المناک سانحہ کاہنہ نو کا کنٹرولڈ ایریا ڈی ایچ اے کا ہے جو2023 میں نوٹیفائی کیا گیا،ایم سی ایل، ایل ڈی اے

کاہنہ نو فیروز پور روڈ ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے سانحہ جس میں 14 بچے جاں بحق ہو گئے کے بلڈنگ کنٹرولڈ ایریا کے حوالے سے ایل ڈی اے اور ایم سی ایل نے اسے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کا ایریا قرار دے دیا ہے۔بلدیہ عظمٰی لاہور کے میٹروپولیٹن آفیسر پلاننگ ڈاکٹر رائے امتیاز حسن نے بتایا کہ 2023 میں ڈی ایچ اے نے ایک نوٹیفکیشن کے تحت اس ایریا کو اپنا کنٹرولڈ ایریا قرار دے کر دیگر اداروں پر تعمیراتی سرگرمیوں کی اجازت دینے پر پابندی لگا دی تھی۔جس کے بعد سے ایم سی ایل اور نشتر زون کی جانب سے اس ایریا میں نہ تو کوئی بلڈنگ پلان منظور کیا گیا نہ جمع ہوا ہے۔ایل ڈی اے کے شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے بھی اس ایریا کو کنٹرولڈ ایریا تسلیم نہیں کیا ہے۔واضع رہے کہ حادثے والے مکان جس کی چھت گری زیر تعمیر تھی۔لاہور کے علاقے کاہنہ نو فیروزپور روڈ پر منگل کو قربان سکول کے قریب ایک گھر کے کمرے کی چھت گرنے سے 14 بچے جان سے گئے۔ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی وہیکلز اور اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ چھت گرنے سے جان سے جانے والے بچوں کی تعداد 14 ہے جب کہ چھ بچے زخمی ہیں۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ کمرے کی چھت ٹی آر گارڈر پر مشتمل تھی۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق تقریباً سات سے 15 سال عمر کے 20 بچے کلاس میں موجود تھے جب ٹیوشن سینٹر کی چھت کا سلیب اچانک ان پر گر گیا۔20 بچوں کو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ لایا گیا جہاں 14 بچوں کو مردہ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو لڑکے اور پانچ لڑکیاں شامل ہیں جبکہ چھ بچے زخمی ہیں۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق زخمی بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ اس المناک سانحہ کی کنٹرولڈ ایریا کے حوالے سے ایل ڈی اے نے اعلٰی حکام کو ذمہ دار ایم سی ایل کو قرار دے دیا تھا

جواب دیں

Back to top button