وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کے گورننگ باڈی کے 85ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کے سب سے بڑے سرکاری شعبے کے امراض قلب کے ادارے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری دی، جن میں ایڈوانسڈ ہارٹ فیلئر پروگرام (ایل وی اے ڈی) کا قیام اور ایمرجنسی کارڈیک سروسز میں توسیع شامل ہے۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، اراکین سندھ اسمبلی رخسانہ پروین اور سعدیہ جاوید، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، سیکریٹری خزانہ اصغر میمن، این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر، پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے بانی مشتاق چھاپرا، پروفیسر شاہد سمیع اور گورننگ باڈی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان سے آنے والے مریضوں کو مفت، معیاری اور قابل رسائی امراض قلب کی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی سندھ کا ایک نمایاں طبی ادارہ اور قومی اثاثہ ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی کہ مستحق تمام مریضوں کے لیے زندگی بچانے والا امراض قلب کا علاج مفت دستیاب رہے۔‘‘سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خصوصی طبی سہولیات میں توسیع، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور افرادی قوت کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
*ایڈوانسڈ ہارٹ فیلئر پروگرام اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی تیاری*
ایک اہم پیش رفت کے طور پر گورننگ باڈی نے لیفٹ وینٹریکولر اسسٹ ڈیوائس (ایل وی اے ڈی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایڈوانسڈ ہارٹ فیلئر پروگرام کے قیام کی اصولی منظوری دے دی اور این آئی سی وی ڈی کو مستقبل میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ پروگرام شروع کرنے کے لیے ابتدائی تیاری کا کام شروع کرنے کی اجازت دے دی۔سید مراد علی شاہ نے اس اقدام کو جدید امراض قلب کی نگہداشت کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دیا اور این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تکنیکی معاونت، تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ملک اور بیرون ملک کے معروف اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو جدید طبی جدت اور خصوصی علاج کی سہولیات کے میدان میں سب سے آگے رہنا چاہیے۔
*2025 میں ریکارڈ طبی خدمات*
اجلاس میں این آئی سی وی ڈی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ ادارے نے 2025 کے دوران غیر معمولی تعداد میں خصوصی طبی خدمات فراہم کیں۔این آئی سی وی ڈی میں 9 ہزار 279 پرائمری پی سی آئی کے طریقہ علاج، 3 ہزار 69 پیڈیاٹرک کیتھیٹرائزیشن اور انٹروینشنز، 291 پی ٹی ایم سی طریقہ علاج، 40 ٹی اے وی آئی طریقہ علاج، 5 ہزار 649 ارلی انویسیو طریقہ علاج، 889 الیکٹو اینجیوپلاسٹیز، ایک ہزار 400 سے زائد امراض قلب کی سرجریز، 2 لاکھ 96 ہزار 731 ایمرجنسی مشاورتیں، 4 لاکھ 43 ہزار 610 او پی ڈی مشاورتیں، 18 ہزار 875 اینجیوگرافیز، 54 ہزار 295 داخلے اور 88 ہزار 165 ایکوکارڈیوگرافی کے معائنے کیے گئے۔گورننگ باڈی کو مزید بتایا گیا کہ 2019 سے 2025 تک این آئی سی وی ڈی کراچی نے سندھ سے باہر کے 13 لاکھ 20 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا، جن میں بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے آنے والے مریض بھی شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار این آئی سی وی ڈی کی قومی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں اور ادارے کو ہدایت کی کہ مریضوں کے علاج میں بین الاقوامی معیار برقرار رکھا جائے۔
*ملازمین کی ترقی کی منظوری*
گورننگ باڈی سے موجودہ این آئی سی وی ڈی ایمپلائز (سروس) رولز اینڈ ریگولیشنز 2016 کے تحت ملازمین کی ترقی اور گریڈ میں بہتری کے عمل کی اجازت طلب کی گئی، جب تک کہ 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ ضوابط کی حتمی منظوری نہیں ہوجاتی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ڈاکٹروں، نرسوں، فیکلٹی ارکان اور دیگر ملازمین کے کیریئر میں ترقی باصلاحیت افراد کو ادارے سے وابستہ رکھنے اور معیاری طبی خدمات برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔انہوں نے این آئی سی وی ڈی کو ہدایت کی کہ ترقی کے کیسز پر غور کرنے سے قبل نظرثانی شدہ قواعد کو محکمہ قانون سے جانچ کرایا جائے۔
*سی او او اور سی ایف او کی بھرتی*
گورننگ باڈی نے چیف آپریٹنگ آفیسر (بی پی ایس-19) اور چیف فنانشل آفیسر (بی پی ایس-19) کے عہدوں پر دو سال کے لیے کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کے عمل کی بھی منظوری دی۔وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی وی ڈی کے بڑھتے ہوئے آپریشنز اور طبی خدمات کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے پیش نظر مضبوط انتظامی اور مالیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
*بین الاقوامی ماہر امراض قلب کی رضاکارانہ تقرری*
گورننگ باڈی نے امریکا میں مقیم معروف ماہر امراض قلب پروفیسر جاوید سلیمان کی این آئی سی وی ڈی میں پروفیسر آف کارڈیالوجی اور میڈیکل ڈائریکٹر کی حیثیت سے رضاکارانہ تقرری کی منظوری دی، جس سے ادارے یا حکومت سندھ پر کسی قسم کا مالی بوجھ عائد نہیں ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ نے بیرون ملک مقیم پاکستانی طبی ماہرین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مہارت سندھ میں طبی سہولیات اور طبی تعلیم کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔
*پیڈیاٹرک کارڈیالوجی کی خدمات کو مضبوط بنانے کی منظوری*
اجلاس میں پیڈیاٹرک کارڈیالوجی کے شعبے میں میڈیکل آفیسر (بی پی ایس-17) کی ایک آسامی پیدا کرنے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بچوں کے لیے امراض قلب کی خدمات کو مضبوط بنانے اور پیدائشی و لاحق ہونے والے امراض قلب میں مبتلا بچوں کا بلاتعطل علاج یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
*توسیعی منصوبوں کا جائزہ*
گورننگ باڈی نے توسیعی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا، جن میں سات منزلہ علیحدہ 300 بستروں پر مشتمل پیڈیاٹرک کارڈیالوجی یونٹ کی تعمیر شامل ہے۔ اس یونٹ میں پانچ آپریشن تھیٹرز، چار کیتھیٹرائزیشن لیبارٹریز، ایک ہائبرڈ لیبارٹری اور جدید تشخیصی سہولیات شامل ہوں گی۔اجلاس کو نئے 100 بستروں پر مشتمل جدید ترین کارڈیک ایمرجنسی سینٹر اور 59 ہزار مربع فٹ رقبے پر مشتمل جدید آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ کی تعمیر کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔سید مراد علی شاہ نے این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کو تمام جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ حکومت سندھ معیاری طبی سہولیات تک رسائی کو وسعت دینے والے اقدامات کی مسلسل حمایت جاری رکھے گی۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ صحت عامہ ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور این آئی سی وی ڈی کو پاکستان بھر سے آنے والے مریضوں کو مفت اور عالمی معیار کا امراض قلب کا علاج فراہم کرنے والے مرکزِ امتیاز کے طور پر مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔






