وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی او آئی سی پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہد کی پیشکش

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے او آئی سی پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہد کی پیشکش کی اورکہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا ایک طبقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی کامیابی ہے۔ 9ویں اوآئی سی منسٹیرئل کانفرنس برائے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اوآئی سی منسٹیرئل کانفرنس برائے خواتین کے شرکاء کا خیر مقدم کیااورکہا کہ کانفرنس میں شریک تمام ممالک کے شرکاء کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ پاکستان پرامن ملک اورپرجوش میزبانی کرنے والے لوگوں کی دھرتی ہے۔خواتین سے متعلق کانفرنس میں شرکت میرے لیے اعزاز ہے۔اسلام میں خواتین کے حقوق سے متعلق واضح احکامات ہیں۔ اوآئی سی کانفرنس سے خطاب میرے لیے اعزاز ہے۔ فاطمہ جناحؒ اپنے بھائی قائد اعظم محمد علی جناح کے لئے ایک مضبوط سہارا بنیں۔میری والدہ محترمہ کلثوم نوازنے بھی والد محترم کا بھرپور ساتھ نبھایا۔والدہ محترمہ کلثوم نواز سے میں نے ہمیشہ ہمت اور جرات کا سبق لیا۔خواتین کو بااختیار بنانا ایک طبقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے مفید ہے۔ تعلیم،صحت اورروزگار خواتین کیلئے بنیادی حقوق ہے۔خواتین کے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔شہید بے نظیر بھٹو مسلم امہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ خواتین کو ڈویلپمنٹ کے سفر میں شریک نہیں بلکہ رہبر ہونا چاہیے۔ پنجاب میں اب خواتین کے لئے مواقع محدود نہیں بلکہ واضح ہیں۔ سکالر شپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں خواتین کے لئے30 یا 40 فیصد کوٹہ نہیں بلکہ ان کا حصہ 60 فیصد سے زائدہے۔حکومت پنجاب کے ہر پراجیکٹ کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کی کامیابی نظر آتی ہے۔ ”اپناگھر،ا پنی چھت“ میں پہلا گھر بنانے والی خاتون تقریبات میں ڈیکوریٹر کا کام کرتی ہے۔ ”اپنا گھر،اپنی چھت“کے تحت گھر بنانے کے بعد اب وہ بچیاں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ملکیت کا تصور اب صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ اپنا کھیت،اپنا روزگار میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ہونہار سکالر شپ محض معاشی معاونت نہیں بلکہ بہادر بیٹیوں کی کہانی ہے۔ ایک بچی محض اس وجہ سے تعلیم سے محروم ہوسکتی تھی کیونکہ اس کا والد ایک بچے کی فیس افورڈ کرسکتا تھا۔ ہونہارسکالر شپ نے بچی کو بھائی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنایا۔خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جارہا ہے۔یونیورسٹیوں میں بچیاں محض کتابیں نہیں بلکہ امید اور بہتر مستقبل کی توقع میں آتی ہیں۔ ٹورازم سمیت دیگر ڈیپارٹمنٹس میں بچیوں کیلئے انٹرن شپ کے بہترین مواقع مہیا کیے جارہے ہیں۔ ٹیلر نگ شاپ، کوکنگ سمیت خواتین کے لئے اپنا روزگار پروگرام کے ذریعے مواقع موجود ہیں۔ ہر گاؤں اب گلوبل اکانومی کا شاندار راستہ اور حصہ بن رہا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دیہی خواتین کو لائیوسٹاک دیکر معاشی طور پر خودمختار بنایا جارہا ہے۔صنعت زار کے ذریعے ہنرمند خواتین کی پراڈکٹ متعارف کرائی جارہی ہے۔ سپیشل خواتین کیلئے بھی معاشی خود مختاری کے مواقع مہیا کیے جارہے ہیں۔