وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا داریل ایکسپریس وے پر جاری کام میں سست روی پر عدم اطمینان کا اظہار

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کے زیر صدارت داریل تانگیر ایکسپریس وے کی تعمیر کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر وزیر اعلیٰ نے داریل ایکسپریس وے پر جاری کام میں سست روی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی تعمیر و ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے داریل ایکسپریس وے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں کسی قسم کی غیرضروری تاخیر ناقابل برداشت ہے۔ آئندہ 15 دنوں میں داریل ایکسپریس وے پر مشینری کی موبلائزیشن اور عملی طور پر کام شروع کیا جائے۔ پی ایم یو آفس کو چلاس سے ختم کرکے شتیال منتقل کیا جائے اور متعلقہ کنسلٹنٹ بھی شتیال آفس میں اپنی حاضری کو یقینی بنائے۔ وزیر اعلیٰ نے کمشنر دیامر / استور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر دیامر کو ہدایت کی کہ متعلقہ ایکسپریس ویز کیلئے درکار زمینوں کے معاوضوں کی ادائیگی کے عمل کو تیز کریں اور پی ایم یو اور کنسلٹنٹ کی شتیال میں حاضری کو یقینی بنائیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ 15دنوں میں عملی طور پر کام شروع نہ ہونے کی صورت میں پی ایم یو سٹاف کی تنخواہیں، کنسلٹنٹ اور ٹھیکیدار کی تمام ادائیگیوں کو روک دیا جائے اور ہر قسم کی ریلیز کو داریل تانگیر ایکسپریس وے کی پراگرس سے مشروط کی جائے۔ اجلاس میں این ایل سی کی جانب سے شرکت کرنے والے سینئر پروجیکٹ منیجر این ایل سی نے یقین دہانی کرائی کہ داریل ایکسپریس وے پر آئندہ 15دنوں میں تمام درکار مشینری کی موبلائزیشن کو یقینی بنایا جائے گا اور اس منصوبے پر تیزی سے کام شروع کیا جائے گا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر مواصلات اور تعمیرات عامہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکریٹری برائے وزیر اعلیٰ، سیکریٹری مواصلات و تعمیرات عامہ، سینئر پروجیکٹ منیجر این ایل سی داریل تانگیر ایکسپریس وے، پروجیکٹ ڈائریکٹر نے شرکت کی جبکہ کمشنر دیامر/ استور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر دیامر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

جواب دیں

Back to top button