وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا سٹروک ڈے پر پانچ ارب روپے کے اضافی فنڈز دینے کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سٹروک ڈے پر پانچ ارب روپے کے اضافی فنڈز دینے، ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر سٹروک سنٹر، کارڈیک، پیڈیاٹرک سنٹر اور کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کیا ہے۔جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجری جلد شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ورلڈ سٹروک ڈے کی مناسبت سے پنز میں منعقدہ تقریب میں خصوصی شرکت کی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنز آئی سی یو اور کنٹرول روم کا دورہ کیا اور آپریشن تھیٹرکی گیلری سے نیوروسرجریز کا مشاہدہ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئی سی یو میں داخل مریضوں کی عیادت کی، حوصلہ دیا اور جلد صحتیابی کی دعا کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئی سی یومیں روبوٹک فزیو تھراپی سے فالج زدہ مریضوں کی بحالی کے عمل کا بھی مشاہدہ کیا۔ پنزنیورالوجی کے انچارج ڈاکٹر قاسم بشیراور پنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آصف بشیر نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈاکٹر قاسم بشیر نے پرائمری سٹروک سنٹر، سٹروک نیوروانٹروینشن فیلوشپ، سٹروک آگاہی پروگرام، نیورو ری ہیبلی ٹیشن، ٹریٹمنٹ سے آگاہ کیا۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈاکٹر آصف بشیر نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر منسٹر کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر آصف بشیر نے پاکستان میں نیوروسرجری کے ارتقاعی عمل سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پنجاب میں 40 سٹروک سنٹر بشمول 38 پرائمری سٹروک سنٹر اور 2 مکمل سٹروک سنٹر بن چکے ہیں۔ پنجاب میں 26 لاکھ ڈائیلسز اور 2400 کارڈیک سرجری بھی کی جاچکی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کو میڈیکل ایکسی لینس کا ہب بنارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فالج کے کسی مریض کا علاج فنڈز کی کمی کی وجہ سے نہیں رکنے دیں گے۔ فالج کے مریضوں کے علاج کیلئے درکار فنڈز کی ضرورت کے بارے میں براہ راست مجھے بتایا جائے۔پنجاب میں کروڑوں لوگ بہتر معیار زندگی اور روزگار کیلئے دوسرے صوبوں سے بھی آتے ہیں۔ پنجاب میں کروڑوں لوگ تعلیم اور صحت کیلئے حکومت کے منتظر ہوتے ہیں۔ لوگوں کی بھلائی اور بہتری کیلئے اختیار ملنا اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔پنز جیسے ادارے کی سربراہی خوش قسمتی ہے، ایک دستخط سے آپ لوگوں کا بھلا کر سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ڈاکٹر آصف بشیر اور ڈاکٹر قاسم بشیر کی والدہ پر ہم سب کو فخر ہے، مبارکباد پیش کرتی ہوں، دونوں والد کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایک انسان کی جان بچانا گویا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔ آئی سی یو میں فالج زدہ مریضوں کی جان بچانا اور بحالی کی کوشش جذباتی لمحہ ہے۔جذباتی لمحات میں لوگوں کی بہتری کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ فالج دستک دیکر نہیں اچانک آنے والی بیماری ہے، علاج کیلئے چار پانچ گھنٹے گولڈن آورز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہارٹ اور کولیسٹرول فالج کی وجہ بن سکتا ہے۔ فالج کی علامات کو نظر انداز کرنا قطعی طور پر مناسب نہیں۔ بازو میں کمزوری، زبان میں لکنت اوردیگر علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر سٹروک سنٹر پہنچانا چاہیے۔ فالج کی علامات نظر آنے پر فوری طور پر 1122 کو کال کرکے طلب کریں۔