*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی کے ساتھ اجلاس*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں سندھ میں وفاقی عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام کے اہم منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور 140 ارب 91 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے اہم شاہراہی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں وفاق اور صوبے کے اشتراک سے جاری پانچ اہم شاہراہی منصوبوں پر بات کی گئی، جن میں سندھ کوسٹل ہائی وے، مہران ہائی وے، روہڑی۔گڈو روڈ، ٹنڈو الہٰیار۔ٹنڈو آدم ڈوئل کیرج وے اور سانگھڑ۔روہڑی روڈ منصوبہ شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے مجموعی طور پر علاقائی رابطوں میں نمایاں بہتری، تجارت اور نقل و حمل میں سہولت اور صوبے بھر میں معاشی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔وفد کی قیادت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی نے کی۔ کمیٹی کے ارکان ناز بلوچ، فرحان چشتی، سید سمیع الحسن گیلانی، اختر بی بی، ذوالفقار بچانی اور شبیر بجارانی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز حاجی علی حسن زرداری، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری ورکس نواز سوہو اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ وفاقی عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام کے پانچوں منصوبوں کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 140 ارب 91 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے، جس میں وفاقی حکومت کا حصہ 96 ارب 75 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ سندھ حکومت کا حصہ 44 ارب 15 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے۔ تمام منصوبے جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔*سندھ کوسٹل ہائی وے:* اجلاس میں 36 کلومیٹر طویل سندھ کوسٹل ہائی وے ایکسٹینشن منصوبے کا جائزہ لیا گیا، جس کی لاگت 37 ارب 70 کروڑ روپے ہے۔ وزیراعلیٰ نے وفد کو بتایا کہ جون 2026 میں ورک آرڈر جاری کیا جا چکا ہے اور ٹھیکیدار نے سائٹ پر مشینری اور دیگر وسائل منتقل کر دیے ہیں۔*روہڑی۔گڈو بیراج روڈ:* خان پور مہر، میرپور ماتھیلو اور مرید شاخ کے راستے 150 کلومیٹر طویل روہڑی گڈو بیراج روڈ، جس کی نظرثانی شدہ لاگت 17 ارب 79 کروڑ روپے ہے، زیر تعمیر ہے اور 44 کلومیٹر پر اسفالٹ بیس کا کام مکمل ہو چکا ہے۔*ٹنڈو الہٰیار۔ٹنڈو آدم روڈ:* کمیٹی کو 31 اعشاریہ 4 کلومیٹر طویل ٹنڈو الہٰیار۔ٹنڈو آدم روڈ ڈوئلائزیشن منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی، جس کی تخمینہ لاگت 9 ارب 28 کروڑ روپے ہے۔ منصوبے پر کام جاری ہے، تاہم یوٹیلیٹی منتقلی، ٹرانسمیشن لائنوں کی منتقلی اور پاکستان ریلوے سے زیر التوا منظوریوں کو اہم چیلنج قرار دیا گیا۔*مہران ہائی وے:* اسی طرح نواب شاہ سے رانی پور تک 135 کلومیٹر طویل مہران ہائی وے ڈوئلائزیشن منصوبے پر کام جاری ہے، جس کی لاگت 41 ارب 3 کروڑ روپے ہے اور اسے صوبے کے اہم ترین ٹرانسپورٹ راہداری منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔سانگھڑ۔روہڑی روڈ:* اجلاس میں 221 کلومیٹر طویل سانگھڑ۔روہڑی روڈ منصوبے پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس کی لاگت 35 ارب 8 کروڑ روپے ہے۔ حکام نے بتایا کہ اہم حصوں پر سڑک کی چوڑائی بڑھانے اور بیس ورک کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ جلد اسفالٹ بچھانے کا کام شروع کیا جائے گا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ جدید شاہراہی بنیادی ڈھانچہ معاشی ترقی، علاقائی انضمام اور عوامی نقل و حرکت میں بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ منصوبے صرف سڑکیں نہیں بلکہ معاشی راہداریاں ہیں، جو مختلف علاقوں کو آپس میں جوڑیں گی، تجارت کو فروغ دیں گی اور سندھ بھر میں ترقی کے نئے مواقع پیدا کریں گی۔”انہوں نے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان قریبی رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، ”یوٹیلیٹی منتقلی، منظوریوں اور فنڈنگ سمیت تمام رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے تاکہ سندھ کے عوام ان اہم منصوبوں سے بلا تاخیر مستفید ہو سکیں۔”وزیراعلیٰ نے وفاقی عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام کے منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈز کی مسلسل فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور متعلقہ محکموں کو منصوبوں پر عملدرآمد کی سخت نگرانی برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید عبدالقادر گیلانی نے سندھ حکومت کی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اقدامات کو سراہا اور منصوبوں سے متعلق مسائل کے وفاقی سطح پر حل کے لیے کمیٹی کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا، ”قائمہ کمیٹی تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کو مؤثر بنانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ قومی اہمیت کے حامل یہ منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جا سکیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ ‘بہتر رابطہ کاری معاشی توسیع، سرمایہ کاری اور عوامی فلاح کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہ منصوبے ان اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی اور صوبائی نمائندوں نے باہمی رابطہ مزید مضبوط بنانے، فنڈز کے بروقت استعمال کو یقینی بنانے اور انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ سندھ میں جاری وفاقی عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام کے تمام منصوبے بروقت مکمل کیے جا سکیں۔

جواب دیں

Back to top button