جدید دور کثیرالجہتی اور کثیر النواع معاشرتی سماجی اظہار سے مرکب ہے۔یہاں قدیم اور جدید مظاہر کو ایک ساتھ متحرک اور فعال دیکھا جا سکتا ہے۔گو کہ حالات جوں کے توں نہیں رہتے۔بلکہ حرکت،کشمکش اور تغیر پزیری ہر لمحہ جاری ہے۔جو کل تھا وہ آج نہیں اور آئندہ کل بھی مختلف ہو گا۔ہمارا معاشرہ روز بروز پچیدگی کی طرف گامزن ہے۔انسانی آبادی کا اضافہ اور قدرتی وسائل میں کمی اورموسمیاتی تبدیلیاں،انسانی ضروریات کی طلب اور رسد میں بڑھتے فرق نے ملکوں کی حکمرانی کو بھی پیچیدہ اور ادارہ جاتی بنانے کا متقاضی بنا دیا ہے۔دور حاضر میں کامیاب حکومت اسے سمجھا جاتا ہے جو اپنے عوام کو مطمین اور آسائش زدہ زندگی اور معاشرت فراہم کر سکے۔اسی لئے خوشحالی اور فلاحی معاشرہ کی اصطلاحی زبان استعمال ہوتی ہے۔ہم عصر حاضر میں اچھی اور بہتر حکومت کو جانچنے کے لئے مختلف اشاریے استعمال ہوتے ہیں۔سب سے بڑا پیمانہ تو یہی قرار پایا ہے کہ عوام اپنے میں سے ہی اپنی حکومت کو منتخب کیا ہو۔یعنی وہ خود ہی منتخب کرتے ہیں۔اور استفادہ کند گان بھی خود ہی ہوتے ہیں۔دوسرا اشاریہ ہے کہ عوام کی منتخب کردہ حکومت کس انداز اور کن طریقوں سے حکومت کر رہی ہے۔اور اسے انداز حکمرانی کہتے ہیں۔اس کی خصوصیات ہوتی ہیں۔جن کا لب لباب اصطلاحی زبان میں گڈ گورننس کا نام دیا جاتا ہے۔اور تیسرا بڑا پیمانہ ہوتا ہے۔کہ حکمرانی ادارہ جاتی ذرائع کے ذریعہ سر انجام دی جا رہی ہو۔یہی وجہ ہے کہ جدید جمہوری ممالک میں لا تعداد محکمے اور ادارے تشکیل دئیے جاتے ہیں۔بے شمار قوانین اور قواعد بنائے جاتے ہیں۔یہ سارا کچھ معاشرہ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ضروری لوازمات ہیں۔اسی لئے جدید حکومتی مشینری مختلف درجاتی اور کثیر النواع شکلوں کے ذریعے قائم نظر آتی ہے۔اس پچیدہ اور کثیر انواع حکمرانی کو موثر اور با اختیار شکل میں فعال رکھنے کے لئے پالیسیاں اور پالیسی ساز ادارے بنائے جاتے ہیں،یہ انداز حکمرانی ماضی کے قبائل اور شاہی انداز حکمرانی سے مختلف ہوتا ہے۔جہاں ظل الٰہی کے فرمان اور پسند،نا پسند سے معاشرے ریگولیٹ ہوتے رہے ہیں۔بلکہ جدید دنیا میں قانون کی بالادستی مقدم ہوتی ہے۔بنیادی انسانی حقوق اور فرد کی آزادی کا تصور سب سے اعلی ہے۔آج کی دنیا میں اختیارات کی عدم مرکزیت بلکہ نچلی سطح پر منتقلی اور عوامی شراکت سے منصوبہ سازی ہی پسندیدہ رجحان ہے ساری حکمرانی انہی دو اصولوں کے عملی اطلاق پر مبنی ہو تو اسے بہترین انداز حکمرانی تصور کیا جاتا ہے۔اور اسی طرح مقامی حکومتی ادارے فعال ہوتے ہیں۔جن کے توسط سے روز مرہ کی ضروریات زندگی کی مینجمنٹ کی جاتی ہے۔مگر مقامی حکومتی کسی بڑے حکومتی فریم ورک کا حصہ ہوتی ہیں۔