وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر اور منظم اشتراکِ کار پر اظہارِ اطمینان کیاگیا۔ صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں پیفٹاک میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب کا قیام اداروں کے درمیان بروقت معلومات کے تبادلے کیلئے اہم اقدام قراردیاگیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس کے دوران دہشت گردوں کیخلاف جاری آپریشن میں کامیابیوں پر اظہارِ تشکرکیااور فتنہ الہندوستان کیخلاف آپریشن میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اجلاس میں آپریشن ضربِ للہ الحق میں شہید کیپٹن ابوذر فاروق، لیفٹیننٹ شیراز بابر اور دیگر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیاگیا۔
ایپکس کمیٹی اجلاس میں شہداء کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین کیلئے صبرِ جمیل کی دعاکی گئی۔ کمانڈر لاہور کور بھی اس موقع پر موجود تھے۔کمانڈر لاہور کور نے اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور تسلی بخش قرار دیا۔ صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے حکومت پنجاب کے سیکیورٹی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایاگیا کہ کچے کے علاقے میں سوشل انفراسٹرکچر کے قیام کیلئے 93 منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ کچے کے علاقے میں اسمارٹ پولیس اسٹیشنز اور پولیس چیک پوسٹس قائم کی جائیں گی۔ کچے کے علاقے میں 62 کروڑ روپے کی لاگت سے اسٹیل برج تعمیر کیا جائے گا۔ کچے کے عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے اخراج کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونیوالے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔جوان بیٹوں کو محاذ پر بھیجنے والے والدین ہم سے بہتر اور اعلیٰ ترین لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تمام ادارے باہمی اشتراکِ کار کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ پیفٹاک کے ذریعے بروقت معلومات کا تبادلہ ممکن ہو رہا ہے۔ایک ٹیم بن کر یکساں سمت میں کام کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔ پاک فوج اور تمام اداروں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔امن و امان کے لیے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنا پڑتا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ سٹریٹ کرائم میں کمی سے عوام میں احساسِ تحفظ پیدا ہوا ہے۔ پنجاب میں غنڈہ گردی اور قبضہ مافیا نہیں چل سکتا۔ پنجاب بھر میں مافیاز کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ کرپشن میں ملوث ہونے پر پولیس کے 718 ملازمین کو ملازمت سے نکالا گیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ کچے کے علاقے میں امن و امان کے لیے کام کرنے والے تمام اداروں کو سلام اور شاباش دیتی ہوں۔ کچے کے علاقے میں صحت، تعلیم اور امن و امان کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی پیکیج دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقے میں پہلی مرتبہ بڑے کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاداور عوام اور حکام کی شرکت خوش آئند ہے۔ کچے کے علاقے میں مسلسل مانیٹرنگ اور ویجی لینس جاری ہے۔ مجموعی طور پر پنجاب میں امن و امان کی صورتحال حوصلہ افزا ہے، تاہم مختلف آپریشنز جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ مؤثر اور پیشگی پولیسنگ کے باعث پنجاب میں جرائم کا گراف مسلسل نیچے آ رہا ہے۔پولیس کو امن و امان کے لیے ٹیکنالوجی سمیت تمام ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔عوام کی سہولت کیلئے پولیس اہلکاروں کو باڈی ورن ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے۔ سیف سٹی کا دائرہ کار پورے پنجاب تک پھیلا دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پنجاب اور پنجاب کے عوام کی جانب سے مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ فیلڈ مارشل کی قیادت اور شاندار لیڈرشپ قابلِ تحسین ہے۔ تمام ادارے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑ رہے ہیں۔ آپریشن بنیان مرصوص سے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں بلند ہوا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ سیکیورٹی کے معاملے میں کوئی گیپ نہیں آنا چاہیے، پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔ مختلف چیلنجز کے باوجود عوام کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اور ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے بتایا کہ خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر عوام کو مہنگائی اور معاشی مشکلات سے بچانے پر بھی توجہ مرکوز ہے۔





