وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کچھی نے قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ اور نیشنل لائبریری آف پاکستان کے کراچی ریجنل آفس سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ملاقات میں قومی ورثہ کے اداروں کے تحفظ اور دیرینہ انتظامی مسائل کے حل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں مزارِ قائد اور اس کے اطراف کے علاقوں کی انتظامیہ، دیکھ بھال اور سکیورٹی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا، جن میں تجاوزات، کچرے اور تعمیراتی ملبے کی غیر قانونی ڈمپنگ، منشیات کے عادی افراد اور شرپسند عناصر کی موجودگی سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات، اور قومی یادگار تک عوامی رسائی بہتر بنانے کی تجاویز شامل تھیں۔ اجلاس میں لیاقت میموریل لائبریری کمپلیکس میں قائم نیشنل لائبریری آف پاکستان کے ریجنل آفس سے متعلق تنازعات، جن میں پانی کی فراہمی، عمارت کے استعمال اور مستقبل میں توسیع کے منصوبے شامل ہیں، پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری ثقافت خیر محمد کلوڑ اور دیگر صوبائی حکام شریک ہوئے۔ وفاقی وزیر کے ہمراہ ڈائریکٹر جنرل نیشنل لائبریری آف پاکستان، ریزیڈنٹ انجینئر اور سیکریٹری قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ علیم خان، اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعلیٰ کو قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کی آئینی حیثیت اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا، جو مزارِ قائد اور اس سے ملحق 131.718 ایکڑ رقبے پر مشتمل احاطے کے تحفظ، دیکھ بھال، مرمت اور ترقی کا ذمہ دار ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی حسن نقوی کو ہدایت کی کہ لائنز ایریا اور خداداد کالونی سے ملحق مزارِ قائد کے اطراف سے تجاوزات فوری ختم کی جائیں، یادگار کے گرد سڑکوں پر کچرا اور ملبہ پھینکنے کی روک تھام کی جائے، سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنائے جائیں اور مزار کی دیکھ بھال و مرمت کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے۔اجلاس کو لیاقت میموریل لائبریری کمپلیکس میں قائم نیشنل لائبریری آف پاکستان کے کراچی ریجنل آفس سے متعلق انتظامی اور آپریشنل مسائل پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ نیشنل لائبریری نے اپنے ریجنل آفس کی پانی کی فراہمی منقطع ہونے کی شکایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو لائبریری کی پانی کی فراہمی کا مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ تاریخی ریکارڈ کے مطابق لیاقت میموریل لائبریری 1986 میں حکومت سندھ کے حوالے کی گئی تھی اور اسے سندھ کی صوبائی لائبریری قرار دیا گیا تھا، جبکہ تہہ خانے میں قائم نیشنل لائبریری کے ریجنل آفس کا انتظامی کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس برقرار رہا۔اجلاس میں نیشنل لائبریری کی جانب سے ریجنل کاپی رائٹ ڈپازٹری کے قیام اور کراچی آفس کی توسیع کے لیے اضافی جگہ فراہم کرنے سے متعلق مطالبات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی حکام کا مؤقف تھا کہ لائبریری کی خدمات میں توسیع اور جدید علاقائی علمی مرکز کے قیام کے لیے مزید جگہ درکار ہے، جبکہ صوبائی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ لیاقت میموریل لائبریری میں روزانہ ہزاروں طلبہ، محققین اور دیگر شہری آتے ہیں، جس کے باعث مطالعہ کی سہولیات کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری ثقافت کو ہدایت کی کہ معاملہ حل کرکے انہیں رپورٹ پیش کی جائے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مزارِ قائد اور ملک کی عوامی لائبریریاں قومی اثاثے ہیں، جن کا تحفظ اور فروغ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون سے یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مزارِ قائد ہماری قومی شناخت اور ورثے کی علامت ہے۔ حکومت سندھ اس کے تحفظ، دیکھ بھال، خوبصورتی اور سکیورٹی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ نیشنل لائبریری اور لیاقت میموریل لائبریری سے متعلق تمام مسائل کو باہمی مشاورت، قانونی دستاویزات اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمارا مقصد تصادم نہیں بلکہ ایسا عملی اور باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنا ہے جو طلبہ، محققین، زائرین اور وسیع تر عوامی مفاد کے لیے سودمند ہو۔ ہم کراچی میں تعلیمی اور ثقافتی اداروں کے استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کچھی نے کہا کہ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن پاکستان کے ثقافتی اداروں کے تحفظ اور علمی وسائل تک رسائی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل لائبریری آف پاکستان اپنی خدمات میں توسیع کے لیے اہم اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ ہم حکومت سندھ کے تعاون کے خواہاں ہیں تاکہ ان اقدامات سے محققین، طلبہ اور سندھ کے عوام مستفید ہو سکیں۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ مزارِ قائد پاکستان کی اہم ترین قومی یادگاروں میں سے ایک ہے، جس کے اطراف تجاوزات، ماحولیاتی مسائل اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ مزارِ قائد کے تقدس، وقار اور تاریخی اہمیت کا تحفظ کریں، جبکہ قومی ثقافتی اداروں کو آئندہ نسلوں کے لیے مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔اجلاس اس اتفاق رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ وفاقی اور صوبائی حکام قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ اور نیشنل لائبریری آف پاکستان سے متعلق تمام امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے اور قانونی و انتظامی تقاضوں کے مطابق باہمی مشاورت سے قابلِ عمل حل تیار کریں گے۔






