*ولیکا اسپتال سے ایڈز پھیلنے کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ نے سخت کارروائی کا حکم دے دیا*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کے روز محکمہ محنت کو ہدایت کی ہے کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے معاملے میں سخت احتساب، بلا تعطل علاج اور طویل المدتی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کے زیر انتظام کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کیسز کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اب تک 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے، جبکہ مختلف تحقیقات کے بعد درجنوں افسران اور طبی عملے کے خلاف محکمانہ کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔اجلاس میں صوبائی وزیر محنت سعید غنی، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، سیکریٹری ٹو چیف منسٹر آصف جمیل، سیکریٹری محنت ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، کمشنر سیسی اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ معاملہ پہلی بار 23 اکتوبر 2025 کو سامنے آیا، جب ایچ آئی وی کے چھ مثبت کیسز رپورٹ ہوئے۔ بعد ازاں محکمہ محنت و افرادی قوت نے انکوائری کا حکم دیا، جبکہ سیسی نے اپنے میڈیکل ایڈوائزر کی سربراہی میں تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔وزیر محنت سعید غنی کی جانب سے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اسپتال، بالخصوص شعبہ اطفال اور لیبارٹری کی جانچ پڑتال کی اور 6 نومبر 2025 کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں 16 ایسے بچوں کی نشاندہی کی گئی جو ایچ آئی وی سے متاثرہ تھے اور جن کا تعلق شعبہ اطفال سے تھا۔ رپورٹ میں انتظامی، طریقہ کار اور انفیکشن کنٹرول سے متعلق سنگین خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔وزیر محنت نے اجلاس کو بتایا کہ تحقیقات میں معیاری عملی طریقہ کار کی عدم موجودگی، جراثیم سے پاک کرنے کے عمل کی ناکافی نگرانی، بایومیڈیکل فضلے کو غیر مناسب طریقے سے تلف کرنا، بایو ہیزرڈ کنٹینرز کی کمی، اسٹاک کے ناقص انتظام، ایک بار استعمال ہونے والے طبی سامان کی قلت، ناقص ریکارڈ، ایچ آئی وی ٹیسٹنگ کی ناکافی سہولیات، اور ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی باقاعدہ فالو اپ نہ ہونے جیسے سنگین مسائل سامنے آئے۔کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایک بار استعمال ہونے والے طبی آلات، جن میں سرنجیں بھی شامل ہیں، ممکنہ طور پر غیر مناسب طریقے سے استعمال کی گئیں، جبکہ طبی عملہ انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں اور ذاتی حفاظتی سامان کے استعمال پر مستقل طور پر عمل نہیں کر رہا تھا۔وزیراعلیٰ سندھ کو مزید بتایا گیا کہ متاثرہ خاندانوں اور سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی جانب سے شکایات موصول ہونے کے بعد اس معاملے کی سنگینی میں اضافہ ہوا، جن میں اسپتال میں انفیکشن کنٹرول کے طریقہ کار میں سنگین غفلت کی نشاندہی کی گئی تھی۔وزیر محنت سعید غنی نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ انکوائری کے بعد سیسی نے متعدد اصلاحی اقدامات کیے، جن میں کلثوم بائی والیکا اسپتال میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی) سینٹر کا قیام بھی شامل ہے۔ یہ سینٹر 15 نومبر 2025 کو قائم کیا گیا اور محکمہ صحت سندھ کے کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) پروگرام کی جانب سے خصوصی تربیت کے بعد 24 نومبر 2025 کو مکمل طور پر فعال ہو گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بعد ازاں ایچ آئی وی سے بچاؤ کے اصول اور معیاری عملی طریقہ کار تیار کرکے سندھ بھر میں سیسی کے تمام طبی مراکز کو جاری کیے گئے۔ 300 سے زائد ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی اسکریننگ بھی کی گئی، جس کے دوران دو ملازمین میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، تاہم بعد میں ان کے اہل خانہ کے تمام ٹیسٹ منفی آئے۔وزیر محنت نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ دسمبر 2025 میں اُس وقت کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سمیت نو دیگر افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔ شوکاز نوٹسز پر غیر تسلی بخش جوابات موصول ہونے کے بعد فروری 2026 میں مزید کارروائی عمل میں لائی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی محتسب سندھ نے بھی ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعدد ہدایات جاری کیں، جن میں اُس وقت کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا تبادلہ، ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے لیے علیحدہ آئسولیشن وارڈ کا قیام، جامع انکوائری، اسپتال کے نظام کا تھرڈ پارٹی آڈٹ، اور تمام متاثرہ بچوں کو سرکاری خرچ پر بہترین علاج کی فراہمی شامل تھی۔ان ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے لیے آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا، او پی ڈی اور داخل مریضوں کی معمول کے مطابق ایچ آئی وی اسکریننگ شروع کی گئی، جبکہ خریداری، اسٹاک مینجمنٹ اور بجٹ کے استعمال کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی آڈٹ کا حکم بھی دیا گیا۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نائلہ ظہیر کی سربراہی میں قائم دوسری جامع تحقیقاتی کمیٹی نے 19 جون 2026 کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ کمیٹی نے انتظامی، نگرانی اور آپریشنل غفلت پر متعدد افسران اور اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بڑی اور معمولی سزاؤں کی سفارش کی۔رپورٹ کی روشنی میں سابق اور موجودہ منتظمین، ڈاکٹروں، نرسوں، لیبارٹری عملے اور معاون عملے سمیت 37 افسران اور اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ ان تمام افراد کو 3 جولائی 2026 کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اس معاملے سے متعلق ایک آئینی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جبکہ متعلقہ حکام سے عدالت نے جواب طلب کر رکھا ہے۔وزیر محنت نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی معروف ماہرِ امراض اطفال و متعدی امراض پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ میر کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں، جو ایچ آئی وی سے متاثرہ اور دیگر پیچیدہ انفیکشنز میں مبتلا بچوں کو خصوصی طبی مشاورت اور علاج فراہم کر رہی ہیں۔ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے اور انہیں علاج کے مراکز سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ علاج کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ انہوں نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے علاج، فلاح، بحالی اور طویل المدتی نگہداشت کے لیے دو ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تحقیقات کے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی غفلت یا بدانتظامی ثابت ہوئی، حکومت مکمل احتساب کو یقینی بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی زندگیاں انتہائی قیمتی ہیں۔ طبی ضابطوں میں ایسی کوئی بھی کوتاہی، جس سے مریضوں کی جان خطرے میں پڑے، ناقابل قبول ہے اور قانون کے مطابق اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ محنت، محکمہ صحت اور سیسی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام متاثرہ بچوں کو بلا تعطل، مفت علاج، ادویات، تشخیصی سہولیات اور فالو اپ کی سہولت فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ذمہ داری متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ ہر بچے کو بغیر کسی مالی بوجھ کے بہترین علاج، مشاورت اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں۔وزیراعلیٰ نے سندھ بھر میں سیسی کے تمام اسپتالوں اور طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جراثیم سے پاک کرنے، طبی فضلہ تلف کرنے اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق تمام ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہمارے صحت کے نظام میں مریضوں کے تحفظ کے معیار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے احتیاطی نظام، نگرانی کے مؤثر طریقہ کار اور احتساب کے فریم ورک کو ادارہ جاتی بنیادوں پر نافذ کرنا ناگزیر ہے تاکہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔مراد علی شاہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی میرٹ پر اور بلا تاخیر مکمل کی جائے، تھرڈ پارٹی آڈٹ کو جلد حتمی شکل دی جائے، نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، اور علاج، بحالی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹس پیش کی جائیں۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ متاثرہ خاندانوں کو جامع طبی، سماجی اور مالی معاونت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ سیسی کے تمام اسپتالوں اور طبی مراکز میں صحت کی سہولیات کے معیار، انفیکشن سے بچاؤ اور مریضوں کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے نظامی اصلاحات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button