تمام دیہی علاقوں میں مقامی کمیونٹی کے تعاون سے معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جائے گا،وزیر اعلٰی گلگت بلتستان

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے صوبے میں زرعی شعبے کے فروغ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام دیہی علاقوں میں مقامی کمیونٹی کے تعاون سے معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جائے گا، جس کے تحت ون ویلج ون پروڈکٹ کے ویژن کے مطابق ویلیو چین ڈیولپ کی جائے گی۔ دیہی علاقوں میں عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے محکمہ زراعت و لائیو اسٹاک میں صوبے کے ایک موزوں افسر کو بطور سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے۔ زرعی اصلاحات کو موثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے وزیراعلیٰ نے ایک خصوصی اور بااختیار اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اس ہائی لیول کمیٹی میں سیکریٹری زراعت و لائیو اسٹاک، سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری آئی ٹی سمیت جی بی آر ایس پی، اے کے آر ایس پی، ڈبلیو ڈبلیو ایف، ای ٹی آئی اور واٹر اینڈ ایریگیشن کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری اور پولٹری جیسے شعبوں کی ترقی کے لیے ماہانہ بنیادوں پر اپنے اجلاس منعقد کرے گی۔ اس کے علاوہ آئندہ تین ماہ کے اندر ”اے ایل ایف ریفارمز یونٹ” بھی قائم کیا جائے گا تاکہ زرعی شعبے میں جدید اصلاحات لائی جا سکیں۔ نوجوانوں اور مقامی کسانوں کو زراعت و لائیو اسٹاک کی طرف راغب کرنے کے لیے رعایتی قرضے اور تربیت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لائیو اسٹاک کی بہتری کے لیے دیہی سطح پر فوڈر (چارہ) اور سائیلج کے یونٹس قائم کرنے کے لیے مقامی کمیونٹی کو خصوصی تربیت اور مالی معاونت دی جائے گی، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بھی مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ گندم کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے 300 ملین روپے کی لاگت سے مقامی کسانوں کو معیاری اور سرٹیفائیڈ بیج فراہم کیے جائیں گے اور مارکیٹ میں غیر معیاری بیجوں کی فروخت کی روک تھام کے لیے ترجیحی بنیادوں پر سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی ریاستوں اور چین کے خطوں سنکیانگ اور جیانگسو کی حکومتوں سے بھی تکنیکی تعاون حاصل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی تمام دیہی علاقوں میں کمیونٹی نرسریز قائم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے جی بی آر ایس پی کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ”ون ویلج ون پروڈکٹ” کو عملی جامہ پہنانے اور مقامی اجناس کی عالمی و قومی مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے سفارشات جلد از جلد تیار کر کے متعلقہ فورم پر پیش کی جائیں۔

جواب دیں

Back to top button