"یورپی یونین موسمیاتی چیلنجز سے متاثرہ کمیونیٹیز کی معاشی خودکفالت اور زراعت کی جدت کے لئے پرعزم ہے،یوریپن یونین کے سفیر رائمنڈاس کاروبلیس

یوریپن یونین کے سفیر رائمنڈاس کاروبلیس (Raimundas Karoblis) نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں زراعت کی پائیدار ترقی، عوام الناس کی معاشی بہتری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما مقامی کمیونیٹیز کی معاونت یورپی یونین کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار یورپی یونین کے تکنیکی تعاون سے تیار کردہ "گلگت بلتستان ایگریکلچر پالیسی اینڈ ایکشن پلان 2027-36” متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس و رونمائی تقریب کے موقع پر کیا۔ سفیر رائمنڈس کاروبلیس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "یورپی یونین موسمیاتی چیلنجز سے متاثرہ کمیونیٹیز کی معاشی خودکفالت اور زراعت کی جدت کے لیے پرعزم ہے، اور پالیسی کی تیاری کے اس انتہائی اہم اور کلیدی مرحلے کی کامیابی کے بعد، آنے والے برسوں میں بھی گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تمام تر تکنیکی و مالی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ زرعی انقلاب اور معاشی خوشحالی کے اهداف حاصل کیے جا سکیں۔”تقریب میں وزیر زراعت و لائیو سٹاک ڈپارٹمنٹ انور علی، سیکریٹری ایگریکلچر ، لائیو سٹاف و فشریز ڈپارٹمنٹ عثمان احمد سمیت گلگت بلتستان حکومت اور یوریپن یونین کے اعلی حکام ٹیم لیڈ یوریپین یونین اسحاب اللہ بیگ اور ڈاکٹر ظفر خان نے بھی شرکت کی ۔

اجلاس کے دوران یورپی یونین کے تکنیکی معاونت (EU Technical Assistance & Policy Support) پروجیکٹ کے تحت گلگت بلتستان کی نئی زرعی پالیسی کے اہم خدوخال، وژن اور 10 سالہ ایکشن پلان (2027-2036) پر تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی تقریباً 90 فیصد دیہی آبادی کا انحصار براہِ راست یا بالواسطہ زراعت پر ہے، جبکہ زراعت کے زیرِ استعمال زمین کل رقبے کا صرف 1.3 فیصد ہے اور فی گھرانہ اوسط ملکیت محض 8 کنال (0.4 ہیکٹر) ہے۔ زمین کی تقسیم اور جدید سہولیات کی کمی کے باعث پھلوں کا اوسطاً 23 فیصد حصہ بالخصوص شتہوت (51%)، آڑو (28%) اور خوبانی (24%) ضائع ہو جاتا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کے وژن "کھیت سے روشن مستقبل تک — زراعت، لائیو سٹاک اور ماہی پروری کے ذریعے روزگار اور خوشحالی” کے مطابق زرعی شعبے کو جدید اور مارکیٹ سے مربوط بنانا ہے۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ 2050ء تک درجہ حرارت میں 1.5 سے 2.0 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے خدشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، خطے میں آرگینک فارمنگ، کاربن فارمنگ، اور کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر کو فروغ دیا جائے گا۔ 10 سالہ ایکشن پلان کو تین مراحل (بنیادی مرحلہ 2027-29، توسیعی مرحلہ 2030-32، اور استحکام کا مرحلہ 2033-36) میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کا مقصد فارمرز کوآپریٹوز، کولڈ چینز، پروسیسنگ اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی یقینی بنانا ہے۔ مجوزہ ایگریکلچر پالیسی کو نیچرل ریسورس مینجمنٹ (NRM) فورم اور وزارتی مشاورت کے بعد عنقریب رسمی منظوری کے لیے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ تقریب کے اختتام پر گلگت بلتستان حکومت کے نمائندوں اور اعلیٰ حکام نے یورپی یونین کے تکنیکی و مالی تعاون پر سفیر اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور پالیسی پر جامع عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔

جواب دیں

Back to top button