفان احمد** نے کہا کہ گرمیوں میں پاکستان کی تقریباً **60 گیگاواٹ** بجلی کی طلب میں **ایئرکنڈیشنرز کا حصہ تقریباً 60 فیصد** ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے مؤثر استعمال، بجلی کی بچت اور ترسیلی نقصانات میں کمی کے ذریعے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، کیونکہ ہر غیر ضروری استعمال ہونے والا ایک کلو واٹ آور بجلی تقریباً **آدھا کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ** فضا میں خارج کرتا ہے۔**محکمہ موسمیات پاکستان** کے چیف میٹرولوجسٹ **امیر حیدر لغاری** نے کہا کہ محکمہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر ہیٹ ویوز، شدید بارشوں اور دیگر موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت معلومات فراہم کرتا ہے، جبکہ کراچی جیسے ساحلی شہروں میں بڑھتی ہوئی نمی نے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔**پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن** کے سابق چیئرمین **ڈاکٹر قیصر وحید** نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور صحت کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے طبی ماہرین کی خصوصی تربیت پر زور دیا۔کانفرنس کے اختتام پر **سید ناصر حسین شاہ** نے **68 اداروں** کو **سالانہ ماحولیات ایکسی لینس ایوارڈز 2026** جبکہ شجرکاری میں نمایاں کردار ادا کرنے والی **14 کمپنیوں** کو خصوصی اعزازی ایوارڈز سے نوازا۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی کامیابیاں دیگر صنعتی، بینکاری اور کارپوریٹ اداروں کو بھی ماحول دوست اقدامات اپنانے کی ترغیب دیں گی۔





