*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا انسداد ریبیز مہم چلانے کا اعلان*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبہ بھر میں انسدادِ ریبیز مہم کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت سندھ آگاہی، بہتر علاج، ویکسین کی فراہمی اور آوارہ کتوں کی آبادی پر مؤثر کنٹرول کے ذریعے ریبیز سے ہونے والی قابلِ تدارک اموات کے خاتمے کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی اختیار کرے گی۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ریبیز ایک سنگین مگر قابلِ تدارک عوامی صحت کا مسئلہ ہے اور تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے بروقت علاج، عوامی آگاہی اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔اجلاس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری اطلاعات ندیم میمن، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، انڈس اسپتال کے ڈاکٹر عبدالباری، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر وقار میمن، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی ایچ آئی جاوید جاگیرانی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 2025 کے دوران سندھ میں کتے کے کاٹنے کے 2 لاکھ 85 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ بڑے اسپتالوں میں ریبیز سے 22 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئیں۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ جنوری سے اپریل 2026 تک 85 ہزار 891 سگ گزیدگی کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔مہم کا آغاز کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے علاج اور احتیاطی نظام دونوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ریبیز مکمل طور پر قابلِ تدارک بیماری ہے اور کسی شہری کی جان آگاہی، ویکسین یا بروقت علاج کی کمی کے باعث نہیں جانی چاہیے۔”انہوں نے کہا کہ سندھ بھر کے طبی مراکز میں اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبیولن کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ریبیز کے مؤثر تدارک کے لیے صحت، بلدیاتی اداروں، ریسکیو سروسز، میڈیا اور سماجی تنظیموں پر مشتمل کثیرالجہتی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے مرحوم ماہر امراضِ متعدیہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستان میں ریبیز کی روک تھام کی علمبردار قرار دیا اور کہا کہ “ریبیز فری پاکستان” کے لیے ان کی زندگی بھر کی جدوجہد مستقبل کے صحتِ عامہ منصوبوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 2022 میں شروع کیے گئے سندھ ریبیز کنٹرول پروگرام کے تحت 20 اضلاع میں آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن مہم جاری ہے۔ اب تک 25 ہزار 500 سے زائد کتوں کی نس بندی کی جاچکی ہے جبکہ کراچی، مٹیاری، دادو، ٹنڈو اللہ یار اور دیگر اضلاع میں قائم ریبیز کنٹرول پروگرام سینٹرز کے ذریعے 36 ہزار 900 سے زائد کتوں کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، جامشورو، خیرپور، میرپورخاص، عمرکوٹ اور دیگر اضلاع میں مزید 11 مراکز جلد فعال ہوجائیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے بلدیاتی اداروں کو شہری اور دیہی علاقوں میں آوارہ کتوں کی آبادی پر کنٹرول کے پروگرام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آوارہ کتوں کے مسئلے کے حل کے لیے عارضی اقدامات کے بجائے انسانی، سائنسی اور پائیدار حکمت عملی اپنانا ہوگی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے متاثرین کے ابتدائی علاج کے لیے عالمی ادارۂ صحت کے معیار کے مطابق 278 انسداد ریبیز مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ شدید متاثرہ کیسز کے علاج کے لیے 112 ریفرل سینٹرز فعال کیے گئے ہیں جہاں چوبیس گھنٹے اینٹی ریبیز ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبیولن دستیاب ہے۔وزیر صحت نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ جاری پروگرام کے دوران 63 ہزار سے زائد مریضوں کو اینٹی ریبیز ویکسین جبکہ 8 ہزار 700 سے زائد مریضوں کو ای آر آئی جی علاج فراہم کیا جاچکا ہے۔مراد علی شاہ نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ تمام ریفرل سینٹرز کو مکمل طور پر فعال اور مطلوبہ عملے سے آراستہ رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات، عملے یا سہولیات کی کمی کے باعث کسی مریض کو علاج سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ عالمی ادارۂ صحت کے منظور شدہ رہنما اصولوں کے تحت انڈس اسپتال ہیلتھ نیٹ ورک کے تعاون سے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ریسکیو 1122 اہلکاروں کی تربیت جاری ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹی وی، پرنٹ، سوشل میڈیا، اسکولوں اور کمیونٹی پروگرامز کے ذریعے سات روزہ صوبائی آگاہی مہم بھی شروع کی گئی تاکہ عوام کو کتے کے کاٹنے کے بعد احتیاط، ابتدائی طبی امداد اور بروقت علاج سے متعلق آگاہ کیا جاسکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اے آر وی پیشنٹ ٹریکنگ سسٹم کی تیاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سندھ بھر میں سگ گزیدگی کے واقعات، ویکسینیشن اور فالو اپ خوراکوں کی حقیقی وقت میں نگرانی کی جاسکے گی۔چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ حتمی منظوری کے فوراً بعد ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم فعال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی سے ردعمل کا وقت بہتر ہوگا، جوابدہی بڑھے گی اور قیمتی جانیں بچائی جاسکیں گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ اطلاعات کو ہدایت دی کہ اردو، سندھی اور علاقائی زبانوں میں آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی ہی ریبیز کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ہے۔

جواب دیں

Back to top button