لاہور (فیصل مجیب الرحمٰن شامی ۔ایم رؤف سے) پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2026 کے تحت برتھ سرٹیفکیٹ و ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی فیس جہاں پر ختم کر دی گئی تھی تاکہ عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں گی لیکن عوام اس سہولت کو حاصل کرنے کے لیے رشوت دینے پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔ایک سال لیٹ ہونے کی صورت میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے منظوری ضروری کر دی گئی ہے۔سائلین کومتعلقہ یونین کونسل سے فارم لےکر انعم چوہدری اسٹنٹ ڈائریکٹر آفس گلبرگ کے چکر لگانے پڑتے ہیں جہاں پر راشی عملہ اپنے ذاتی جیب فیسوں کی مد میں تین سے پانچ ہزار روپے فی سرٹیفکیٹ وصول کرتے ہیں جو یہ رقم نہ دیں انکو چکر لگوا لگوا کر خوار کر کے رشوت دینے پرمجبور کر دیا جاتا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سید وہاب علی و دیگر سائلین سکنہ سی ون ٹاؤن شپ نے مکمل ثبوت اور ریکارڈنگ کے ساتھ بتایا کہ کمپیوٹر کلرک اسٹنٹ ڈائریکٹر ماڈل ٹاؤن نے پانچ ہزار کی ڈیمانڈ کی کہ آپکے بھتیجے کا برتھ سرٹیفکیٹ کی منظوری لے کر دوں گا کیونکہ میں نے ہی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے منظوری لینے کے بعد کمپیوٹر میں اپلوڈ کرنا ہوتا ہے ۔ سید وہاب علی نے کہا کہ میں نے کلرک کو کہا میں غریب طالب علم ہوں تو پھر اس کلرک نے کہا دو ہزار دے دو۔
ہماری رپورٹ کے مطابق لاہور کی ساٹھ یونین کونسلز نمبر 198 سے 257 تک کی عوام کو ایک سال لیٹ سرٹیفکیٹ کی منظوری کے لیے صرف ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماڈل ٹاؤن انعم چوہدری کے پاس جانا پڑتا ہے منظوری کے بعد دوبارہ مقامی یونین کونسل میں فارم جمع کروا کر سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔متاثرین نے کہا کہ کسی یونین کونسل میں سرٹیفکیٹ میں اگر کوئی غلطی ہو جائے تو بھی اسکی درستگی کے لیے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے پاس جانا ضروری ہوتا ہے ۔ متاثرین نے ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اور میڈیا کو بھی درخواست کے ذریعہ توجہ دلوائی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ لاہور فاروق احمد کھارا لوکل گورنمنٹ کو کرپشن سے پاک بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کریں تاکہ عوام کو سہولیات حاصل کرنے میں آسانی ہو ۔لاہور میں بلدیاتی نظام نہ ہونے سے عوام کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔






