توشہ خانہ: تحفوں کی چمک سے قومی امانت تک، ایک طویل داستان۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

ریاستی عہدہ محض اختیار، پروٹوکول اور مراعات کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک بھاری ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ بیرونِ ملک دوروں یا پاکستان کے سرکاری مہمانوں کی جانب سے صدر، وزیراعظم، وزرا، سفارت کاروں اور دیگر سرکاری شخصیات کو ملنے والے تحائف اسی ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان تحائف کو ذاتی ملکیت تصور کرنے کے بجائے توشہ خانہ میں جمع کرانے کا نظام قائم کیا گیا۔پاکستان کا توشہ خانہ 1974 میں قائم ہوا اور کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں رکھا گیا۔ اس میں غیر ملکی حکومتوں اور شخصیات کی جانب سے ریاستی عہدیداروں کو دیے جانے والے قیمتی تحائف محفوظ کیے جاتے ہیں۔27 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی نئی تفصیلات بھی اسی روایت کا تسلسل ہیں۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق 28 جولائی سے 9 ستمبر تک موصول ہونے والے تمام تحائف توشہ خانہ کے سپرد کیے گئے اور ان کی مالیت کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ اس فہرست میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 19 تحائف کے ساتھ نمایاں ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے نام 10، صدر آصف علی زرداری کے نام 7 اور وزیر ریلوے حنیف عباسی کے نام 5 تحائف درج ہیں۔ صدر زرداری کو موسیقی کے آلات، آرچری سیٹ، فیصل مسجد کا فریم اور شطرنج کا سیٹ، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کو کرغزستان سے ایک ہزار گرام خالص سونا، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، بیلاروس کا آرائشی تحفہ، بنگلہ دیش سپریم کورٹ کا ماڈل اور عطر سمیت دیگر اشیا موصول ہوئیں۔اصل سوال یہ ہے کہ تحفہ آخر توشہ خانہ میں جمع کرانا کیوں ضروری ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ سرکاری عہدہ رکھنے والا شخص کسی غیر ملکی ریاست یا سربراہ سے ملنے والا تحفہ اپنی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ ریاستی نمائندے کی حیثیت سے وصول کرتا ہے۔ موجودہ 2023 طریقۂ کار کے تحت سرکاری شخصیات پر لازم ہے کہ تحائف، ان کی مالیت سے قطع نظر، 30 دن کے اندر کابینہ ڈویژن کو رپورٹ اور توشہ خانہ میں جمع کرائیں؛ بیرونِ ملک دورے کی صورت میں واپسی کے 30 دن کی مدت مقرر ہے۔ تحفہ جمع ہونے کے بعد اس کی قدر کا تعین کیا جاتا ہے۔ موجودہ قواعد میں بعض تحائف مقررہ شرائط کے تحت ادائیگی کے بعد رکھنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ بعض تحائف ریاستی ملکیت رہتے ہیں۔ سرکاری پالیسی میں یہ بھی واضح ہے کہ جو تحائف ذاتی طور پر نہیں رکھے جا سکتے انہیں نمائش، خیراتی مقاصد یا عوامی نیلامی کے ذریعے نمٹایا جا سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب توشہ خانہ شفافیت کے بجائے سیاسی تنازعات کا مرکز بن گیا۔ 2020 میں نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری کے خلاف تحائف کی مبینہ کم قیمت لگانے کے معاملے پر نیب ریفرنس سامنے آیا۔ بعد ازاں عمران خان کے تحائف، ان کی تفصیلات ظاہر کرنے اور فروخت سے حاصل رقم کے معاملات نے ملک گیر سیاسی اور قانونی تنازع کو جنم دیا؛ الیکشن کمیشن نے 2022 میں غلط بیانات اور ڈیکلریشن کے حوالے سے فیصلہ بھی دیا۔ 2023 میں حکومت نے 2002 سے آگے کا بڑا توشہ خانہ ریکارڈ منظرِ عام پر لایا تو معلوم ہوا کہ مختلف ادوار میں تقریباً ہر بڑی سیاسی حکومت کے عہدیداروں نے تحائف رکھے تھے۔ آصف علی زرداری کی جانب سے قیمتی گاڑیوں کا حصول، نواز شریف کے مہنگے تحائف، اور عمران خان کے قیمتی گھڑیوں سمیت متعدد تحائف برقرار رکھنے کے معاملات نے نظام کی کمزوریوں، تخمینہ کاری اور ادائیگی کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔توشہ خانہ دراصل تحائف کا گودام نہیں بلکہ ریاستی امانت کا امتحان ہے۔ تحفہ خواہ سونے کا ہو یا شطرنج کے معمولی سیٹ کا، اصل قدر اس کی قیمت نہیں بلکہ اس سے وابستہ قومی اعتماد ہے۔ اگر قواعد واضح، تخمینہ شفاف، ریکارڈ بروقت اور نیلامی کھلے عام ہو تو توشہ خانہ تنازع کا نہیں بلکہ ریاستی دیانت اور جواب دہی کی مثال بن سکتا ہے۔ ستمبر 2026 میں کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ (انتظام و انضباط) قواعد 2026 بھی جاری کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظام کو مزید باقاعدہ بنانے کا عمل جاری ہے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ حکمران کو کون سا تحفہ ملا، بلکہ یہ ہے کہ ریاست کے نام پر ملنے والا تحفہ ریاست کے اعتماد کے ساتھ کتنا انصاف کرتا ہے؟ یہی سوال توشہ خانہ کی پوری تاریخ کا سب سے بڑا آئینہ ہے۔

جواب دیں

Back to top button