1122 فالج کے 85 مریضوں کو بروقت سٹروک سنٹر تک شفٹ کرکے جان بچا چکی ہیں۔ 42 سالہ ڈرائیور کو فالج کا حملہ ہونے پر بروقت علاج سے اللہ تعالیٰ نے شفا ء دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ آئی سی یو میں مریضوں کے علاج اور بحالی کی کاوشوں سے دل خوش ہوا۔فالج کے مریض سے صرف ایک شخص ہی نہیں پوری فیملی متاثر ہوتی ہے۔ ایک کمانے والا شخص بستر پر پڑ جائے تو پورا خاندان متاثرہوتا ہے۔ ٹی این کے کا انجکشن بہت مہنگا ہے، عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔ فالج کے مریض کیلئے رحیم یار خان سے لاہور آنا آسان کام نہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے چند ماہ میں پرائمری سٹروک سنٹر بن چکا ہے۔ 40پرائمری سٹروک سنٹر آپریشنل ہوچکے ہیں، 15 مزید بنیں گے۔ڈ اکٹر آصف بشیر اورڈاکٹر قاسم بشیر،ڈاکٹرز اور نرسز کو ٹریننگ دے کر تیار کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ 85 افراد کو بروقت سٹروک سنٹر تک پہنچانے پر ریسکیو1122 کے ڈاکٹر رضوان اور پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ عام آدمی کو فالج کا علاج مہیا کرنے پر صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، سیکرٹری عظمت محمود اور نادیہ ثاقب کومبارکباد دیتی ہوں۔ فالج کے مریضوں کا عام آدمی کیلئے فالج کا علاج کرنے پر اللہ تعالیٰ جزا دے گا، یہ صدقہ جاری ہے۔ لاہور میں دنیا کا سب سے بڑا کینسر ہسپتال بنا رہے ہیں، جہاں غریب کا علاج مفت ہوگا۔ کینسر ہسپتال کی جلد تکمیل اور علاج شروع کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کینسر کے مریضوں کو ریلیف ملے۔آخری سٹیج کے مریضوں کی تکلیف کی شدت کم کرنے کیلئے کینسر ہسپتال میں پین مینجمنٹ سنٹر بھی بنارہے ہیں۔ 20 اضلاع میں دل کے امراض کے علاج کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ کیتھ لیب قائم ہوں گی، آٹھ نو اضلاع میں بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنز /جنرل ہسپتال، آر آئی سی راولپنڈی اور شیخ زید ہسپتال میں سٹروک پیشنٹ کا علاج کیا جارہا ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ساؤتھ پنجاب میں برین سرجیکل انٹروینشن کی جاسکتی تھی۔ ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد کے ہسپتالوں میں بھی شروع کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ڈویژن میں پیڈیاٹرک سنٹر بنائیں گے تاکہ بچوں کی تکلیف صورت میں والدین کو لاہور نہ آنا پڑے۔ میانوالی میں چھت سے گرنے والی خاتون کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے لاہور لاکر علاج کیا جارہا ہے۔ نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں جینیٹک، بلڈ ڈیزیز جیسے سپیشلائزڈ امراض کا علاج ہوگا۔ ایک سال میں سرکاری ہسپتالوں سے 10 کروڑ افراد نے علاج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ 100ارب روپے کی فری میڈیسن دی گئیں، ہسپتالوں میں فری میڈیسن کے اعلان بھی ہوتے ہیں۔ دیگر صوبوں سے آنے والے بچوں سمیت 15 سے16 ہزار مریض بچوں کی کارڈیک سرجری کی گئی۔ اگر کوئی بچہ پنجاب میں باہر سے آئے تو علاج سے انکار نہیں کیا جاتا۔ اپنے ملک اور اپنے ڈاکٹرز پر اعتماد کریں،اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان میں اب یورپ کے لیول سے بہتر علاج ہورہا ہے۔ لوگوں کا گھر کی دہلیز پر اور مزدوروں کا فیکٹریوں میں جاکر فیلڈ ہسپتال کے ذریعے علاج کررہے ہیں۔ مزدور علاج کرانے جائے تو اس کی دیہاڑی ماری جاتی ہے، اب ایسے نہیں ہوگا۔کڈنی لیورآرگن ٹرانسپلانٹ جیسی مہنگی سرجری سے ہزاروں لوگ مستفید ہوچکے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button