دس روپے کا نوٹ رخصت،پاکستانی کرنسی ایک نئے دور میں داخل۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

کبھی دس روپے کے نوٹ سے بچے کی جیب خرچ پوری ہو جاتی تھی، اسی نوٹ سے اسکول کی کینٹین میں سموسہ اور چائے مل جاتی تھی اور اسی سے روزمرہ کی چھوٹی موٹی ضروریات پوری ہوتی تھیں۔ وقت بدلا، مہنگائی بڑھی، سکوں اور نوٹوں کی قدر و اہمیت تبدیل ہوئی اور اب پاکستانی کرنسی ایک اور بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دس روپے کے نوٹ کی بندش اور دیگر کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن متعارف کرانے کی منظوری کی خبر نے ایک مرتبہ پھر ملکی کرنسی کی تاریخ کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔پاکستان میں کاغذی کرنسی کی تاریخ قیام پاکستان سے بھی دلچسپ تعلق رکھتی ہے۔ آزادی کے ابتدائی دنوں میں پاکستان میں بھارتی کرنسی کے نوٹوں پر حکومت پاکستان کی مہر اور عبارت ثبت کرکے انہیں استعمال کیا جاتا تھا۔ یکم اکتوبر 1948ء کو حکومت پاکستان نے پہلی مرتبہ اپنے نام سے پانچ، دس اور سو روپے کے نوٹ جاری کیے۔ بعد ازاں یکم مارچ 1949ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی پہلی کرنسی سیریز متعارف کرائی۔ ابتدائی نوٹوں پر قائداعظم کی تصویر موجود نہیں تھی، تاہم بعد میں 1957ء میں سو روپے کے نوٹ پر قائداعظم کی تصویر متعارف ہوئی اور پھر یہ قومی کرنسی کی مستقل شناخت بن گئی۔وقت گزرنے کے ساتھ ایک روپے، دو روپے، پانچ روپے، دس روپے، بیس روپے، پچاس روپے، سو روپے، پانچ سو روپے، ایک ہزار اور پانچ ہزار روپے کے نوٹ مختلف ادوار میں متعارف ہوتے اور تبدیل ہوتے رہے۔ پانچ روپے کا نوٹ پہلے ہی بند ہو چکا ہے جبکہ ایک اور دو روپے کے کاغذی نوٹوں کی جگہ سکوں نے لے لی۔ اب دس روپے کے نوٹ کو بھی ختم کرنے کی تجویز کی بنیادی وجہ اس کی تیاری پر آنے والی بڑھتی ہوئی لاگت بتائی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے اگست 2026ء میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ دس روپے کے نوٹ کی پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث اسے ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ نئے نوٹ چھاپنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ دراصل کرنسی محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ریاست کی مالیاتی شناخت اور معیشت میں لین دین کا بنیادی ذریعہ ہے۔ وقت کے ساتھ پرانے نوٹ پھٹتے، خراب ہوتے اور ناقابل استعمال ہو جاتے ہیں۔ ان کی جگہ نئے نوٹ چھاپنا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری طرف جعلی کرنسی کی روک تھام بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی لیے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نوٹوں میں حفاظتی دھاگے، واٹر مارک، باریک تحریر، خصوصی روشنائی اور دیگر ایسی علامات شامل کی جاتی ہیں جن کی نقل کرنا آسان نہیں ہوتا۔نوٹوں کے ڈیزائن میں تبدیلی صرف خوبصورتی کے لیے نہیں کی جاتی بلکہ اس کے ذریعے قومی تاریخ، ثقافت، جغرافیائی تنوع، تاریخی عمارتوں اور قومی تشخص کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ نئے ڈیزائن میں خواتین کے قومی کردار اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات کو شامل کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔اس سارے نظام میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اسے ملک میں کرنسی نوٹ جاری کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ یہ ادارہ نوٹوں کی ضرورت کا تخمینہ لگاتا، ان کے ڈیزائن اور حفاظتی خصوصیات پر کام کرتا، پرانے اور خراب نوٹ واپس جمع کرتا اور نئے نوٹوں کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ تاہم کسی کرنسی نوٹ کو قانونی طور پر بند کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956ء کی دفعہ 25(2) کے تحت وفاقی کابینہ، اسٹیٹ بینک بورڈ کی سفارش پر یہ فیصلہ کرتی ہے۔یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ نئے ڈیزائن کی منظوری اور کسی مالیت کے نوٹ کی قانونی حیثیت ختم ہونا دو الگ معاملات ہیں۔ ستمبر 2026ء میں اسٹیٹ بینک نے دس روپے کے نوٹ کی بندش سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت کسی مالیت کے نوٹ کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ لہٰذا دس روپے کے نوٹ کی عملی بندش اور پرانے نوٹ تبدیل کرانے کی تاریخ کے لیے اسٹیٹ بینک کا باقاعدہ سرکاری اعلامیہ ضروری ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ کرنسی کا بدلتا ہوا چہرہ کسی ملک کی معاشی ترجیحات، ٹیکنالوجی اور ترقی کے سفر کی عکاسی کرتا ہے۔ دس روپے کا نوٹ رخصت ہو یا نئے ڈیزائن کے نوٹ ہماری جیبوں میں آئیں، اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستانی کرنسی جعل سازی سے محفوظ، عوام کے لیے قابل اعتماد اور معیشت کے لیے مؤثر ثابت ہو۔ کیونکہ نوٹ کا اصل حسن اس کے رنگ، نقش و نگار یا تصویر میں نہیں بلکہ اس پر عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتا ہے۔تحقیقی نوٹ: اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر دس روپے کا نوٹ تاحال قانونی زرِ ادائیگی کے طور پر درج ہے۔ حتمی بندش کے لیے سرکاری نوٹیفکیشن کو ہی مستند سمجھا جائے۔

جواب دیں

Back to top button