جس کے ذریعے صوبے اور ملک کی حکومت سرگرم عمل ہوتی ہے۔یہ سارا حکومتی انتظام جتنا منضبط اور ڈسپلن میں ہو گا اتنا ہی بہترین نتائج پرآمد ہوں گے۔چونکہ حکومتی کاروبار بڑا پیچ ہوتا ہے اس لئے ڈیجیٹل طریقہ آسانیاں پیدا کرتا ہے۔اس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے۔اور عوام کی سہولت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اور یہی سمارٹ گورننس کہلاتی ہے۔پاکستان میں اب کئی ایک بنیادی سہولیات ڈیجیٹل انداز میں فراہم کی جا رہی ہیں۔ان میں روز بروز اضافہ بھی ہو رہا ہے۔اور بہتری بھی آ رہی ہے۔مسائل بھی ہیں۔مگر مسائل کا حل بھی ہو رہا ہے۔عوام کی بڑی تعداد اس سے مستفید بھی ہو رہی ہے۔بالخصوص مالیاتی لین دین کاروبار خرید و فروخت میں تو یہ عام فہم بن گیا ہے۔مگر مقامی حکومتوں کے حوالہ سے تعارف تو ہے۔لیکن ابھی زیادہ پزیرائی نہیں ہو سکی۔کچھ سرٹیفکیشن کا حصول تو ممکن ہوا ہے لیکن ابھی بھی ترقیاتی منصوبوں کے حوالہ سے معلومات تک پبلک کی رسائی بہ آسانی نہیں ہے۔گو کہ قانون اور قواعد موجود ہیں مگر عوامی سطح پر اس کا استعمال زیادہ نہیں ہے۔پنجاب میں محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی ویب سائٹس ہیں۔اور وزیر اعلی کے خصوصی پروگرام ستھرا پنجاب اور مثالی گاؤں کے علاوہ دیگر خدمات کے حوالہ سے بھی ہیلپ لائن موجود ہیں۔مگر عوامی سطح پر اتنا زیادہ استعمال نہیں ہوتا۔جتنی عوامی ضروریات کے تحت تقاضے ہوتے ہیں۔بڑی وجہ مناسب تشہیر نہ ہونا یا عوامی آگاہی زیادہ نہ ہونے کے باعث ہوتا ہے۔اس پر متعلقہ محکموں کو توجہ دینی ہو گی۔اس تشہیر اور آگاہی مہم بڑھانے کے حوالہ سے محکمہ اور حکومت پنجاب سول سوسائٹی اداروں کے ساتھ بھی تعاون بڑھا سکتی ہے۔جو شاید زیادہ موثر ہو گا۔محکمہ لوکل گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ لوکل گورنمنٹ اداروں کے تحت مہیا کی جانے والی سہولیات کے لئے بھی ڈیجیٹل استعمال بروے کار لایا جانا چاہیے۔یہی ایک صورت ہے کہ سار ی مقامی حکمرانی کو ڈیجیٹلائز کیا جا سکے گا۔ان میں یوٹلیٹی بلز کی فراہمی اور وصولی کا سلسلہ بھی آن لائن کیا جا سکتا ہے۔جو پہلے سے ہے تو سہی مگر زیادہ جامع بنایا جا سکتا ہے۔
Read Next
کالم
جنوری 26, 2026
*مجوزہ آئینی ترمیم اور مقامی حکومتیں* تحریر:زاہد اسلام
فروری 21, 2026
*گڈ گورننس پر بحث مقامی حکومتوں کے تناظر میں* تحریر:زاہد اسلام
فروری 9, 2026
*بسنت تہوار کی کامیابی کے بعد کیا کیا جائے* تحریر :زاہد اسلام*
جنوری 26, 2026
*مجوزہ آئینی ترمیم اور مقامی حکومتیں* تحریر:زاہد اسلام
جنوری 26, 2026
*مقامی حکومتوں کو با اختیار بنانے کی مہم* تحریر:زاہد اسلام
جنوری 22, 2026





