وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صوبے کی سال کے باقی عرصے کی گندم ضروریات کے پیش نظر مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں گندم کی دستیابی، ذخائر کی صورتحال اور مارکیٹ کے رجحانات کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ بھر میں گندم اور آٹے کی مناسب نرخوں پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت تمام ضروری اقدامات کرے گی۔اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں، وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و انسداد منشیات مکیش کمار چاؤلہ، وزیر زراعت محمد بخش خان مہر، وزیر آبپاشی جام خان شورو، مشیر برائے بحالی گیان چند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں فصل 2025-26 کے دوران 4.8 ملین میٹرک ٹن گندم پیدا ہوئی، جو ایک ریکارڈ (بمپر) فصل ہے، جبکہ صوبے کی سالانہ ضرورت 6.53 ملین میٹرک ٹن ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ طلب اور رسد میں بنیادی فرق موجود ہے۔پیشکش کے مطابق سندھ میں کیری اوور اسٹاک سمیت مجموعی طور پر 4.94 ملین میٹرک ٹن گندم دستیاب تھی۔ تاہم اپریل سے جون تک کے استعمال اور دیگر صوبوں کو منتقل ہونے والی گندم کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر مارکیٹ میں گندم کی فراہمی جاری نہ رہی تو مارچ 2027 تک صوبے کو تقریباً 2.1 ملین میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وزیر خوراک نے بتایا کہ محکمہ خوراک کے پاس اس وقت کیری اوور ذخائر اور نئی خریداری سمیت مجموعی طور پر 0.2218 ملین میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر گندم کا خالص توازن 24.39 ملین میٹرک ٹن ہے، جس میں سے تقریباً 12.2 ملین میٹرک ٹن کسانوں اور گھریلو صارفین کے پاس موجود ہونے کا اندازہ ہے۔حکام نے بتایا کہ ان ذخائر کا صرف ایک محدود حصہ ہی مارکیٹ میں نظر آ رہا ہے، جس میں پنجاب میں تقریباً 2.5 ملین میٹرک ٹن اور سندھ میں 1 ملین میٹرک ٹن گندم قابلِ شناخت ہے، جبکہ تقریباً 9.5 ملین میٹرک ٹن گندم معمول کے مارکیٹ نظام سے باہر موجود ہے۔اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ پوشیدہ ذخائر مارکیٹ پر غیر ضروری دباؤ ڈال سکتے ہیں اور سٹے بازی کو فروغ دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا لپ حکومت ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ گندم ایک اسٹریٹجک جنس ہے اور ہر قیمت پر اس کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔اجلاس میں ملک بھر میں گندم کی قیمتوں کے رجحانات کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ حالیہ مہینوں میں گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ہر 40 کلوگرام گندم کی موجودہ قیمت پنجاب میں 4,150 سے 4,350 روپے، سندھ میں 4,680 روپے، خیبر پختونخوا میں 4,680 روپے جبکہ بلوچستان میں 4,600 روپے رپورٹ کی گئی۔حکام نے بتایا کہ پنجاب میں اپریل کے آغاز پر 40 کلوگرام گندم کی قیمت تقریباً 3,200 روپے تھی، جو بڑھ کر 4,200 سے 4,600 روپے تک پہنچ گئی، یعنی چند ماہ میں 30 سے 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔وزیراعلیٰ کو یہ بھی بتایا گیا کہ گندم ذخیرہ رکھنے سے حاصل ہونے والا منافع اب قومی بچت اسکیموں سے حاصل ہونے والے منافع سے بھی زیادہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
*آٹے کی قیمتوں کا جائزہ*
اجلاس میں بڑے شہروں میں آٹے کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ فی کلو اوسط آٹے کی قیمت کراچی میں 135 روپے، حیدرآباد میں 131 روپے، سکھر میں 124 روپے اور لاڑکانہ میں 124 روپے ہے۔اجلاس میں پیش کیے گئے تجزیے کے مطابق گندم کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بلاجواز قیمتوں میں اضافے سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی قیمت میں کوئی بھی اضافہ ناجائز منافع خوری کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ عوام کو مناسب نرخوں پر آٹا دستیاب ہو۔
*ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم*
محکمہ خوراک کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سندھ لازمی اشیائے صرف قیمت کنٹرول اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کی روک تھام ایکٹ، 2005 کے تحت فوری طور پر سخت کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو غیر قانونی ذخائر کی نشاندہی، گوداموں کا معائنہ اور بغیر لائسنس گندم کی تجارت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے سے باہر گندم کی غیر مجاز نقل و حرکت روکنے کے لیے سرحدی نگرانی پہلے ہی شروع کر دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ سندھ بھر میں گندم کے ذخائر کی سخت نگرانی کی جائے، گندم کی ذخیرہ اندوزی اور تجارت کے لیے لائسنس کے نظام پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، غیر مجاز نقل و حرکت روکنے کے لیے سرحدی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے، قیمتوں میں استحکام کے لیے مارکیٹ میں گندم کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنائی جائے اور فلور ملز کے لیے ذخیرہ کی حد مقرر کرنے کی تجاویز کو جلد حتمی شکل دی جائے۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ فلور ملز کے لیے ذخیرہ کی حد مقرر کرنے کی سمری منظوری کے لیے پہلے ہی سندھ کابینہ کو ارسال کی جا چکی ہے۔اجلاس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ غیر قانونی ذخیرہ اندوزوں سے ضبط کی جانے والی گندم کو سرکاری خریداری تصور کرتے ہوئے سرکاری گوداموں میں منتقل کیا جائے، جبکہ ضبط شدہ گندم کے مالکان کو 40 کلوگرام کے حساب سے 3,500 روپے ادا کیے جائیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تمام متعلقہ محکموں کو باہمی رابطہ برقرار رکھنے اور گندم کے ذخائر، قیمتوں اور مارکیٹ کی صورتحال سے متعلق باقاعدہ رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد بالکل واضح ہے، گندم اور آٹا سندھ کے ہر شہری کے لیے دستیاب، قابلِ استطاعت اور آسان رسائی میں ہونا چاہیے۔ عوام کے مفاد کے خلاف کسی کو بھی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔






