محمد سہیل خان آفریدی کی زیرِ صدارت بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور توانائی سے متعلق امور پر اہم اجلاس

اجلاس میں صوبائی وزیر توانائی نذیر عباسی، ممبران قومی اسمبلی ارباب شیر علی، شاندانہ گلزار خان ، ایم پی اے اکبر ایوب خان ، محکمہ توانائی، پشاور ایلیکٹرک سپلائی کمپنی، ٹرائبل ایلیکٹرک سپلائی کمپنی اور ہزارہ ایلیکٹرک سپلائی کمپنی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ کا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، منصوبوں میں تاخیر اور عوامی مشکلات پر سخت برہمی کا اظہار، وزیر اعلیٰ کی زیر التوا 1638 کیسز کو جلد نمٹانے کی ہدایت، ادائیگیوں کے باوجود کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور دیگر سامان کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار، محکموں سے رقوم وصول کرنے کے بعد بھی بجلی کی فراہمی میں تاخیر عوامی وسائل کا ضیاع ہے، وزیر اعلی نے پشاور، ٹرائبل اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کو تمام زیر التوا کیسز فوری نمٹانے کی ہدایت کی اور کہا کہ متعلقہ ادارے سیاسی ترجیحات نہیں، عوامی مفاد، انصاف اور میرٹ کو مقدم رکھیں،وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو شدید گرم علاقوں میں ستمبر جبکہ دیگر علاقوں میں دسمبر تک بجلی کی جاری اسکیمیں مکمل کر کے فعال بنانے کی ہدایت بھی کی۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ فنڈز کی دستیابی کے باوجود خریداری میں تاخیر سے لاگت بڑھی تو اضافی مالی بوجھ متعلقہ محکمہ برداشت کرے گا،بجلی کے کنکشن میں تاخیر سے عوام کو سہولیات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، اپنی ضرورت سے دو گنا زائد بجلی پیدا کرنے کے باوجود خیبرپختونخوا کے ساتھ ناانصافی اور امتیازی سلوک جاری ہے،عوام لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کا عذاب بھگت رہے ہیں، جبکہ وفاق صوبے کے آئینی اور مالی حقوق بھی ادا نہیں کر رہا، پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق پر خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں، ہم اپنی ضرورت سے زائد گیس پیدا کر کے وفاق کو دیتے ہیں، لیکن ہمارے اپنے سی این جی اسٹیشن بند کر دیے جاتے ہیں، وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے.

جواب دیں

Back to top button