چوبیس سال کے طویل عرصے بعد نئے قانونی فریم ورک کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے ریڈیو پاکستان گلگت کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ریڈیو پاکستان کے خصوصی پروگرام ’’ہم گلگت بلتستان‘‘ میں شرکت کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد، انتخابی شیڈول، تیاریوں، انتخابی طریقہ کار، سکیورٹی انتظامات اور دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر صوبائی الیکشن کمشنر عابد رضا بھی ان کے ہمراہ تھے۔چیف الیکشن کمشنر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں تقریباً 24 سال کے طویل عرصے بعد نئے قانونی فریم ورک کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جو خطے میں جمہوری نظام کے استحکام اور اختیارات کو عوام کی دہلیز تک منتقل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار منعقد کیے جائیں گے اور پہلے مرحلے میں 5 دسمبر 2026ء کو گلگت، اسکردو اور چلاس کی میونسپل کارپوریشنز میں انتخابات ہوں گے، جن کے لیے انتخابی شیڈول کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ ان انتخابات کے انعقاد کے لیے امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں بھی امیدواروں کی درخواست پر توسیع کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشنز کے انتخابات جنرل انتخابات کی طرز پر مکمل انتخابی عمل کے ذریعے منعقد ہوں گے، جبکہ آئندہ مرحلے میں ڈسٹرکٹ کونسلز اور یونین کونسلز کے انتخابات اپریل 2027ء میں کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں انتخابی فہرستوں کی تیاری اور انتخابی حلقوں کی حدبندی سمیت ضروری انتظامی اقدامات جاری ہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی فہرستوں کے حوالے سے بتایا کہ الیکٹورل رولز کی طباعت مکمل ہو چکی ہے اور انتخابی عمل کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے متعلقہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آج ڈی لیمٹیشن کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو کمیٹی کا کنوینئر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔ یونین کونسلز کے انتخابات کے لیے وارڈز کی تشکیل اور حلقہ بندی کا عمل بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق اپیلوں کی سماعت کے لیے دس سیشن ججز کو اپیلیٹ اتھارٹی مقرر کیا گیا ہے۔

انتخابی طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ میونسپل کارپوریشنز کے انتخابات ملٹی ممبر وارڈز کی بنیاد پر ہوں گے، جہاں ووٹرز اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے اور ہر وارڈ سے مقررہ پانچ نشستوں کے لیے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے پانچ امیدوار کامیاب قرار پائیں گے۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کر سکیں گی، جبکہ انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹرز کی سہولت کے لیے بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کی تصاویر بھی شائع کی جائیں گی۔انہوں نے خصوصی نشستوں کے حوالے سے کہا کہ خواتین، نوجوانوں اور غیر مسلموں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے قانون میں خصوصی نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے، جو بلدیاتی نظام کی تشکیل میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان نشستوں کے انتخاب کے لیے متعلقہ انتخابی قواعد و ضوابط کے مطابق طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں سے متعلق حلف برداری کا عمل متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پرامن انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے اور مشاورت کے ذریعے جامع سکیورٹی پلان مرتب کیا جا رہا ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور امیدواروں و ووٹرز کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے ضروری اقدامات کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

راجہ شہباز خان نے کہا کہ صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے مکمل مشاورت اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین، صوبائی کابینہ، اراکین اسمبلی، اپوزیشن لیڈر اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ سیاسی و حکومتی حلقوں کے تعاون اور مشاورت سے انتخابی عمل اس مرحلے تک پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی انتخابات کے انعقاد کے لیے تعاون فراہم کیا جا رہا ہے اور الیکشن کمیشن تمام ضروری انتظامات مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ جمہوری نظام میں بلدیاتی انتخابات نرسری کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے عوام کو اپنے مقامی مسائل کے حل کے لیے منتخب نمائندے میسر آتے ہیں اور اختیارات و ترقیاتی عمل عوام کی دہلیز تک پہنچتا ہے۔ بلدیاتی اداروں کا قیام نہ صرف جمہوری تسلسل بلکہ خطے میں امن، ترقی اور عوامی شمولیت کے فروغ کے لیے بھی اہم ہے۔ طویل عرصے سے موجود بلدیاتی نظام کے خلا کو پُر کرنے کے لیے یہ انتخابات ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں، افواہوں اور پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں اور انتخابی عمل کے حوالے سے مستند معلومات کے لیے الیکشن کمیشن کے سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ گلگت بلتستان میں صاف، شفاف، منصفانہ اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام تر وسائل اور انتظامی اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔پروگرام کے اختتام پر چیف الیکشن کمشنر نے ریڈیو پاکستان کے سامعین کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ عوام جمہوری عمل کا حصہ بنیں اور بلدیاتی انتخابات میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں، کیونکہ عوام کی فعال شرکت ہی جمہوری نظام کو مضبوط بناتی ہے۔اس موقع پر اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان گلگت جار اللہ نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان اور صوبائی الیکشن کمشنر عابد رضا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان ایک قومی نشریاتی ادارے کی حیثیت سے عوام کو مستند معلومات کی فراہمی اور قومی و عوامی اہمیت کے امور کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار جاری رکھے گا، بالخصوص بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو عوام تک پہنچانے کے لیے ریڈیو پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر اور پروفیشنل الیکشن کمشنر عابد رضا کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

جواب دیں

Back to top button