دھی رانی پروگرام کے ذریعے معاشی مشکلات کاسامنا کرنے والی بیٹیوں کی معاونت کی جارہی ہے۔خواتین وکلاء کو بھی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔خواتین کیلئے کلینک آف وہیل اورفیلڈ ہسپتال کے ذریعے بھر پورسہولتیں مہیا کی جارہی ہیں۔ہر ماں اورہر بچے کو صحت کی بہترین سہولتیں فراہم کرنا ہمارا عزم ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ صحت محض ہیلتھ نہیں بلکہ ایک بہت بڑی ضرورت ہے۔خواتین کو آئی ٹی سکلز کی فراہمی یقینی بنارہے ہیں۔گرین ٹیکسی پروگرام کے ذریعے نہ صرف خواتین روزگار کماتی ہے بلکہ محفوظ سفر کے مواقع بھی میسر ہیں۔اب کوئی خاتون گرین ٹیکسی پروگرام کے ذریعے روزگار بھی کماسکتی ہیں اورتعلیم بھی جا ری رکھ سکتی ہیں۔خواتین کو بااختیار بنانے کا مقصد زندگی پر بھر پور اختیار دینا ہے۔خواتین کی سیفٹی اورسکیورٹی یقینی بنانے کیلئے پنجاب کے ہر شہر میں سیف سٹی کیمرے فنکشنل ہے۔سیف سٹی اتھارٹی کے ذریعے 30لاکھ سے زائد خواتین مستفید ہوچکی ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ کسی وجہ سے پولیس سٹیشن پہنچ نہ پانے والی خاتون کیلئے 36موبائل پولیس سٹیشن اس کے گھر پہنچ رہا ہے۔پنجا ب بھر میں 900سے زائد موبائل چارجنگ سٹیشن اورسیفٹی بٹن فنکشنل ہوچکے ہیں۔محض پینک بٹن دبانے سے خاتون کا تحفظ یقینی بنانا ممکن ہے۔اسلام میں خواتین کو عزت،وقار اورتحفظ دیا ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے کے مشن میں روایات اوراحکامات کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ہرمسلم ملک میں ہر بیٹی، ہربہن اورہر ماں کیلئے تحفظ،احترام اورمواقع ہمارا عزم ہونا چا ہیے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے شرکاء کو لاہورکا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔پھول شاعری اورخوبصورت گلیوں کے شہر لاہور میں آپ کو خوش آمدید کہیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ترقی کے مترادف ہے۔خواتین کے لئے محفوظ اورمساوی مواقع ہماری ترجیح ہے۔خواتین کیلئے اپنا روزگار میرا خواب ہے۔پاکستان میں خواتین کیلئے مالی شمولیت اورکاروباری مواقع کی فراہمی یقینی بنارہے ہیں۔اسلامی دنیا میں خواتین کی کہانی مجبوری نہیں بلکہ طاقت،شجاعت اورغیر معمولی قوت کی کہانی رہی ہے۔خودمختاری تحفے میں دی جا نے والی چیز نہیں بلکہ حالات سے پیدا کی جا تی ہے۔حالات کسی بھی عورت کو قیادت سونپنے سے پہلے امتحان لیتی ہے۔حالات ذمہ داری سے پہلے لچک اوراستقامت کا تقاضا کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ایسے لمحات آئے جب حالات نے میری استقامت کا اس طرح امتحان لیا جس کا میں تصورنہیں کرسکتی تھی۔آزمائش کے دور میں والد کے ساتھ کھڑے ہوکر سیکھا کہ نظریہ قربانی کا تقاضا کرتا ہے اوراستقامت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔میرے والد کی جدوجہد امیدوں،امنگوں اورآرزوں کی نمائندگی کرنے والے کروڑوں پاکستانیوں کیلئے تھیں۔اپنے والد محمد نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہوکر میں نے خود کو کروڑوں لوگوں کی آواز بنتے ہوئے پایا۔سچ کہتے ہے کہ سب سے مضبوط فولاد گرم ترین آگ میں ہی ڈھل کر تیار ہوتا ہے۔مشکل حالات نے مجھے برداشت کا درس دیا اورسچ کیلئے کھڑا ہونا سکھایا۔

مشکلات آپ کی حدود کا تعین کرسکتی ہیں اورساتھ ساتھ پوشیدہ طاقت کو بھی سامنے لاسکتی ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی قریبی ساتھی محترمہ فاطمہ جناح اوروالدہ کلثوم نواز سے میں بہت کچھ سیکھا۔جرات کامطلب مشکل کے سامنے مضبوطی سے کھڑے ہونے کا عزم ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹونے پاکستان اورمسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بن کر دوسری خواتین کیلئے راستے کھولے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی جدوجہد ہمیں آنے والی نسل کے لئے راستہ آسان بنانے کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔خواتین کو ترقی سے فائدہ ہی نہیں اٹھانا چاہیے بلکہ برابر کا حصہ دار ہونا چاہیے۔ہم نے ہر پروگرام میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ،برابری اورشراکت دار ی یقینی بنائی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ہائی کورٹ کی سربراہی خاتون چیف جسٹس کی انفرادی کامیابی نہیں بلکہ کروڑوں بیٹیوں کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کرائے کے گھروں میں رہنے والی خواتین کیلئے بھی شروع کیا گیا۔ڈیکوریٹر کا کام کرنے والی بیوہ خاتون اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنے مکان میں منتقل ہوچکی ہے۔تقریباً10لاکھ افراد اپنی چھت اپنا گھر پروگرام سے مستفید ہوکر باوقار مستقبل کی طرف قدم بڑھا چکے ہیں۔اپنی زمین اپنا روزگار پروگرام نے خواتین کو معاشرے میں مقام دلانے میں اہم کردارادا کیا۔ہونہار سکالرشپ بیٹیوں کے لئے محض مالی امداد نہیں بلکہ خواب دیکھنے کا ذریعہ ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ لیپ ٹاپ کسی نوجوان طالبہ کیلئے ایک گیجٹ نہیں بلکہ کلاس روم،لائبریری اورڈیجیٹل اکانومی کا پاسپورٹ ہے۔انٹرن شپ اورآئی ٹی سکلز پروگرام نوجوان بچیوں کا اپنا مستقبل خود بنانے کا حوصلہ دیتی ہے۔بزنس فناسنگ اورای کامرس کے ذریعے درزی کی دکان بہت بڑا کاروبار اورکچن بہت بڑا انٹرپرائز بن جاتا ہے۔دیہی خواتین کے ڈیجیٹل علوم سیکھنے سے ہر گاؤں اب عالمی معیشت کا گیٹ وے بن رہا ہے۔خواتین دستکار اپنی مصنوعات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا بھر کے کسٹمر کے ساتھ منسلک کررہی ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ ہمت کارڈ کے ذریعے فراہم کی جانے والی مالی امداد ہزاروں خواتین کو احترام کے ساتھ جینے کی طاقت دیتی ہے۔پنجاب میں ہزار سے زائد فیلڈ ہسپتال،ڈاکٹر،تشخیصی سہولیات اورادویات براہ راست ان کی دہلیز تک پہنچا رہے ہیں۔پنجاب بھر میں 60 ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکر اورسپر وائز ر گھر گھر جاکر خواتین کی دیکھ بھال کررہی ہیں۔پنک الیکٹرک ٹیکسی خواتین کیلئے محفوظ سفر اورباعزت روزگارہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ انسٹاگرام پر صبح یونیورسٹی جانے اوردوپہر کو پنک ٹیکسی چلانے والی خاتون کی سٹوری سن کر خوشی ہوئی۔خواتین کا تحفظ اورسکیورٹی میری ریڈ لائن ہے۔سیف سٹی اتھارٹی کے ذریعے 30لاکھ خواتین ڈیجیٹل معاونت حاصل کرچکی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ محض ورچوئل پولیس سٹیشن کے ذریعے 10لاکھ سے زائد خواتین مستفید ہوچکی ہے۔بااختیار خواتین صرف تعلیم یافتہ یا معاشی طورپر آزاد ہی نہیں بلکہ محفوظ ہی ہوتی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ تاریخ،ثقافت،روایات اورشاعری اورمہمان نوازی کا شہر لاہورچلتاپھرتا میوزیم ہے۔مسلم دنیا کی ہر لڑکی کو تعلیم،مواقع،وقار اوربغیر خوف کے خواب دیکھنے کی آزادی یقینی ہونی چاہیے۔اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے مل جل کر کام کرنے سے خواتین کے لئے امور کو یقینی بنایا جاسکے گا۔

جواب دیں

Back to top button