قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ میں 8 نومبر 2026 کو ہونے والا ضمنی انتخاب محض ایک خالی نشست پُر کرنے کی کارروائی نہیں بلکہ ضلع گوجرانوالہ کی سیاسی قوت، جماعتی مقبولیت اور حکومتی کارکردگی کا اہم امتحان بن چکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی چوہدری محمود بشیر ورک کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی اس نشست پر 11 امیدوار میدان میں ہیں۔ فراہم کردہ انتخابی اعدادوشمار کے مطابق حلقے میں 5 لاکھ 18 ہزار 620 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جبکہ انتخابی عمل کے لیے 333 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔یہ انتخاب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے نتائج کو صرف ایک حلقے کی کامیابی یا ناکامی نہیں بلکہ گوجرانوالہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت کے پیمانے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ نشست برقرار رکھنا سیاسی ساکھ کا معاملہ ہے، جبکہ مخالف جماعتوں کے لیے اسے حکومتی جماعت کو انتخابی میدان میں چیلنج کرنے کا موقع سمجھا جا رہا ہے۔حلقے میں سیاسی مقابلے کی اصل تصویر مسلم لیگ (ن)، پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور آزاد امیدواروں کے درمیان بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے مرحوم رکن قومی اسمبلی کے صاحبزادے راشد بشیر ورک کو میدان میں اتارا ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قاضی ابراہیم گجر ان کے نمایاں حریف ہیں، جبکہ پاکستان نظریاتی پارٹی کے طیب محمود بھی انتخابی مقابلے میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ منظور قادر بھنڈر، الفت رسول وڑائچ اور دیگر آزاد امیدوار بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ یوں امیدواروں کی تعداد گیارہ ہونے کے باوجود انتخابی دلچسپی کا مرکز راشد بشیر ورک اور قاضی ابراہیم گجر کے درمیان مقابلہ ہے۔
این اے 77 کا انتخابی حلقہ شہری اور دیہی آبادیوں پر مشتمل ہے۔ اس میں گوجرانوالہ کینٹ، قلعہ دیدار سنگھ، لدھیوالہ وڑائچ، راہوالی، تلونڈی کھجور والی اور شاہین آباد سمیت مختلف علاقے شامل ہیں۔ اس جغرافیائی پھیلاؤ کے باعث امیدواروں کے لیے صرف شہر کی حمایت کافی نہیں، بلکہ دیہی آبادیوں، مقامی برادریوں، بااثر خاندانوں اور مختلف علاقوں کے ووٹرز تک رسائی بھی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ انتخابی مہم میں ذاتی تعلقات، برادری ازم، مقامی دھڑے بندی اور سیاسی جماعتوں کی تنظیمی قوت اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے لیے مرحوم رکن قومی اسمبلی کی سیاسی وراثت اور ان کے خاندان سے وابستہ ووٹ ایک اہم قوت ہو سکتے ہیں، تاہم صرف خاندانی وابستگی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ عوام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ انتخابات کے بعد ان کے مسائل کس حد تک حل ہوئے۔ دوسری جانب مخالف امیدواروں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کے بلوں، سڑکوں کی خراب حالت، نکاسی آب، صاف پانی اور سرکاری صحت و تعلیم کی سہولیات جیسے مسائل کو انتخابی بحث کا حصہ بنائیں۔ ووٹرز کے سامنے بنیادی سوال یہی ہے کہ اقتدار میں موجود جماعت نے ان کی زندگی میں عملی بہتری کتنی پیدا کی ہے۔اس انتخاب میں حکومتی وزرا اور سیاسی شخصیات کی حلقے میں آمد بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راشد بشیر ورک کی انتخابی مہم میں شرکت کی اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے حلقے کا دورہ بھی کیا۔ تاہم 7 نومبر کو الیکشن کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا اور 8 نومبر کو صبح گیارہ بجے وضاحت کے لیے طلب کر لیا۔ کمیشن نے ضلعی انتخابی حکام سے رپورٹ بھی طلب کی اور قرار دیا کہ تحقیقات کے حتمی فیصلے تک انتخابی نتیجہ روکا جا سکتا ہے۔ یہ صورت حال انتخابی مہم میں سرکاری عہدوں کے استعمال اور انتخابی ضابطے کی پابندی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتی ہے۔حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ پہلو بھی اہم ہے کہ گوجرانوالہ صنعتی، تجارتی اور زرعی اعتبار سے پنجاب کا اہم ضلع ہونے کے باوجود شہری و دیہی بنیادی سہولیات کے حوالے سے متعدد مسائل رکھتا ہے۔ انتخابی مہم میں ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں کی تعمیر، صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی اور روزگار کے دعوے تو سامنے آتے رہے، لیکن اصل فیصلہ ان منصوبوں کے عملی نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ووٹرز یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے نے قومی اسمبلی میں ان کے مسائل کس حد تک اٹھائے اور حکومتی وسائل ان کی دہلیز تک کتنے پہنچے۔انتخابی انتظامات کے اعتبار سے 333 پولنگ اسٹیشنز میں 142 مردانہ، 137 زنانہ اور 54 مشترکہ پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔ خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 41 ہزار 140 ہے، جو مجموعی ووٹروں کا تقریباً 46.5 فیصد بنتی ہے۔ اس لیے خواتین کا ٹرن آؤٹ بھی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔اب انتخابی مہم اختتام پذیر ہو چکی ہے اور فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے لیے اپنی نشست برقرار رکھنا، مخالف جماعتوں کے لیے حکومتی جماعت کو چیلنج کرنا اور آزاد امیدواروں کے لیے اپنی مقامی حمایت کو ووٹوں میں تبدیل کرنا اصل امتحان ہے۔ بالخصوص یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ برادریوں اور روایتی سیاسی دھڑوں کا ووٹ کس امیدوار کے حصے میں آتا ہے اور عوامی مسائل کا بیانیہ کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔8 نومبر کا انتخاب صرف راشد بشیر ورک یا ان کے مخالف امیدواروں کی کامیابی کا فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی بتائے گا کہ گوجرانوالہ کے ووٹر حکومتی کارکردگی، خاندانی سیاست، جماعتی وابستگی اور متبادل قیادت میں سے کس کو ترجیح دیتے ہیں۔ جمہوریت کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ امیدوار کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، آخری فیصلہ ووٹ کی طاقت سے ہونا چاہیے۔ شفاف، پُرامن اور غیر جانب دارانہ انتخاب ہی عوامی مینڈیٹ کی حقیقی ترجمانی کر سکتا ہے۔




